تازہ ترین

تیسری لہر کے خدشات اور تعلیم پر اسکے منفی اثرات کا سدِباب ناگزیر

تاریخ    11 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
جدید تعلیم کچھ دہائیوں پہلے کی نسبت بالکل مختلف ہے۔تعلیم کا شعبہ گزشتہ چند دہائیوں میں جہاں بے پناہ تبدیلیوں سے گزر چکا تھا وہیں گزشتہ چند برسوں میں اچانک ایک ایسا بدلائو آیا جس نے اس شعبہ کا نقشہ ہی بدل دیا۔روایتی تعلیم کی جگہ آن لائن تعلیم نے لے لی ہے ۔ ایک کلاس روم جہاں اساتذہ بچوں کو تعلیم دیتے تھے اور جہاں اساتذہ طالب علموں کے ساتھ طویل مدتی تعلقات استوار کرتے تھے ،وہ اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ اُن ننھے منے بچوں کا تصور کریں جنہیں کووڈ لہر آنے کے ساتھ ہی کنڈرگارٹن میں داخل کیا گیا تھا،وہ تاحال اپنی پہلی کلاس لینے کے منتظر ہیں کیونکہ جب سے سکول مسلسل بند ہیں۔ اگرچہ آن لائن تعلیم نے وقت کے ضیاع کی کافی حد تلافی کی لیکن ایک استاد اور ان کے طلباء کے درمیان تعلق تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ یہ چھوٹے بچے اب اپنے اساتذہ کو کچھ ڈیجیٹل آلات کے طور پر جانتے ہیںجنہیں وہ آواز اور تصویرکی حد سے اب زیادہ نہیں جانتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں کوئی نہیں جانتا کہ ایک استاد ایسے بچوں کیلئے اصل میں کیا معنی رکھتا ہے۔وہ بچے جنہوں نے کچھ سال سکول میں گزارے ہیں ، لیکن اب وہ اس ڈیجیٹل موڈ پر ہیں ، انہیں ایک ٹیچر سے متعلق کافی تبدیلی محسوس ہورہی ہوگی کیونکہ اس طرح کے درد و تدریس سے وہ مکمل طور نابلد تھے اور انہوںنے کبھی سوچا بھی نہ سوچا کہ انہیں سکولوںکو چھٹی کرکے موبائل فونوںکے ذریعے اپنے اساتذہ کو سننا اور دیکھناپڑے گااور اسی موبائل فون کو اپنے جماعت کا کمرہ بنا کرکے تعلیم کا سفر جاری رکھنا پڑے گا۔ ایک بار ذاتی کلاسز دوبارہ شروع ہونے کے بعد یہ سکولوں کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔کووڑ کی تازہ لہر کے پیش نظر حکومت نے سکولوں کے ساتھ ساتھ اب کوچنگ مراکز بند کرنے کا حکمنامہ بھی جاری کردیا ہے۔  یہ حقیقت ہےکہ تیسری لہر کے  دیکھتےسکول کھولنا دانشمندی نہیں اور دوسری لہر کے المناک تجربات کے مدنظر سہل انگاری سے کام لینے کا موقع نہیں اور نہ ہی شاید کوئی اطمینان محسو س کرے گا کہ اب سب ٹھیک ٹھاک ہوچکا ہے اور ہمیں اپنے بچوںکو واپس سکول بھیجنا چاہئے کیونکہ ہمیں قطعی یہ نہیںبھولنا چاہئے کہ جموںوکشمیرمیں دوسر ی لہر کی شروعات تعلیمی اداروں سے ہوئی تھی اور ابتدائی ایام میں تعلیمی اداروں سے ہی کورونا کے کیس سامنے آنا شروع ہوئے تھے۔کوئی نہیں جانتا کہ سکول کھولنا اور درس و تدریس کے اصل موڈ پر واپس آنا کب مناسب ہوگا۔ اس وقت تک اساتذہ کو چاہئے کہ وہ نصاب مکمل کرنے کے علاوہ ، تعلیم کے نئے عناصر کو شامل کر یں جو طلباء کے ساتھ انسانی تعلقات کی تعمیر میں معاون ثابت ہوں۔ تعلیم صرف ایک مقررہ کتاب کے مندرجات کو ختم کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ طلباء اور اساتذہ کے رشتے کو مضبو ط بناکر طلباء کی شخصیت کو ہمہ جہت پروان چڑھانا ہے۔ ایک استاد ایک طالب علم کے لیے زندگی بھر رہنمائی کرتا ہے اور رہنمائی کا یہ عنصر اُس دور میں ختم نہیں ہوناچاہئے جب ہم اس ڈیجیٹل موڈ کے ذریعے تعلیم دے رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ڈیجیٹل موڈ روایتی تدریسی نظام کا قطعی نعم البدل نہیں ہوسکتا ہے ۔یہ مجبوری کی پیداوار ہے اور اس کو مجبوری کی حد تک ہی رکھنا چاہئے جبکہ اصل تعلیم کا ماحول کلاس روم میں ہی بنتا ہے جہاں استاد اور طالب عم بالمشاقہ ایک دوسرے سے گفتگو کرکے تعلیم و تعلم کے سفر کو آگے بڑھاتے ہیں۔آن لائن تعلیم کا سہارا ہمیں مجبوری کی وجہ سے لینا پڑا اور اس کو قطعی ایک مستقل عمل نہیں بنایا جاسکتا ہے ۔البتہ موجودہ حالات میں اسکے بغیر کوئی چارہ نہیں، لہذا نہ صرف اس پر اکتفا کرنے کی ضرورت ہے بلکہ خود کو اسکے ساتھ ہم آہنگ کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔اکثر والدین کی شکایت ہے کہ ان کے بچے اب موبائل فونوں کے عادی بن چکے ہیں اور اس کچی عمر کو اس نظام تعلیم کی وجہ سے جس طرح ہمارے بچوںکو مجبوری میںہی موبائل فونوںسے واسطہ پڑا ،وہ انتہائی تباہ کن ہے کیونکہ اب بچوںکو موبائل گیمز کی لت لگ گئی ہے اور وہ موبائل چھوڑنے کو تیار نہیںہے جس سے نہ صرف وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں بلکہ ان کی بینائی اور ذہنی صحت بھی متاثر ہورہی ہے۔یونسکو کی حالیہ تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ موبائل کے ذریعے آن لائن تعلیم فائدے کے بجائے کم عمر بچوں میں نقصان کا موجب بن رہی ہے اور اس کے منفی اثرات زیادہ ہیں ۔ایسے میںہمیں اس امر کو بھی یقینی بنانا ہے کہ جہاں ہم مجبوری کی حالت میں بچوںکو آن لائن تعلیم دے رہے ہیں تو کہیں ہم تعلیم دینے کے اس عمل میں ان کا اصل میں نقصان ہی تو نہیں کررہے ہیں۔محدود وقت کی آن لائن کلاسز کے دیکھتے ہوئے ہمیں مزید دیکھنا ہوگا کہ اس نظام تعلیم کے منفی اثرات سے بچوںکو کیسے بچایا جاسکے کیونکہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ہم قطعی اپنے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ہمیں کووڑکی یورش کا مقابلہ کرنا ہے اور خود کو اس سے بچانا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ اپنے مستقبل کی حفاظت کے بارے میں بھی ضروری سوچنا ہے ۔فی الوقت دنیا میں تیسری لہر نے غلبہ شروع کردیا ہے، لہذا ہمیں بھی اسی شدت کے ساتھ اسکا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔
 

تازہ ترین