روپ نگر انہدامی کارروائی کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے

تاریخ    14 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


 الطاف بخاری کا قبائلی رہائشی بستیوں کی ریگولر ائزیشن کا مطالبہ 

جموں//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ جموں ڈولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے قبائلی آبادی کے خلاف مبینہ چیدہ انہدامی مہم کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے۔یہاں جاری ایک بیان میں بخاری نے کہاکہ بدقسمتی کا مقام ہے کہ موسم سرما کے دوران شدت کی ٹھنڈ میں خانہ بدوش کنبوں کے گھروں کو جموں ڈولپمنٹ اتھارٹی نے مسمار کر دیااور اِس چیدہ رویہ پر سوال اُٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پیشگی اطلاع دیئے بغیر جے ڈی اے کی طرف سے قبائلی کنبوں کے پختہ مکانات وار مویشی خانوں کو مسمار کرنا نا انصافی ہے جس کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ پچھلے چند سالوں سے خاص کر جموں میں سماج کے کمزور طبقہ جات کاجے ڈی اے پر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام ہے۔ انہوں نے کہاکہ جے ڈی اے کے خلاف الزامات کی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے انکوائری کرائی جانی چاہئے اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اِس تحقیقات کی نگرانی کریں۔انہوں نے مزید کہا’’ اس طرح کی کارروائیوں سے حکومت کے خلاف عدم تحفظ اور بد اعتمادی پیدا ہوتی ہے، جوابدہی ہونی چاہئے اور بے گھر کئے گئے افراد کی انسانی بنیاد پر مناسب طریقہ سے آباد کیاجانا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ اپنی پارٹی اِس بات پر یقین رکھتی ہے کہ قبائلی آبادی اور دیگر جنگلات پر منحصر کرنے والے لوگوں کو حقیقی معنوں میں جنگلات حق قانون کے تحت حقوق دیئے جانے چاہئے اور غریب لوگوں کو کسی ایک یا دوسری وجہ سے بے گھر نہ کیاجائے ۔اپنی پارٹی صدر الطاف بخاری نے کہاکہ جموں میں ایسی مہمات کے لئے جموں ڈولپمنٹ اتھارٹی مشہور ہوگیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ اِن کے پاس جموں کے لئے کوئی مناسب ترقیاتی منصوبہ نہیں۔اگر چن چن کر متعدد غیر قانونی کالونیوں کو ریگولر آئزڈ کیاجاسکتا ہے تو پھر خانہ بدوش لوگوں کے مکانات کیوں نہیں جن کے ابا واجداد یہاں رہتے آئے ہیں اور جنہوں نے جموں ڈولپمنٹ اتھارٹی کے وجود میں آنے سے کئی دہائیوں قبل اِس زمین کا تحفظ کیا۔ انہوں نے کہاکہ کسی کے خلاف بھی جانبدارانہ رویہ کے بغیر رہائشی بستیوں کے لئے منصوبہ بند مکانات وریگولر آئزیشن پالیسی ہونی چاہئے اور اِن پالیسیوں سے ہرکوئی فائیدہ اُٹھانا چاہئے۔ ماضی میں بھی اسی طرح کی مہمات چلائی گئی اور یہ اکثرمنتخب رہی ہے جس میں زیادہ توجہ قبائلیوں کو اُجاڑنے پر مرکوز کی گئی۔ الطاف بخاری نے کہا’’ہمارا ماننا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر قدم اُٹھانا چاہیے اور جے ڈی اے کے خاطی افسران کو اُن کے منتخب طرز عمل ’Selective Approach‘کے لیے ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے کیونکہ یہ معاشرے کو تقسیم کر رہا ہے۔ اپنی پارٹی ایسے عناصر کو برداشت نہیں کرے گی اور ہم قبائلیوں اور سماج کے دیگر پسماندہ طبقات کے حقوق کے لئے لڑیں گے‘‘ ۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قبائلی آبادی والی رہائشی بستیوںکو ریگولرائز کیا جائے اور انسداد تجاوزات مہم کے نام پر غریبوں کو دوبارہ تنگ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک فلاحی ریاست کے طور پر، حکومت کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا چاہیے اور لوگوں کو غیر ضروری مشکلات میں نہیں ڈالنا چاہیے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔
 

