کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    14 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیر احمد قاسمی

نکاح سے قبل طے شدہ رشتہ ٹوٹنے پر

تحائف کی واپسی کا مسئلہ 
سوال:- کبھی اختلاف کی وجہ سے نکاح سے قبل طے شدہ رشتہ پہلے ہی مرحلے پر ٹوٹ جاتاہے اس کے بعد اختلاف اس پر ہوتے ہیں کہ جو تحفے تحائف لئے دیئے ہوئے ہیں اُن کا حکم کیا ہے ۔بعض دفعہ ایک فریق دوسرے سے جرمانے کا مطالبہ کرتاہے اور جو تحفے زیورات وغیرہ ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی شدید نزاعات ہوتے ہیں ۔اسی طرح کھلانے پلانے کا جو خرچہ ہوا ہوتاہے اس کے لئے بھی مطالبہ ہوتاہے کہ اس کی رقم بصورت معاوضہ ادا کیا جائے ۔اس بارے میں شرعی اصول کیا ہے؟
محمد یونس…شوپیان 
جواب :-نکاح سے پہلے جو تحائف دئے جاتے ہیں۔ اُن کی حیثیت شریعت میں ہبہ باشرط یا ہبہ بالعوض کی ہے ۔ یعنی یہ تحائف اس شرط کی بناء پر دئے جاتے ہیں کہ آئندہ رشتہ ہوگا ۔
اب اگر آگے نکاح ہونے سے پہلے ہی رشتہ کا انکار ہوگیا تو جس غرض کی بناء پر تحفے دیئے گئے تھے وہ چونکہ پوری نہیں ہوئی ۔ اس لئے یہ تحفہ کی اشیاء اُس شخص کی ملکیت نہیں بن سکیں جس کو وہ چیزیں دی گئی ہیں ۔ جب وہ اِن اشیاء کا مالک نہیں بنا توپھر اس سے وہ اشیاء واپس لینا درست ہے ۔
لیکن یہ حکم ایسے تحائف کے متعلق ہے جو موجود ہوں اور جو ختم ہوگئے ہوں مثلاًکھانے پینے کی اشیاء یا دعوتوں کے پُرتکلف کھانے تو وہ واپس لینا اور دینا درست نہیں ہے ۔ 
یہاں کشمیرکا عرف بھی یہی ہے کہ نکاح سے پہلے جو چیزیں لی اور دی جاتی ہیں  اگر رشتہ ٹوٹ جائے تو وہ اشیاء واپس کی جاتی ہیں ۔ اس عرف کا مقتضیٰ بھی یہی ہے کہ نکاح سے پہلے دی گئی اشیاء واپس کر دی جائیں ۔
کھانے پینے کا معاوضہ بصورت رقم لینا ہرگز صحیح نہیں ہے ۔ اس لئے کہ کھلاتے وقت یہ دعوت تھی اور کھانے کا عوض مانگنا اُسی وقت درست ہے جب پہلے سے طے کیا گیا ہو ۔جیسے ہوٹل میں ہوتاہے ۔ پھر دعوت کا کھانا خود اپنے گھروالے اور اپنے عزیز واقارب بھی کھاتے ہیں تو کیا اس پورے کھانے کا معاوضہ اُن سے لینا درست ہوسکتاہے ؟ ظاہرہے کہ نہیں ۔ 
نکاح سے پہلے دئے گئے تحائف کے واپس کرنے کا مسئلہ اور دعوتوں میں کھانے پینے اور ماکولات ومشروبات (مثلاً مٹھائیاں ، کیک ، بیکری ،پیسٹری ،پھلوں کے ٹوکرے ،جوس کے ڈبے ، چاکلیٹ ، ڈرائی فروٹ وغیرہ) کے واپس نہ کرنے کا مسئلہ فتاویٰ قاضی خان درمختار کی شرح شامی اور فتاویٰ محمودیہ وغیرہ میں تفصیل سے لکھاہواہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تعزیت کا مسنون طریقہ 

