تلخ سانحات سے سبق سیکھنا لازمی

حالت ِ زار دیکھ کر سنبھل جانا چاہئے !

تاریخ    15 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


معراج مسکینؔ
یہ حقیقت ہے کہ موت کے بغیر ہر بیماری کا علاج ہے مگر جہالت اور بےوقوفی کا کوئی علاج نہیںجبکہ ربط و ضبط اعلیٰ ترین معالج ہے۔ بے خوف اور نڈر انسان بسا اوقات مشکلات اور خطرات سے بچ جاتا ہے لیکن مشکلات و خطرات سےبچاو کے تدابیر پرعمل نہ کرنا ہلاکت کا موجب ہو تا ہے۔ جو کوئی بیمار’پرہیز‘کی چیزوں کے ضرَرسے واقف ہواور پھر اِنہی کو کھاتا ہوتو انجام کار موت کا ہی نوالہ بن جاتا ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ زندگی بغیر عقل کے حیوانیت ہے اور مشکل اوقات میں عقل سے زیادہ کوئی دستگیر نہیں۔
قارئین کرام ! جموں و کشمیر میں کووڈ۔ 19اوراس کی نئی قسم اومیکرون کے واقعات میںجس طرح کا اضافہ دیکھنے میںآ رہا ہے۔اُس سے کورونا وائرس کی نئی لہر کے آغاز کی نشان دہی ہوتی ہے۔ محکمہ صحت بھی متنبہ کررہا ہے کہ اس لہر کے پھیلائو کو روکنے کے لئےویکسی نیشن کرانااور احتیاطی تدابیرپر عمل پیرا رہنا ضروری ہے۔ چنانچہ اومیکرون دنیا کے مختلف ملکوں میں جس قدر تیزی سے پھیلا ہے، اس کے پیش نظر اب تک ویکسین نہ لگوانے والے کو اب غفلت سے کام نہیںلینا چاہئے ۔ گھر سے باہر بازاروں، دفاتر، کارگاہوں ، مساجداور خانقاہوں میں ماسک کی ازسرنو مکمل پابندی کی جانی چاہیے نیز مرض سے بچاؤ اور اس کے حملے کی صورت میں سنگین صورت حال سے تحفظ کی خاطر قوت ِ مدافعت بڑھانے کے تمام ضروری تدابیر اپنائی جانی چاہئیںتاکہ معاشی بحالی کے عمل کو جاری رکھا جاسکےاور لاک ڈاؤن کے بغیر ہی حالات قابو میں رہیں۔
ہم سبھی جانتے ہیں کہ انفرادی و اجتماعی زندگی کے اچھے و بُرے اوصاف اور صحیح و غلط معاملات سے انسانیت متاثر ہوتی ہے۔انسانیت اسی بات میں ہے کہ انسان زمین پر صحیح طریقے سے رہنا سیکھ لے،مشکلات و مصائب میں صبروتحمل اورعزم و استقلال کا مظاہرہ کرےاورکسی بھی آزمائش میں ایسے کام نہ کریں، جس سے انسانیت کا دامن داغدار ہوجائے۔کیونکہ وہی قوم یا معاشرہ قدر کا مستحق ہوتا ہے ، جس میں نظم و انضباط ہونے کے ساتھ ساتھ تعاون و امدادِ باہمی، خیر خواہی ، انصاف اور باہمی مساوات ہوتا ہے۔ 
ہرکسی کے ساتھ حسنِ سلوک، رفاقت، یتیموں اور بے کسوں کی خبرگیری، مریضوں کی تیمار داری اور مصیبت زدہ لوگوں کی اعانت ہمیشہ نیکی سمجھی جاتی ہے۔ربّ ِ کائنات کا کرم ہے کہ ہمارےکشمیری معاشرہ کا بیشتر حصہ ان اوصافِ حمیدہ سے مزّین ہے۔لیکن ایک حصہ ایسا بھی ہے جو نظم و انضباط سے کوسوں دور ہےاورمختلف انسانی صفات کو زندگی میںسمونے یا اپنی زندگی کو اِن کی حَد میں لانے کو اپنا مقصدِ زندگی ہی نہیں ٹھہراتے ہیں،جس کے نتیجہ میں ان کی یہ عارضی زندگی نہ صرف مشکلات ،نقصانات اور تکلیفوں میںمبتلا ہوجاتی ہے بلکہ اس سےجہاں اُن کےاہل وعیال،رشتہ داروں ،دوست و احباب اور اقربا کی زندگیاں خطرات میں پڑجاتی ہیںوہیں معاشرے کےدوسرے افرادکی پریشانیوں میں اضافہ کا بھی موجب بن جاتی ہے۔