جموں ڈولپمنٹ اتھارٹی نے مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا

مظلوم ، نہتے و دیش بھگت لوگوں کو شدید سردی میں بے گھر کیا: عاشق خان

جموں//گزشتہ روز علی الصبح جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے )کی بن تالاب و اپر روپ نگر میںنہتے ،مظلوم و محکموم و دیش بھگت مسلمانوںکے ایک دو کمرے پر مشتمل آشیانوںکو ایک پل میںجے سی بی لگا کر ننھے منھے بچوں،بچیوں،خواتین کو اس کپکپاتی سردی میںاجاڑ کر ان کو کھلے عام کرونا دور میںسڑکوںپر رہنے کو مجبور کر دیا ۔اس کاروائی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان باتوں کا اظہار شیعہ فیڈریشن صوبہ جموںکے صدر عاشق حسین خان نے ایک پریس بیان میںکیا ۔خان نے کہا کہ انتظامیہ کہیںپہ نگاہیںکہیںپہ نشانہ والی پالیسی اپنا کر جموںکے امن کو زک پہنچانے پر تلاہوا ہے لیکن اس کی یہ کوششیںکامیاب نہ ہوںگی ۔خان نے زور دے کر کہا کہ اگر سرکاری زمین پر سے ناجائز قابضین کو ہٹانا مقصود ہے تو ایک دو مرلے پر کچے کھوکھے میںچالیس پچاس سال سے رہنے والے غریب و محکوم و مظلوم و دیش بھگتوںکو زور و زبردستی سے ہٹائے جانے سے بہتر ہزاروںلاکھوںکنال اراضی پر ناجائز قابضین سے خالی کرایا جائے ۔مگر اس جانب توجہ جان بوجھ کر نہ دینے کی بجائے خاص فرقہ کو ہی نشانہ بنانا سراسر زیادتی ہے جس کو کوئی برداشت کرنے والانہیںہے ۔صدر فیڈریشن نے کہا کہ اس جابرانہ و ظالمانہ کاروائی کے خلاف جس طرح سے ہر مذہب کی شخصیات نے سڑکوںپر آکر مظلوم کے حق میںاور ظالم کے خلاف آواز بلند کی ۔اس سے عیاںہو جاتا ہے کہ ہمارے صدیوںپرانے بھائی چارے کو پارہ پارہ کرنے کی کسی ناپاک کوشش کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے گا ۔خان نے کہا کہ یہی ہماری اصل پہچان و طاقت ہے ۔خان نے تما م سماجی ،سیاسی ،چیمبر وکامرس ،بار ایسوسی ایشن وغیرہ سے پر زور اپیل کی کہ وہ جموںکے صدیوںپرانے بھائی چارے کو زک پہنچانے والی طاقتوںکے سامنے کھڑے ہو جائیں۔انہوںنے ان نام نہاد لیڈروںسے استدعا کی کہ وہ اپنی ہی برادری کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے گمراہ کرنا چھوڑدیں۔خان نے حیرت بھرے لہجے میںبھاجپا کے ایک سینئر لیڈر کے اس بیان پر جس میںاس نے گوجروںکو ہزاروںفلیٹ بنا کر دئے جانے کا اعلان کیا تھا ،سے دریافت کیا کہ کیا ان بے سہارا غریبوںکے لئے ان ہی فلیٹوںکا اعلا ن کیا گیا تھا جن کا زمین پر کوئی وجود نہیںہے بلکہ کچے کوٹھے بھی گرا دئے گئے ۔اس لئے  انتظامیہ کی اس یکطرفہ بے انصافی والی کارروائی کے خلاف ہم سبھی کو ایک جٹ ہو کر بیک زبان ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی پڑے گی ورنہ جس انداز سے ہم سے کانکنی ،شراب کی دکانیں،نوکریاں،دربار موو چھین لیا گیا تو وہ دن دور نہیںجب ہمیںہمارے بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا جائے گا ،اس لئے وقت کی پکار ہے کہ ہم کو ایک ہونا ہوگا اور سرکار کو بھی ہوش کے ناخن لینے ہوںگے ۔
 

