ایس معشوق کی کتاب’’میں نے دیکھا‘‘کا مختصر جائزہ

تبصرہ

تاریخ    15 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر شبنم افشا
نام کتاب:    میں نے دیکھا،مصنف :    ایس معشوق احمد 
نوعیت :    انشائیے / خاکے،صفحات :     110،مبصرہ  :    ڈاکٹر شبنم افشا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وادی کشمیر میں باصلاحیت نوجوانوں کی کمی نہیں جنہوں نے اپنی  ذہانت اور تخلیقی صلاحتیوں کو بروئے کار لاکر ادبی دنیا میں الگ پہچان بنائی۔ایسا ہی ایک باصلاحیت نوجوان ایس معشوق احمد ہے۔ ایس معشوق احمد دبستان کشمیر کے گلشن کا ایسا پھول ہے جو اپنی تحریروں سے ہر سمت خوشبو بکھیر رہا ہے۔ایس معشوق احمد کا تعلق کشمیر کے ضلع کولگام   کے ایک گاؤں کیلم سے ہے۔کیلم میں ہی  1992ء کو پیدا ہوئے۔ادب سے لگاؤ بچپن ہی سے ہے۔ کالج دور سے انہوں نے شاعری شروع کی اور پہلی نظم ’’ عشق لازوال ‘‘کے عنوان سے لکھی ۔شاعری میں عروض کو ضروری سمجھتے ہیں اور باقاعدہ عروض سیکھنے میں منہمک ہیں۔ نثر اصناف میں ان کی پسندیدہ صنف انشائیہ ہے۔انشائیوں کے علاوہ ان کے مختلف شعراء و ادباء پر مضامین ، افسانے ،افسانچے ،خاکے ، سماجی نوعیت کے کالم اور کتابوں پر تبصرے مختلف اخبارات و رسائل اور مختلف سوشل سائٹس پر شائع ہوتے رہتے ہیں۔اردو زبان و ادب سے والہانہ محبت رکھتے ہیں اور اسی زبان کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ ان کی اب تک ایک تصنیف ’’میں نے دیکھا‘‘ (2021ء) منظر عام پر آچکی ہے جو انشائیوں اور خاکوں پر مشتمل ہے۔کتاب کا سرورق نہایت ہی خوبصورت ہے جس پر آنکھ بنی ہوئی ہے۔ کتاب کو انہماک انٹرنیشنل پبلی کیشنز نے چھاپا ہے۔پہلے ورق پر منیر نیازی کا یہ شعر ملتا ہے ۔؎
خمار مے میں وہ چہرہ کچھ اور لگ رہا تھا
دم سحر جب خمار اترا تو میں نے دیکھا
منیر نیازی کی اسی غزل سے کتاب کا عنوان لیا گیا ہے جس کا پہلا شعر یہ ہے ،؎
چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھا
نظر سے دل کا غبار اترا تو میں نے دیکھا
کتاب کا انتسا ب ’’ ان دعاؤں کے نام کیا گیا ہے جو والدین نے صبح شام دوپہر سہ پہر کیں‘‘ کتاب میں تیرہ انشائیے اور چھ خاکے شامل ہیں۔ عرض مصنف کے بعد حرفے چند ڈاکٹر ریاض توحیدی اور مدلل مقدمہ پروفیسر الطاف حسین نے لکھا ہے۔ پہلے انشائیوں کو شامل کتاب کیا گیا ہے اور پہلا انشائیہ گالی اور آخری افواہ ہے ۔اس کے بعد چھ خاکے شامل کتاب کئے گئے ہیں۔کتاب کا بیک فلپ میں نے ہی لکھا تھا اور اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ ’’ان کی تخلیقات میں طنز و مزاح کی چاشنی ، عام فہم اسلوب اور پیرائے اظہار ملتا ہے ۔جس سے قاری کو دوران مطالعہ کوئی ذہنی رکاوٹ اور الجھن محسوس نہیں ہوتی۔‘‘ایک انشائیہ نگار آزادانہ طور اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔اس میں ہلکے پھلکے انداز میں حکمت کی باتیں کرتا ہے ۔ گالی میں ایس معشوق احمد کا یہی انداز ہے۔