تازہ ترین

ـ’ریاستی اراضی‘ پر قبضہ کا شاخسانہ!

روپ نگر میں 80برسوں سے رہائش پذیر خانہ بدوش کنبوں پر انہدامی کاروائی

تاریخ    12 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


سید امجد شاہ

جموں ڈولپمنٹ اتھارٹی نے رہائشی ڈھانچوں کو منہدم کیا،لوگوں نے احتجاج کیا

 جموں// جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے منگل کو جانی پور کے روپ نگر میں خانہ بدوشوں سے تعلق رکھنے والے کم از کم پانچ رہائشی ڈھانچوں کو منہدم کر دیا جو مبینہ طور پر ’ریاستی اراضیـ‘ پر تعمیر کیے گئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق، جب جے ڈی اے اور پولیس ٹیموں نے انہدامی مہم شروع کرنے کے لیے جے سی بی کے ساتھ موقع پر پہنچے تو اہل خانہ کو اپنے گھریلو سامان کو باہر نکانے کو کہا۔ اس اقدام کی مخالفت کرنے کے لیے مقامی لوگوں نے جے ڈی اے کے خلاف احتجاج کیا لیکن پولیس فورس نے زمین سے پرامن طریقے سے تعمیرات کو ہٹانے میں مدد کی جس کا دعویٰ ترقیاتی اتھارٹی نے کیا ہے۔ اسی دوران خواتین نے جذباتی ہو کر چیخ و پکار بھی کی۔ عینی شاہدین نے کہا کہ مقامی لوگوں نے انہدام کی مہم کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’انتخابی طریقہ کار‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر جموں ضلع میں جاری کویڈ 19 کی صورتحال میں انہدام کی مہم پر سوال اٹھایا جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ کیسز بڑھ رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اتھارٹی نے ’’یہ بے گھر خاندان گھر کا سامان، مویشی لے کر کہاں جائیں گے‘‘۔سماجی کارکنوں میں سے ایک طفیل حسین چودھری نے کہا، ’’انہوں نے گوجروں کے مکانات کو اکھاڑ منہدم کر دیا ہے اور کورونا وائرس کے مشکل وقت میں اُنہیں بے گھر کر دیا ہے‘‘۔ چودھری دیگر خانہ بدوشوں کے ساتھ روپ نگر میں جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے خلاف 5 خانہ بدوش خاندانوں کی مبینہ طور پر نقل مکانی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جن کے رہائشی مکانات/ مویشیوں کے شیڈ کو جے سی بی کا استعمال کرتے ہوئے توڑ دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ، ’’یہ خاندان یہاں 100 سالوں سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ لیکن ان خاندانوں کو ان کے آباؤ اجداد کے گھروں سے نکال دیا گیا۔ ہم خانہ بدوشوں سے پرانے مکینوں کے زیر قبضہ زمینوں کو ریگولرائز کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ جے ڈی اے کا انتخابی طریقہ ہے اور اسے روکنا چاہئے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر الزام لگایا کہ وہ مبینہ طور پر خانہ بدوشوں کو چن چن کر نشانہ بنا رہے ہیں۔