تازہ ترین

میوہ صنعت کوجان بوجھ کر نقصان پہنچایاجارہا ہے؛نیشنل کانفرنس

غیر ملکی سیبوں کی مسلسل غیر قانونی درآمدگی شعبہ باغبانی کو زمین بوس کرنے کا عمل

تاریخ    11 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//ایرانی سیبوں کی غیر قانونی درآمدگی کے نہ تھمنے والے سلسلے اور حکومت کی طرف سے اس سنگین نوعیت کے معاملے کو اَن دیکھا کرنے پر زبردست تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ مالکانِ باغات اور سیب کی صنعت سے منسلک لوگوں کے مسلسل احتجاج کے باوجود بھی حکمرانوں کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے اور ایسا محسوس ہورہاہے حکمران کشمیر کے باغبانی شعبہ کو زمین بوس کرنے کیلئے جان بوجھ کر ایسا کررہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے سوال کیا کہ سیبوں کی اتنی بڑی تعداد میں غیر قانونی درآمدگی کیسے ممکن ہورہی ہے اور اس پر روک لگانے کیلئے حکومتی سطح پر کوئی ٹھوس اقدام کیوں نہیں اُٹھایا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت کشمیریوں کو محتاج بنانا چاہتی ہے؟نیشنل کانفرنس ترجمان نے کہاکہ گذشتہ برسوں کے دوران بیرونی ممالک سے درآمدہونے والی اشیاء کی ایکسائز ڈیوٹی دوگناہ سے بھی زیادہ کردی گئی ہے یہاں تک ضروری ادویات پر بھی اس ایکسائز ڈیوٹی کا اطلاق ہوا ہے لیکن ایران سے کافی بڑی مقدار میں سیب بنا ٹیکس کے ملک میں داخل ہوتا ہے اور ان سیبوں کا غیر قانونی کاروبار کھلم کھلا جاری ہے لیکن حکومتی سطح پر اس پر روک لگانے کیلئے کوئی اقدام نہیںاُٹھایا جارہاہے۔ ترجمان نے کہاکہ گذشتہ برسوں کے دوران مسلسل غیر یقینیت اور بے چینی سے یہاں کا سیاحتی اور دستکاری کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور اب میوہ صنعت کوبھی جان بوجھ کر نقصان پہنچایا جارہاہے۔ مسلسل احتجاج کے باوجود بھی حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے ساتھ یہ ناانصافی کب جاری رہے گی؟ کیا مرکزی حکومت کشمیریوں کو بھکاری بنانا چاہتی ہے؟ انہوں نے کہاکہ بغیر ٹیکس ایران کے سیبوں کی برآمد سے یہاں کے باغبانی شعبہ سے وابستہ لوگوں پر منفی اثر پڑا ہے۔ جن لوگوں نے باغوں کو بنانے کیلئے زر کثیر خرچ کرنے کے علاوہ اپنی جان لگا دی ہے وہ بہت زیادہ مایوسی کے شکار ہوگئے ہیں۔ ایک طرف حکومت خود روزگار کے فروغ کیلئے آئے روز بلنگ بانگ دعوے کررہے ہیںلیکن دوسری جانب ایسے لوگوں کے روزگار پر شب خون مارا جارہا ہے جو اپنے بل بوتے پر روزگار کما رہے ہیں۔ 
 
 
 

کشمیرکی میوہ صنعت پرکاری ضرب  |  میوہ منڈیوںمیں 40فیصد سے زیادہ کشمیری سیب سردخانوں میں:فروٹ ڈیلرس ایسوسی ایشن 

سری نگر//واگہ سرحد اورگجرات کے ساحلی راستے سے ایرانی سیب کی درآمد گی نے کشمیرکی میوہ صنعت کی کمرتوڑ کررکھ دی ہے ،کیونکہ مبینہ طورپرایرانی سیب کواولیت دی جاتی ہے اورکشمیری سیبوں کوکولڈ اسٹوروں اورگوداموںمیں رکھاجاتاہے۔جے کے این ایس کے مطابق کشمیر فروٹ گروئورس اور ڈیلروں کاکہناہے کہ ایرانی سیب کوغیرقانونی طورپر درآمد کرکے ملک بھرکی منڈیوںمیں پہنچایاجاتاہے اور پھر کاروبار  کے وقت ایرانی سیب کوہی اولین ترجیح دی جاتی ہے اورکشمیر سے پہنچنے والے میوہ جات بشمول سیب کی مختلف اقسام کوکولڈ اسٹوروںمیں رکھاجاتاہے ۔فروٹ منڈی سوپورسے وابستہ میوہ بیوپاریوں  اورمالکان باغات کی تنظیم فروٹ گروورس اینڈڈیلرس ایسوسی ایشن کے صدر فیاض احمدملک عرف کاکہ جی نے اس صورتحال پرتشویش ظاہر کرتے ہوئے محکمہ باغبانی کے ڈائریکٹر کے دعوئوںکوغلط بتایا۔ انہوںنیکہاکہ کشمیر سے روزنہ تقریباً100میوہ گاڑیاں ملک کے مختلف شہروں بشمول دہلی ،ممبئی ،لکھنو ،کولکتہ اوربنگلور روانہ ہوتی ہے لیکن جب کشمیری سیب سے بھرے ڈبے اورپیٹیاں منڈیوںمیں اتاری جاتی ہیں توان کوکولڈ اسٹوروں یاگوداموںمیں ڈالدیاجاتاہے ۔فیاض احمدملک نے کہاکہ میوہ جات بالخصوص سیب کے کاروبار کاسیزن جب عروج پرتھا توکشمیری سیب کوبازاروں سے غائب رکھاگیا اورایرانی سیب کوفروخت کیاگیا۔انہوںنے کہاکہ آج کے سیزن میں کشمیری ڈیلشس سیب کی ایک پیٹی 1200روپے میں بکتی تھی لیکن ایرانی سیب کی وجہ سے اب کشمیری سیب کی یہ پیٹی محض 600روپے میں فروخت ہورہی ہے اوریوں کشمیرکے فروٹ گروورس کوایک پیٹی میں600روپے کانقصان اُٹھاناپڑتا ہے ۔انہوںنے مزیدبتایاکہ اس وقت ملک بھرکی میوہ منڈیوںمیں تقریباً40فیصد سے زیادہ کشمیری سیب کولڈاسٹوروںمیں پڑے ہیں جبکہ اسے کہیں زیادہ سیب یہاں کشمیر میں پڑے ہیں ۔فیاض ملک نے کہاکہ کشمیرکی میوہ صنعت پرکاری ضرب لگائی جارہی ہے جبکہ اس صنعت کیساتھ لاکھوں افرادکی روزی روٹی اورذرائع آمدن جڑی ہوئی ہے ۔