گالی کی ابتداء ، طیش  آجائے تو انسان گالی دیتا ہے، گالی سیکھنی نہیں پڑتی، ہر فرد چھوٹا بڑا ،مہذب بدتمیز گالی دیتا ہے ،غالب کا قصہ ، یہ سب گالی میں نہایت ہی دلنشیں اسلوب میں بیان ہوا ہے۔انشائیہ گالی کے ابتدائی جملے دیکھیں _’’جن چیزوں پر اس دنیا میں رکاوٹیں، بندشیں اور قدغنیں لگائی جاتی ہیں، لوگ ان کی طرف زیادہ ہی کھینچے چلے جاتے ہیں۔گالی دینا معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن دی بڑے شوق سے جاتی ہے۔نون مرچ کے بغیر کھانا اور گالی کے بغیر گفتگو مزہ نہیں دیتی۔گالی وہ فن ہے جو عمل ،اشارے ،زبان اور تحریری صورت میں بیک وقت دی جا سکتی ہے،بشرطیکہ جس کو دی جائے وہ اندھا ، گونگا ،بہرہ اور اَن پڑھ نہ ہو۔‘‘ایس معشوق احمد نے اپنے گرد پیش میں رونما ہونے والے واقعات کا اثر قبول کرکے اور ان واقعات کا گہرائی سے مشاہدہ کرکے ان پر اپنے تخلیقات کی بنیاد رکھی ہے۔انہوں نے عصر حاضر کے نشیب و فراز کا کامیابی سے منظر نامہ پیش کیا ہے۔قنوطیت اور یاسیت سے دامن بچا کر ہنسی مذاق میں عصر حاضر کے حالات کا نقشہ کھینچتے ہیں۔سماج میں موجود خامیوں کو مزاح کی چاشنی کے ساتھ حوالہ قرطاس کرتے ہیں۔اپنے زمانے کے سماجی ، سیاسی ، تہذیبی مسائل کو موضوع  بنا کر نئے نئے گل بوٹے کھلاتے ہیں۔ان کے انشائیہ  ’’ کشمیر میں سب کچھ ہے پیارے ‘‘ میں سیاست دانوں کی آٹھ قسمیں گنواتے ہیں ۔۱۔ سیاست دان جو صرف سیاست ہی کرتے ہیں،اس کے علاوہ ان کو کچھ کرنا بھی نہیں آتا۔۲۔سیاست دان جو صرف اپنا اور اپنی پارٹی کی بھلائی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ان کی سوچ فائدے اور منافع سے آگے نہیں جاتی۔۳۔ سیاست دان جو سیاست میں آ تو گئے ہیں لیکن جیت کے گھوڑے پر کبھی نہیں چڑھے۔یہ اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کب ان کے نصیب جاگیں گے۔۴۔ سیاست دان جو عوام کے لیے بھی سوچتے ہیں۔ان کی سوچ، سوچنے سے آگے نہیں بڑھتی۔۵۔سیاست دان جو عوام کی خدمت کرنا  چاہتے ہیں لیکن کر نہیں پاتے۔یہ یا تو گھر میں نظر بند رہتے ہیں یا ان کا ٹھکانہ جیل ہے۔۶۔ سیاست دان جو صرف وعدے کرنے کے گر سے واقف ہیں۔وعدے وفا کرنا انہوں نے سیکھا ہی نہیں۔یہ تقریر کرنے کے ماہر ہیں کام سے یہ نا واقف ہی رہتے ہیں۔۷۔ سیاست دان جو صرف اور صرف کرسیوں کے لیے جیتے مرتے ہیں عوام کے لیے نہیں۔یہ نہ عوام کا  بھلا چاہتے ہیں نہ برا۔۸۔ سیاست دان جو پارٹیاں ہی بدلتے رہتے ہیں۔جو نئی پارٹی بنی اس میں شامل ہوئیں۔ان کا ایک ہی وطیرہ ہے جہاں آگ دیکھی وہاں اپنی ہانڈی رکھ دی۔’’کشمیر میں سب کچھ ہے پیارے ‘‘میں یہاں کی خوبصورتی ، غیر مقامیوں کی موجودگی ، سیاست دانوں کی بہتات ، بے روزگار کی مختلف اقسام ، ادیبوں کی انجمنیں ،اسکولوں کا حال ، ڈاکٹروں کی کارباری ذہانت ، رشوت کا زور اور ابتر حالات کو بہترین اور مفصل انداز میں بیان کیا ہے۔ان کی تحریروں میں نفاست اور شائستگی ہے۔