تازہ ترین

ماحولیات کو درپیش خطرات …

مربوط مہم چلانا وقت کی ضرورت

تاریخ    13 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


 جموں وکشمیر میں فی الوقت آلودگی کے بڑھتے ہوئے گراف کی وجہ سے جو ماحولیاتی خطرات پیدا ہوگئے ہیں وہ نہایت ہی سنگین ہیں۔ حالانکہ ماضی میںریاستی عدالت عالیہ نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ پالی تھین سے پاک جموں وکشمیر کا خواب شرمندہ تعبیر بنانے کیلئے لکھن پور ٹول پلازہ  پر نگرانی نظام مزید سخت کرے تاکہ جموں و کشمیر میں پالی تھین کی برآمد روکی جاسکے ۔ چنانچہ عدلیہ کے دبائو کے نتیجہ میں ہی اُس وقت حکومت کو پالی تھین پر پابندی عائد کرنے کیلئے قانون سازی کرنا پڑی تھی تاہم یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پابندی کا اطلاق قانون کی کتابوں تک ہی محدود رہا جبکہ عملی طور متعلقہ حکام کی ناک کے نیچے ریاست میں پالی تھین کا استعمال شدومد سے جاری ہے اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔یہ سال 2009کی بات ہے جب سرکار نے پالی تھین لفافوں کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔یہ عجیب بات ہے کہ حکومت کی طرف سے سالہا سال قبل یہ فیصلہ کیا گیاکہ پالی تھین لفافوں کو وادی میں برآمد نہیں ہونے دینا ہے اور اس کے استعمال پر پابندی کا اطلاق ہونا چاہئے اور اس ضمن میںکثیر رقومات خرچ کرکے عوام کیلئے جانکاری مہم بھی چلائی گئی، سمیناروں کا اہتمام کیا گیا ہے، غیر سرکاری رضاکار تنظیموں کی مدد بھی حاصل کی گئی، لیکن اس سب کے باوجود آج بھی صورتحال میں کوئی عملی تبدیلی نہیں آئی ہے اور پالی تھین لفافوں کا استعمال ہنوز جاری ہے۔ظاہر ہے کہ پالی تھین پر پابندی جموں وکشمیر میں ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں ایک اہم قدم تھا۔ حالانکہ ماحولیات کا تعلق صرف پالی تھین سے ہی نہیں ہے بلکہ کئی دیگر باتوں سے بھی ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں سے مسلسل ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا تے آئے ہیں اور یہ سلسلہ شدو مد کے ساتھ جاری ہے۔ہماری جھلیں تباہ حال ہیں اور ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سکڑتی جارہی ہیں۔ ہمارے جنگلات لٹ رہے ہیں۔ ہمارا جہلم آلودہ ہو چکا ہے۔ ہماری بستیوں سے برآمد ہونے والا فضلہ آبگاہوں اور دریا ئوں میں چلا جاتا ہے۔ اس ریاست میں سڑکوں پر دوڑنے والی لاکھوں گاڑیاں زہریلا دھواں چھوڑتی ہوئی چلی جارہی ہیںاور بدقسمتی سے محکمہ ٹریفک میں افرادی قوت کی قلت کے باعث بڑی تعداد میں گاڑیوں کی پولیوشن  چیکنگ تقریباً ایک ناممکن بات بن گئی ہے۔ ہماری زرخیز زمینیں کنکریٹ کے جنگلوں میں تبدیل ہورہی ہیں۔ غرض کہ ہمارے یہاں ماحولیات کی بربادی کی ان گنت وجوہات دیکھنے کو ملتی ہیں اور ظاہر ہے کہ اس کے تدارک کیلئے ایک ہمہ گیر ، موثر اور زوردارسرکاری پالیسی کی ضرورت ہے لیکن پالی تھین لفافوں پر پابندی کے ایک چھوٹے سے قدم کا حشر دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ماحولیا ت سے جڑے دیگر منفی رجحانات کا تدارک کرنے میں کس طرح کے نتائج برآمد ہونگے۔ویسے بھی یہ بدقسمتی ہے کہ یہاں کے عوام میں تعلیم عام ہوجانے کے باوجود ماحولیات کے تئیں ذمہ داریوں کا احساس نہیں پایا جاتا ہے۔ہمارے اسلاف ہمارے مقابلے میں ان پڑھ تھے لیکن ماحولیات کے تئیں بہت حساس تھے۔ ان کے زمانے میں جہلم اور ڈل کا پانی پینے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔لیکن آج یہ آبی ذخائر آلودگی کی آماجگاہ بن چکے ہیں اور ان کا پانی پینا تو دور کی بات اس میں ہاتھ ڈالنا بھی بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ماحولیات کے تئیں عوام میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے لیکن اسکے لئے انتظامیہ کا انتہائی سنجیدہ ہونا نہایت ضروری ہے۔ پالی تھین مخالف مہم کا جو حشر ہوا ہے ،وہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ حکومتوں نے یہ مہم سنجیدگی کے ساتھ شروع نہیں کی تھی ۔ بہر حال اگر سرکار واقعی جموں کشمیر میں ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے تو اسکے لئے موثر اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ زبانی جمع خرچ کے بجائے ماحولیات کے تحفظ کیلئے ٹھوس پالیسی اپنائے تاکہ اسکے مطلوبہ تنائج برآمد ہوں۔فوری طور پرمتعلقہ حکام پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ پالی تھین لفافوں کو گاہکوں کے ہاتھوں میں تھمادینے والے دکانداروں اور خوانچہ فروشوں کے تئیں سختی سے پیش آئیں ، مارکیٹ چیکنگ سکارڈ وںکو متحرک رکھے اور اْن لوگوں سے قانون کے مطابق نپٹے جو اس غیر قانونی اور مضرت رساں دھندے کو کسی نہ کسی صورت زندہ رکھنے کے درپے ہیں نیز عام لوگوں کو اس معاملے کے سنجیدہ نتائج کی فہمائش کی جانی چاہئے اور انہیں پالی تھین کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات اور نقصانات کے بارے میں ذرائع ابلاغ کی وساطت سے مزید واقفیت دلائی جانی چاہئے۔ان حوالوں سے رائے عامہ کو ہموار کرنے کی ذمہ داری  اول تاآخر میونسپل حکام پرعائد ہوتی ہے۔اْمید کی جانی چاہئے اس بارے میں ہاتھ بٹانے کے لئے نہ صرف معاشرے کے باشعور افراد بلکہ تمام ماحولیات دوست قوتیں بھی حتی المقدوراپنا کردار ادا کریں گی۔اسمیں شک نہیں کہ سرکار وقتاً فوقتاً اس حوالے سے ہدایات جاری کرتی رہتی ہے، لیکن ان ہدایات پر عمل آوری بنیادی ضرورت ہے، جن پر عمل کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
 

تازہ ترین