نے رہائشی کالونی کو قبرستان میں تبدیل کردیاJDA

چالیس برسوں سے رہائش پذیر لوگوں کو بے گھر کر دیا: بھیم سنگھ

جموں//پنتھرس پارٹی کے سینئر لیڈروں نے جموں قصبہ کے اس ایک چھوٹے سے علاقہ کا دورہ کیا جسے دو دن پہلے مقامی انتظامیہ نے تباہ کیا تھا جہاں درجنوں چھوٹے مکانات کو تباہ کردیا گیا اورسینکڑوں غریب لوگ بے گھر ہوگئے ا ن میں سے بیشتر گزشتہ چالیس برسوں سے اس ویران زمین پر مقیم تھے ۔ انتظامیہ نے ان خاندانوں کو باہر پھینک دیا اور اس وقت کئی بچے اپنے چھوٹے منہدم کئے مکانات کے باہر سڑک پر رہنے پر مجبور ہیں۔ یہ جموں شہر میں کلین ڈرائیو مہم تھی۔ جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کے صدر پروفیسر بھیم سنگھ نے پارٹی کے کئی لیڈروں جنرل سکریٹری محترمہ انیتا ٹھاکر، جموں وکشمیر پنتھرس ٹریڈیونین کے جنرل سکریٹری نیرج دیوان، پنتھرس اسٹوڈنٹس یونین کے ریاستی سکریٹری پشکن انتل اور دیگر کے ساتھ علاقہ کا دورہ کیا۔ پنتھرس پارٹی کے تما م لیڈروں نے چالیس برس سے زیادہ اس علاقہ میں رہنے والے سینکڑوں لوگوں سے بات چیت کی جو یومیہ مزدوری کرکے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ ان افراد نے آنسووں کے سیلاب کے ساتھ کہا کہ جب جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) نے درج فہرست قبائل۔ گجر بکروال اور دیگر کے ان بے سہارا بچوں کی جھونپڑیوں کو تور پھوڑ دیا  توحکومت کی طرف سے اس سنسان علاقہ میں رہنے والوں کو بچانے کے لئے کوئی نہیں آیا ۔ پنتھرس پارٹی کے لیڈروں نے الزام لگایا کہ کوئی بھی اس مرکزکے زیرانتظام حکومت کو قبول نہیں کرتا جو آمر کے طورپر کام کررہی ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی سے کہا کہ وہ آئیں اور ان مصیبت زدہ خاندانوں سے ملاقات کریں جن کی حکومت کے ما تحت مرکز کے زیرانتظام ریاست کے اس علاقہ کو بے عقلی کارروائی سے ریگستان میں تبدیل کردیا گیا جس کی بنیاد ان بچوں کے بزرگوں نے رکھی تھی آج ان کے بچے اور پوتے مدد اور حفاظت کے لئے رو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ موسم ان درج فہرست قبائل بیشتر گجر اور بکروال خاندانوں کے حق میں نہیں ہے اور انتظامیہ نے لیفٹننٹ گورنر کے تحت جموں کے حکمرانوں کے حکم پر عمل کیا۔پروفیسر بھیم سنگھ نے وزیراعظم مودی کو دعوت دیتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے خصوصی طیارہ سے جموں آئیں اور ان روتے ہوئے بچوں کے آنسو پوچھیں اور جواب دیں کہ انکی کیا غلطی ہے؟ پروفیسر بھیم سنگھ نے درج فہرست ذات و قبائل اور دیگر بے گھر مصیببت زدہ لوگوں کو یقین دلایا کہ پنتھرس پارٹی ان کی ذات اور رنگ ، سیاسی وابستگی یا مذہب سے قطع نظر ان کو انصاف اور مساوات دلانے کے لئے لڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنتھرس پارٹی مرد یا عورت  یاامیر یا غریب تمام کو انصاف دلانے کے لئے کھڑی ہے اور ہمیشہ جدوجہد کرتی رہے گی۔
 

تازہ ترین