نہ غیر مانوس الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی پیچیدہ اور گنجلک الفاظ ۔ان کے جملے سادہ اور شگفتہ ہوتے ہیں۔اپنی تحریر کے ذریعے نہ صرف اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں بلکہ مختلف پہلوؤں پر روشنی بھی ڈالتے ہیں۔کتاب میں شامل خاکے بھی دلچسپ ہیں۔صاحب خاکہ کے تمام پہلوؤں کو قاری کے سامنے نہایت دلچسپ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ان کے خاکے کسی بڑے ادیب ، شاعر کے متعلق نہیں بلکہ گاؤں کے رحمان کاک ،ساتھ پڑھنے والی شازیہ ، عصمت ، ارجمند اور ساتھ کام کرنے والے امتیاز اور شرافت جیسے عام انسانوں کے متعلق ہیں۔اپنے گمنام اور غیر معروف دوستوں کے خاکے لکھ کر ادب شناس قارئین کو یہ بات کھٹکتی ہوگی لیکن ان کا دلچسپ اسلوب، مزاح کی آمیزش اور فنی لوازم کا خیال انہیں بوجھل نہیں بناتا بلکہ جاذب توجہ بناتا ہے۔ان خاکوں کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ فن خاکہ نگاری پر پورے اترتے ہیں۔جس کا بھی خاکہ قلمبند کیا اس کی جسمانی ساخت ، لباس ، وضع قطع،اخلاق ، عادات ،اطوار اور طرز معاشرت خوبیوں کے ساتھ بیان کئے ہیںاپنے مزاحیہ اسلوب اور طرز ادا سے  خاکے کو دل آویز بناتے ہیں۔اپنے لمبے دوست امتیاز کا خاکہ ’’لمبا صاحب ‘‘کے عنوان سے لکھا ۔ابتداء میں لکھتے ہیں کہ "میں نے قطلب مینار تو نہیں دیکھا ہاں البتہ قطلب مینار سے گہرے دوستانہ مراسم رہے ہیں۔جب میں اپنے دوست کےدائیں یا  بائیں کھڑا رہتا تو شرمندگی ہوتی اور اپنے وجود پہ ملامت کرنے کو جی چاہتا ۔ان سے گفتگو کرتے وقت مجھے آسمان کی طرف دیکھنا پڑتا، سینہ تان کر اور سر اٹھا کر اور انہیں نادم ہو کر گردن جھکا کر مجھے سے بات کرنی پڑتی۔"مجموعی طورپر دیکھا جائے تو کتاب نہایت دلچسپ ہے۔کتاب میں چوری ، شاعری اور بیوی ، شہرت سے دور ،ڈرنا ، کچھ ناموں کے بارے میں ، کام ، مرزاغالب کے خلاف مقدمہ ، کچھ محاورات کے بارے میں اور افواہ جیسے انشائیے شامل ہیں جن میں جذبات اور مقامیت کا عنصر ، سماج میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان ، زندگی سے جڑے مسائل کی عکاسی ، زبان کا شائستہ اور نفیس استعمال دیکھنے کو ملتا ہے۔کتاب میں رحمان کاک ، ہلکی پھلکی شازیہ ، شر اور آفت ، ہنستی مسکراتی شہزادی کے خاکے بھی دلچسپ ہیں۔بقول ڈاکٹر ریاض توحیدی’’ ایس معشوق احمد ایک ذہین قلمکار ہیں۔ ان کے کئی انشائیوں اور خاکوں کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ ان میں انشائیہ اور خاکے لکھنے کا فطری مادہ موجود ہے۔ کیونکہ انشائیہ یا خاکہ لکھنے کے لئے جس قسم کی علمی وادبی صلاحیت اور مشاہداتی وسعت کی ضرورت ہونی چاہیے وہ ان کے انشائیوں اور خاکوں میں تسلی بخش حد تک نظر آتی ہے۔‘‘ اس کتاب کی اشاعت پر میں محترم ایس معشوق احمد کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ اردو کے ادبی حلقوں میں اس کتاب کی پذیرائی ہوگی اور ایس معشوق احمد اپنے نام کی مناسبت سے سب کے محبوب رہیں گے۔

تازہ ترین