ذرا غور کیجئے ،پچھلےقریباًدو ڈھائی برسوں کے کرونا وبائی دور میں جب ہم دنیا کے حالات پر معروضی نظر ڈالتے ہیں تو کچھ ایسے بنیادی عناصر سامنے آتے ہیں جو عالمِ انسانیت پر اثر انداز ہورہے ہیں اور یہ بات نمایاں ہوجاتی ہے کہ انسان اور انسانیت کی فلاح و بہبودی کے لئے بیشتر ممالک صلح و آشتی اور مختلف اقوام کی جائز تحریکوں کی بیخ کنی کررہے ہیں اور گنے چُنے ممالک ہی انسان کے بنیادی حقوق کی حمایت کررہے ہیں ۔اقوام ِعالم کی موجودہ گھمبیرصورتِ حالات کو معمول پر لانے یا بہتر بنانے کے لئے کتنے ممالک باہمی جھگڑے پُرامن طریقے پر نمٹانے کی کوشش کررہے ہیں اور حق پر مبنی عوامی تحریکوں کی مدد کررہے ہیں؟عالمی سیاسی حلقوں ،عوامی شخصیتوں اور حکومتوں کے تصورات کی آئینہ داری کابرملا ثبوت اُن کے طرز ِعمل اور اُن کے رویوں سے بخوبی ملتا ہے۔حالانکہ عالمی صحت ادارے کرونا وائرس کے بارے میںتا ایں دَم ان خطرات و خدشات کااظہار کر رہے ہیں کہ ’’ہو سکتا ہے یہ وائرس ہمارے معاشروں کا حصہ بن جائے اور ہو سکتا ہے یہ وائرس کبھی ختم ہی نہ ہو جائے‘‘جبکہ کوئی ماہر یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا کہ کووڈ۔19 کی بیماری کا خاتمہ کب تک ہو گا۔ ویکسین کے ایجاد کے باوجود لوگوں میں اس وائرس کیخلاف قوتِ مدافعت کی درکار سطح تک آنے میں بھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ٹھوس ویکسین کبھی نہ بن سکےاور اگر بن بھی جائے تو وائرس پر مکمل قابو پانے کیلئے بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہو گی۔ان دو ڈھائی برسوںمیںسرکاری اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھرمیںاب تک55لاکھ سے زایدافراد کوورنا سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 31کروڑ50لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ہلاکتوں میں اگرچہ امریکہ پہلے،برازیل دوسرے اور بھارت تیسرے نمبر ہے لیکن متاثرین میںاس وقت بھارت دوسرے درجے پر ہے، اورکورونا کی وبا ء بدستورفرنٹ لائن طبی عملے سے لے کر اپنی نوکریاں کھونے والوں ، اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا غم سہنے والوں یا روزگار سے محروم ہونے والوں سے لے کر گھروں میں قید بچوں ،بزرگوںاور طالب علموں تک، سب کیلئے ذہنی دباؤ اور شدیدکوفت کا باعث بنا ہوا ہے۔ان دو ڈھائی برسوں کے دوران دنیامیں لاکھوں انسانی جانوں اتلاف ہونے،بڑے پیمانے پراقتصادی نقصانات اُٹھانے اور لاک ڈاون کےتحت انسانی زندگی کا پہیہ جام رکھنے کے باوجودصورت حال میں کوئی واضح تبدیلی نہیںآرہی ہے بلکہ وقفہ وقفہ کے بعد خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔جس کے پیش نظراب دنیا کے تقریباً سبھی ممالک میں پھر سے لاک ڈائون کے نفاذ کی صورت حال پیدا ہورہی ہےاور زندگی کا پہیہ دوبارہ جام ہونے والا ہے۔
