بہاریں لوٹ آئیں گی حالات سنور جائیں گے

حال و احوال

تاریخ    15 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


محمد فرقان
اس وقت عالم اسلام تاریخ کے نازک ترین اور خطرناک دور سے گذر رہا ہے۔ مشرق سے مغرب تک کی ساری اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کے پیچھے پڑگئی ہیں۔ انہیں ہر جگہ نشانہ بنایاجا رہا ہے، انکے شیرازے کوبکھیرنے، ان کے اجسام کو ٹکڑے کرنےاور انکا نام و نشان مٹانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ بالخصوص وطن عزیز ہندوستان میں بھی بعض منافر عناصر کے ہاتھوں مظالم کا شکار ہورہے ہیں۔ ان کو کو سر راہ پکڑ کر ’جے شری رام‘ کہنے پر مجبور کیا جاتا ہے، انکی مآب لنچنگ کی جاتی ہے، ’لو جہاد‘ کے نام پر قید کیا جاتا ہے، ’گئو رکشا‘کے نام پر ناحق پیٹ پیٹ کے قتل کیا جاتا ہے۔مسلم پرسنل لاء‘ اور ’شریعت ‘میں مداخلت کی کوشش کی جاتی ہے،مساجدکو گرانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس صورت حال سے مسلمان اور دوسری اقلیتیں ڈری اور سہمی ہوئی ہیں۔ فرقہ پرست عناصر کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ وہ اب مذہبی منافرت کےننگے ناچ کا بر سر عام اعلان کرتے ہیں۔ دھرم سنسد کے نام پر نفرت کی آگ بھڑکاکر مسلمانوں کے قتل عام باتیں کی جاتی ہیں،گویا ناعاقبت اندیشی کی انتہا میںملک کی فضا بُری طرح آلودہ کی جارہی ہے۔خیر !تاریخ کے اوراق اگر پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اسلام کی چودہ سو سال کی تاریخ میں اسلام اور کفر کا ٹکراؤ ہوتا رہا ہے۔ عرب میں اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی اس کے خلاف جھگڑوں اور سازشوں کا دور بھی چلتا رہا ہے، یعنی اسلام دشمنی ازل سے چلی آرہی ہے، ماضی کی طرح حال میں بھی منافر اسلام کو مٹانے کے درپے ہیں ۔ وہ آئے دن ناپاک حربوں کے ذریعے نئی نئی حرکتیں کر رہے ہیںاور ہر ہتھکنڈے آزماتے چلے جارہےہیں لیکن اُن کو شاید یہ اندازہ ہی نہیں کہ اسلام مٹنے کے لیے نہیں بلکہ قائم و دائم رہنے کے لیے آیا ہے۔ یہ بات روز و روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام مخالفوں کی لاکھ کوششوں کے باوجود اسلام کا آفاقی پیغام دنیا کو متاثر کرتاچلا رہا ہے اور اسلام دنیا میں پھیل رہا ہے۔ اسلام کی یہ خاصیت ہے کہ جتنا اسے مٹانے اور دبانے کی کوشش جائے، وہ اُتنا ہی اُبھرتا اور پھیلتا جاتا ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ بھارت میں کچھ مسلم مخالف قوتوں کے پاس اقتدار،دولت ،طاقت کے ساتھ ساتھ دنیابھر کی اسلام م دشمن طاقتوںکی حمایت بھی ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ بھارت کی سرزمین پر مسلمانوںکے ساتھ ناانصافی اور جانبدارانہ طرز ِ عمل جاری ہے۔ فرقہ پرست عناصرکی مسلم دشمن کاروایوں کے خلاف کوئی مناسب کارروائی نہیں جارہی ہے۔ جس سے یہ اندیشہ اُبھرتا جارہا ہےکہ فرقہ پرست عناصر ملک میں وہی کہانی دہرانے کے لئے بالکل آزاد ہیں جو اندلس، سسلی، بوسنیا، سنٹرل افریقہ، فلسطین اور میانمار میںدوہرائی جاچکی ہے۔ لیکن دیکھا یہ بھی جاتا ہےکہ بغیر مذہب و ملت اور ذات پات کے ملک میں موجود ذی حِس وبا ضمیر قوم اپنے وطنِ عزیز کی یکجہتی ،سالمیت اور استحکام کے لئے پُر خلوص اور متحرک ہے۔ 