سوال:- تعزیت کے لئے مسنون طریقہ کیاہے ؟اورکیا تعزیت میں ہاتھ اُٹھاکر دعا کی جاسکتی ہے ؟ تحریری تعزیت کرنا کیساہے ؟
ارشاد احمد …سرینگر 
جواب:-بخاری شریف میں ہے ۔ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیاکہ ابو عامرؓ نے شہید ہوتے وقت مجھ سے کہاتھاکہ اے میر ے بھتیجے تم حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرا سلام عرض کرنا اور کہنا کہ میرے لئے استغفار کریں۔
حضرت ابوموسیٰؓ کہتے ہیں جب میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے چاچا ابوعامرؓ کا سلام پیش کیا اور ان کی استغفار کرنے کی درخواست پیش کی تو حضرتؐ نے وضو کے لئے پانی منگوایا۔  وضو کرکے آپ ؐ نے اس کے لئے کھڑے ہوکر ہاتھ اٹھاکر دعا کی اور فرمایا یا اللہ! اپنے بندے ابوعامر کی مغفرت فرما اور قیامت میں اس کا عام لوگوں اور بے شمار مخلوق سے درجہ اونچا فرما۔ 
اس بات سے ثابت ہواکہ مردے کے لئے ہاتھ اُٹھاکر دعائے مغفرت کرنا درست ہے۔تعزیت کے معنی تسلی دینا اور صبر کرنے کی ترغیب دینا ہے ۔ تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اہلِ میت کو صبرکی تلقین کی جائے اور خوداُس میت کے لئے دعائے مغفرت کی جائے ۔ایصال ثواب کے لئے سورہ فاتحہ ، سورہ اخلاص ، آیت الکرسی اور دوسرے کلمات پڑھنا درست ہے ۔
تحریری تعزیت بھی حدیث سے ثابت ہے۔
چنانچہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل ؓکے صاحبزادے کی وفات پر تحریری مکتوب گرامی بغرض تعزیت ارسال فرمایا جس کا مضمون یہ تھا ۔ اللہ کے رسول محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے معاذبن جبلؓ کے نام ۔ تم پر سلامتی ہو۔ میں تمہارے سامنے اللہ کی حمد وثنا کرتاہوں ۔اللہ جس کے بغیر معبود نہیں ہے امابعد۔
اللہ تم کو اجرعظیم عطا فرمائے اور صبر کی توفیق عطافرمائے اور ہم کو اور تم کو شکر کی توفیق نصیب ہو ۔
بے شک ہماری جانیں ، ہمارا مال ، ہمارا اہل وعیال سب خداوند عظیم کے مبارک عطیہ ہیں اور یہ عاریتاً ہم کو عطا کئے گئے ہیں ۔ ان سے ہم کچھ ہی عرصہ تک فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ پھر اپنے مقررہ وقت پر اللہ تعالیٰ اُن کو واپس لے لیتے ہیں ۔
اس لئے ہم پرلازم کیا گیا ہے کہ جب یہ ہم کو عطا ہوں تو اللہ کا شکر اداکریں اور جب ہم کو آزمائش (ان کو واپس لے کر)آئے تو ہم صبر کریں ۔ اے معاذؓ ! تمہارا بیٹا بھی اللہ کا عظیم ومتبرک عطیہ تھا اور یہ اللہ کی تفویض شدہ امانتوں میں سے ایک امانت تھا ۔ اللہ نے تم کو یہ قابل رشک اور لائق مسرت نعمت دے کر نفع پہنچایا اور اب اجر عظیم رحمت ومغفرت کے بدلے اسے واپس لے لیا ۔اگر تم اجر وثواب چاہتے ہو تو صبر کرو۔ ایسا نہ ہو تمہاری بے صبری (اور رونا دھونا)تمہارے اجروثواب کو ختم کر دے۔ پھر تم کو افسوس کرناپڑے گااور ہاں یاد رکھو رونا دھونا اور چیخ وپکار کسی کوواپس نہیں لاسکتے اور نہ ہی اس سے غم واندوہ دورہوسکتاہے ۔ غم تو ہو کر ہی رہے گا ۔
(اس لئے برداشت کرو)جو ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا ۔ جو ہونا تھا وہ ہوچکا۔ والسلام ۔ (حصن حصین )
اس تعزیتی مکتوب گرامی کے مضامین اُن اہل ایمان جن کا کوئی عزیز فوت ہوجائے کے لئے صبروتسلی کاسامان کے لئے ہوتے ہیں اور اس سے تحریری تعزیت کا ثبوت ملتاہے ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱- کیا فرض نماز کے بعد جب کہ ابھی سنتیں باقی ہوں تو لمبی دعایا تسبیح فاطمہ اور درودِ پاک وغیرہ پڑھنا جائزہے ؟
سوال :۲- کیا جمعہ کے پہلے خطبہ میں ہاتھ ناف کے نیچے باندھنا اور دوسرے خطبہ میں ہاتھ آگے زانوں پر رکھنا درست ہے ۔ یا میں کوئی شرعی حکم ہے ؟
سوال :۳-کیا ایسے اما م کے پیچھے نماز ادا کرنا درست ہے جس کی داڑھی ایک مشت سے کم ہو ۔ فقہ حنفیہ میں کیا اس کی کوئی جوازیت ہے ؟
نظام الدین ناظم…