یہ بات بھی اب منظر عام پر آچکی ہے کہ زہریلے وائرس یاجراثیم اُن افراد کو بہت جلدموت کے گھاٹ اتارتے ہیں جن کے ابدان کے مدافعتی نظام کمزور ہوتے ہیں یا ایسے افراد اس زہریلے وائرس کے زیر اثر آجاتے ہیں جو جسمانی لحاظ سے بیک وقت کئی امراض سے نبرد آزما ہوتے ہیں ۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے جن لوگوں نے ویکسین کے دونوں ڈوز لگوائے ہیں،اُن پر یہ زہریلےوائرس زیادہ غلبہ نہیںپاتے۔ اب تک دنیا بھر میں حملہ آور ہونے والے وبائی امراض کی تاریخ، اثرات اور خاتمے  کےبارے اگر دیکھا جائے تو ایک مشترکہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ ہمیشہ لاعلاج ہی رہے ہیں،اگرچہ بعد ازاں ان پر قابو پانے (ویکسین کی تیاری) کے دعوے بھی سامنے آتے رہتے ہیں لیکن یہ سب طفل تسلیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتے۔کیونکہ ان مراض سے چھٹکارا اور نجات دینے کے حوالے سے حکیم کائنات رب ذو الجلال نے اپنے برگزیدہ بندے سے یہ اعلان کروا دیا تھا کہ’’اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تومجھے شفاء وہی خدا دیتا ہے ‘‘۔بغور دیکھا جائے تواسلام کا تصوّرِ کائنات انسان کو محرکات بھی فراہم کرتا ہے جو انسان کو قانونِ اخلاق کے مطابق عمل کرنے کیلئے اُبھارتے ہیں۔ انسان کا اس بات پر راضی ہو جانا کہ وہ خدا کو اپنا خدا مانے اور اس کی بندگی کو اپنی زندگی کا طریقہ بنائے اور اس کی رضا کو اپنا مقصدِ زندگی ٹھہرائے، یہ اس بات کیلئے کافی محرک ہے کہ جو شخص احکامِ الٰہی کی اطاعت کرے گا ،اس کیلئے ابدی زندگی میں ایک شان دار مستقبل یقینی ہے۔ خواہ دنیا کی اس عارضی زندگی میں اسے کتنےہی مشکلات، نقصانات اور تکلیفوں سے دوچار ہونا پڑے ۔ اس کے برعکس جو یہاں سے خدا کی نافرمانیاں کرتا ہوا جائے گا، اسے ابدی سزا بھگتنا پڑے گی، چاہے دنیا کی چند روزہ زندگی میں وہ کیسے ہی مزے لوٹ لے۔ یہ اُمید اور یہ خوف اگر کسی کے دل میں جاگزیں ہو تو اس کے دل میں اتنی زبردست قوت محرکہ موجود ہے کہ وہ ایسے مواقع پر بھی اسے نیکی پر اُبھار سکتی ہے جہاں نیکی کا نتیجہ دنیا میں سخت نقصان دہ نکلتا نظر آتا ہو اور اُن مواقع پر بھی بدی سے دور رکھ سکتی ہے جہاں بدی نہایت پرلطف اور نفع بخش ہو۔