 سبھی جانتے ہیںکہ اُمت مسلمہ پر ایسےسخت اور شدید حالات پہلی مرتبہ نہیں آئے بلکہ ماضی میں کئی مرتبہ ایسے حالات پیش آچکے ہیں اور مسلمانوں نے حکمت و بصیرت کے ذریعہ ان کا مقابلہ بھی کیا ہے۔ ایمان کا تحفظ ماضٰ میں بھی ضروری تھا اور آج بھی ضروری ہے۔ اس کے لئے ہمیں اُن ہی خطوط پر گامزن رہنا چاہئے جو ہمارے اسلاف نے متعین کئے ہیں۔ فرقہ پرستوں کا ہندوستان میںمسلمانوں کو مٹانے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا کیونکہ ہندوستان سے مسلمانوں کا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے، جتنا کہ انسانیت کا تعلق کرہ ارض سے ہے اور وطن عزیز ہندوستان کو بنانے، سجانے اور سنوارنے کے ساتھ ساتھ اس ملک کو اقوام عالم میں اعتبار بخشنے میں مسلمانوں کا بڑا کردار رہا ہے۔ فقط جنگ آزادی کی تاریخ ہی اٹھا کر دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں خاص کر علمائے کرام کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔مسلمانوں نے تحریک آزادی اُس وقت شروع کردی تھی جب دیگر اقوام کے خواب وخیال میں آزادی کا کوئی تصور نہ تھا۔ اگر آزادی ہند میں مسلمان اور خصوصاً علماء کرام حصہ نہ لیتے تو ہندوستان کی آزادی کا خواب شائدشرمندۂ تعبیر نہ ہوتا ۔ علمائے کرام کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں نے بھی اس جنگِ آزادی میں دل و جان سے حصہ لیا اور انتہائی درجہ کی تکلیفیں برداشت کیں ، ہزاروں علمائے کرام کو انگریزوں نے جوشِ انتقام میں پھانسی پر لٹکا دیا اور علمائے کرام نے مسکراتے ہوئے پھانسی کے پھندوں کو قبول کر لیا ،تب جاکر ہندوستان کو آزادی کی نعمت ملی ہے۔ تحریکِ آزادی میں مسلمانوں کی جد وجہد وقربانی کے لازوال داستانیں تاریخ کے اوراق میں درج ہیں۔ لہٰذا انگریز جیسی ظالم و جابر اور طاقتور حکومت سے نہ ڈرتے ہوئے مسلمانان ہند جب مردانہ وار مقابلہ کیا اور انہیں شکست فاش دیکر ہندوستان کو انکے چنگل سے آزاد کروا دیا توپھر کیا اِن فرقہ پرست ٹولوںکے شَرسےملک کو نہیںبچاسکتی ہیں۔دین ِ اسلام یکجہتی،بھائی چارہ،مساوات ،انسانیت ، حُب الوطنی،ہمدردی،اخلاص کا درس دیتا ہے اور مسلمانان انہیں تعلیمات کے تحت اپنی تمام تر قوت و شوکت اور آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔ حال ہی میںملک میں دھرم سنسند کے نام پر ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے مسلمانوں کا قتل عام اور اسلام کو مٹانے کی جو بات کی گئی ہے، اس سے پورے ملک میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ لیکن کیا وجہ ہےکہ یہ لوگ اسلام سے خوفزدہ ہیں؟ اگر عالمی سطح پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں بھی پوری دنیا میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جو پھیل رہا ہے۔ اسلام مخالف قوتوں کی تمام تر سازشوں اور جانبدار میڈیا کے شیطانی پروپیگنڈے کے باوجود ہندوستان سمیت دنیا بھر کے تمام ممالک میں غیر مسلم اسلام قبول کررہے ہیں۔جبکہ اس وقت دنیامیں مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب ہے۔ روئے زمین کی مجموعی آبادی کا چوتھا حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہ دنیا کے ایک بڑے رقبے پر آباد ہیں۔ 54؍ملین مربع میل کا ایک چوتھائی حصہ ان کے قبضے میں ہے اور جنوبی خط استوا سے پھیلتے ہوئے وسط ایشیاء میں 55؍ خط الارض سے بھی زائد حصے اس کی قدرت و تصرف میں ہیںاور ہر میدان میں دنیا کے مختلف ممالک میں اپنا وجود تسلیم کرا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جہل کے اندھیروں میں رہنے والوں کو علم کی روشنی کبھی برداشت نہیں ہوسکتی۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ وہ افراد جو تاریکی کو غنیمت شمار کر کے اپنی ریاست کا سکہ جمائے ہوئے تھے۔ اسلام کے نورانی وجود کے سامنے ان تمام رئیسوں کی ریاست دھری کی دھری رہ گئی۔ چونکہ خدا نے اپنے اس نورانی وجود کی حفاظت کی ذمہ داری لی تھی، اس لئے وہ تمام طاقتیں جو اسلام کے خلاف اٹھیں ،نیست و نابود ہوگئیں اور اسلام کا سر بلند و بالا ہو کر کائنات کو یہ سمجھا گیا کہ جسکا محافظ خدا ہو، آسمان و زمین کی تمام طاقتیں مل کر بھی اسکا بال بیکا نہیں کر سکتی ہیں۔ 
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج مسلمان ناقص العمل ہیں لیکن ناقص الایمان قطعاً نہیں ہیں اور جب تک ایمان زندہ ہے اس وقت تک یہ امکان ہر وقت موجود ہے کہ مسلمان آج نہیں تو کل اپنے اعمال کے نقائص سے بھی دور کرلیں گے۔ مسلمانوں کے اعمال اور اخلاق دونوں ہی کمزور ہیں مگر ان کے جذبے اور ایمان کا یہ عالم ہے کہ وہ اسلام یا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کی معمولی سی توہین بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ انقلاب محمدیؐ کے نتیجے میں پہلی مرتبہ انسانی افراط و تفریط پر مبنی معاشرے کا خاتمہ ہوا اور انسانی اخوت، مساوات اور حریت کے اصولوں پر مبنی معاشرے کی داغ بیل پڑی۔ انقلاب نبویؐ کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں۔ دنیا میں بعد میں رونما ہونے والے انقلابات کا جائزہ لیا جائے تو وہ انقلاب محمدی ؐ کے مقابلے میں ہیچ نظر آتے ہیں۔ کیونکہ اسلام ایک ہمہ گیر اور آفاقی دین ہے، اس کی تعلیمات انسان کی پوری زندگی کو محیط ہیں اور یہ زندگی کے ہر پہلو، ہر لمحہ اور ہر موضوع کی اس خوب صورتی سے وضاحت کرتا ہے کہ زندگی کا کوئی مرحلہ اس کی رہنمائی سے محروم نہیں رہتا۔ اسلام کے حسن کے دنیا پر آشکارا ہوجانے کے ڈر سے کفر کی تمام طاقتیں مسلمانوں پر حملہ آور ہیں اور عالم اسلام کے خلاف فوجی، سیاسی، اقتصادی اورثقافتی جنگ جاری ہے۔ یقیناً ظاہری اعتبار سے ہندوستان میں مسلمانوں اور اسلام کا مستقبل بہت تاریک نظر آتی ہے مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب رات کی تاریکی بڑھ جائے تو سمجھ لیں کہ صبح ِ روشن قریب ہے۔ لہٰذا ہمیں ڈرنے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اِن شاء اللہ عنقریب مسلم مخالف شرارے ٹھنڈے پڑیں گے،امن کی مشعل روشن ہوگی،نیا سورج طلوع ہوگا،بہاریںپھر لوٹ آئیں گی ،فضا معطر ہوجائے گی اور ہر طرف اطمینان و استحکام قائم ہوگا۔
 +918495087865, mdfurqan7865@gmail.com
 

تازہ ترین