فرض نماز کے بعد تسبیح 

فاطمی پڑھنے کی فضیلت

جواب:۱-ہر فرض نما ز کے بعد تسبیح فاطمہ پڑھنے کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے ۔ یہ احادیث بخاری ومسلم وغیرہ میں موجود ہیں۔جن نمازوں کے بعد سنتیں نہ ہوں اُن نمازوں میں سلام پھیرنے کے بعد یہ تسبیح پڑھی جائے اور جن نمازوں کے بعد سنت پڑھنی ہوتی ہیں مثلاًظہر ، مغرب اور عشاء کی نمازمیں فرض کے بعد سنتیں ہیں تو ان نمازوں میں فرض کے بعد مختصر دعا کرکے پہلے سنتیں پڑھی جائیں اور پھر تسبیح فاطمہ پڑھی جائے اس لئے کہ نماز کا درجہ مقدم ہے ۔ تسبیح فاطمہ یہ ہے ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ، ۳۳ مرتبہ الحمد للہ اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر ۔ بعض احادیث میں ہے کہ ۳۳ مرتبہ اللہ اکبر پڑھ کر ایک مرتبہ چوتھا کلمہ یعنی کلمہ توحید پڑھا جائے ۔ 

خطبہ سننا مسنون

جواب:۲- خطبہ جمعہ کے وقت ہاتھ باندھنے یا زانوں پر رکھنا حکم نہیں ہے لیکن دوزانوں ہو کر توجہ سے خطبہ سننا مسنون ہے ۔یعنی اصل حکم تو خطبہ سننا ہے ۔

امام کیلئے داڑھی کی شرعی مقدار

جواب:۳-ایک مٹھی سے کم داڑھی رکھنے والے کو امام بنانا ہی درست نہیں تاہم جو نمازیں اسکی اقتداء میں پڑھی گئیں وہ ادا ہوجاتی ہیں ۔اس لئے حدیث میں ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر نیک اور فاجر کی اقتداء میں نماز پڑھنی پڑے تو نماز پڑھ لینا ۔ اس کا گناہ اس امام پر ہوگا۔یہ ایسے ہی ہے جیسے چوری کے کھجوروں سے روزہ افطار کیا جائے تو افطار ہوجائے گا مگر چوری کرنا گناہِ کبیرہ ہے او راس کا جرم برقرار رہے گا ۔ اسی طرح داڑھی منڈھے کے پیچھے نماز ادا ہوجائے گی مگر گناہ امام پر ہوگا ۔
 

تازہ ترین