تازہ ترین

مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کی دھمکیاں

حکومتی خاموشی حیران کن، فوری کارروائی کی جائے:ڈاکٹر فاروق

تاریخ    14 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر// نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ (رکن پارلیمان)نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز ریمارکس اور نسل کشی کی دھمکیوں پر زبردست برہمی کا اظہار کر کے  نفرت انگیز تقاریر میں زہر اگلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ہریدوار میں ایک تقریب میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور دائیں بازو کے گروپوں کی طرف سے اس طرح کے نفرت انگیز جلسوں کے انعقاد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ ہریدوار میں 17 اور 19 دسمبر کے درمیان کی گئی تقاریر کی نوعیت اور ملک بھر میں اس طرح کے دیگر اجتماعات میں نفرت انگیز تقاریر تشویشناک اور افسوسناک ہیں اور ملک میں اس طرح کی کھلم کھلا فتنہ انگیزی اور نسل کشی کے اعلانات کا دوبارہ آنا انتہائی پریشان کُن اور لمحہ فکریہ ہے۔حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کو اَن سنا کرنے کی مذمت کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ حکومتی حلقوں میں مجرمانہ خاموشی ایک سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے اور اس خاموشی کی وضاحت ضرور ہونی چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ ہندوستان نے نسل کشی کے خلاف عالمی قوانین کے آرٹیکل 3سی کنونشن، جو واضح طور پر ’’نسل کشی کیلئے براہ راست یا بلواسطہ عوام کو اکسانے‘‘ کو مجرم قرار دیتا ہے، پر دستخط کنندہ ہونے کے ناطے ایسے گروپوں اور افراد کیخلاف سخت کارروائی کا پابند ہے جو مسلمانوں کی نسل کشی کی تقریریںکررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر نسل کشی کنونشن کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی تو میں شکر گزار ہوں گا۔اس بارے میں فوری کارروائی کی ضرورت ہے ورنہ یہ نفرت پھیلانے والوں کی حوصلہ افزائی کیساتھ ساتھ ماحول کو خراب کرے گا اورلازمی طور پر اقلیتوں کو مزید الگ تھلگ کرنے کا کام کریگا ،جو ہندوستان کے مفاد میں نہیں ہے۔نفرت انگیز تقاریر کے یہ اجتماعات ہندوستانی قوانین کے تحت مختلف قسم کے جرائم کے زمرے میں آتے ہیںاور یہ قومی سالمیت اور امن کے مخالف ہیں۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ملک کے سربراہ کی خاموشی اور قانونی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے ایسے نفرت پھیلانے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت اپنی فرضی بے علمی سے ان نفرت پھیلانے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا بند کرے اور قانون کی حکمرانی قائم کرے ۔ انہوں نے ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ نفرت پھیلانے والے گروہوں اور افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