بلا شک وشبہ جدید سائنس نے شعبہ طب سمیت زندگی کے ہر پہلو کو جدید ایجادات وآلات سے اس قدر مزین کردیا ہے کہ ایک صدی قبل دنیا چھوڑ جانے والے انسان ان کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ جدید انسان بزعم خود سب کچھ پالینے کے باوجود آج بھی مجبور ہی ہے۔ کورونا وائرس کے بعد اب امیکرون کے نزول نے دنیابھر میں ’’طاقت دولت اور حکومت‘‘ کرنے والوں کی بے بسی اور لاچارگی نے اُن کی سوچ اور کردار پر سوالیہ نشانات لگا دئیے ہیںتوکیا کبھی بحیثیت انسان ہم سوچتے ہیں کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں ؟کرونا کی عالمی وباء کشمیر میں بھی انسانی جانوں کو نگلتی جارہی ہے لیکن ہم اس سے بچنے کیلئے کیا کر رہے ہیں۔۔۔ ؟گورنرانتظامیہ اپنی طرف سے امدادکا عمل جاری رکھنے کا دعویٰ کرتی چلی جارہی ہے لیکن کیا ہم احتیاطی تدابیر پر عمل کررہے ہیں؟اگر ہم نے کسی کی مدد نہیں کی توکیا  اپنی مدد آپ کر نے کی کوشش کر رہے ہیں؟جس طرح ہم نے بازاروں ، مارکیٹوں ، گھروں،مسجدوں اور تعزیتی مجلسوںمیں احتیاطی تدابیر کی دھجیاں اُڑا رہے ہیںتو کیا ہم ہر مسئلے کی طرح اس معاملے پربھی’’ پسماندگی ‘‘ کا اظہار کررہے ہیں ؟دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں اور لاکھوں لوگوں کو نشانِ عبرت بن جانے سے بھی کیا ہم کوئی سبق نہیں سیکھ پاتے ہیں؟
ذراسوچئے! کیا ہم اخلاقی پستی کیساتھ اس وباء کا مقابلہ عمر بھر کر سکتے ہیں ؟ بظاہر تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہم نے ان دوبرسوں میں تمام ہتھیار پھینک دئیے ہیں۔ کورونا یا امیکرون کے بارے میں حکومتی فیصلوں پہ ہمیں عمل کرنے میں دشواری ہے تو خود اپنے لئے کچھ ایسے اصول بنا لیں،جن پر آپ عمل کر سکیں۔مگریاد رہے کہ کوئی بھی اہم یا خاص فیصلہ کرنے کیلئے سوچنا پڑتا ہے، حالات کو پرکھنا پڑتا ہے ، دلیل و منطق کو زیر غور لانا پڑتا ہے ، مثبت و منفی پہلوئوں کا جائزہ لینا پڑتا ہے ، مشاورت کرنی پڑتی ہے تب کہیں جا کر فیصلہ کیا جاتا اور کوئی لائحہ عمل یا ضابطہ سامنے آتا ہے ۔یہ بھی درست ہے کہ انسانی تدبیروں سے اس وبائی بیماری سے مکمل نجات حاصل نہیں ہوسکتی مگر اس کی شدت میں کمی ضرور لائی جاسکتی ہے۔اس لئےکوروناو امیکرون سے خودکو ، اپنے پیاروں کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو محفوظ بنانے کیلئے اگر آپ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا تو اب کرلیں کیونکہ اس وباء سے فوری یا چند مہینوں میں جان نہیں چھوٹ سکتی ۔ہمیں اس کیساتھ جینے کی عادت ڈالنا ہو گی ۔ خود کو محفوظ رکھنا ہو گا اور دوسروں کی حفاظت بھی یقینی بنانا ہو گی، تبھی انسانی معاشرہ آگے بڑھ سکے گا ۔چنانچہ جس تیزی سے کشمیر میںکورونا پھر پھیل رہا ہے اور شرح اموات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسے دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے دنیا کی حالت ِزار سے کچھ نہیں سیکھا اور غفلت اور لاپروہی کے باعث بہتری کی جانب اب تک سفر شروع نہیں کیاہے۔
رابطہ۔7006901399
 

تازہ ترین