تازہ ترین

ہماری نوجوان نسل اورمنشیات کی وبا

فکرو ادراک

تاریخ    11 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


یاسر بشیر
ایک انسان کی زندگی کا سنہرامرحلہ(Golden period) نوجوانی کا مرحلہ ہوتا ہے۔اس مرحلے میں ایک انسان کی زندگی سنور سکتی ہے اور بگڑ بھی سکتی ہے۔فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے۔دنیا میں جو بھی انقلابات رونما ہوئے،ان میں نوجوانوں کا اہم رول رہا ہے۔ دنیا میںجس کسی قوم کو زوال آیا تو اس میں بھی نوجوان نسل کاکافی رول رہا ہے۔الغرض کسی بھی قوم کا عروج و زوال اُس قوم کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہی ہوتا ہے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کا انکار کرنا نہیں کیاجاسکتا ہے۔طارق بن زیاد نے جب تحفظ ملک و ملت،اصلاح معاشرہ اور تعمیر ِ سیرت میں ایک انقلاب کی بنیاد ڈالی، اُس وقت وہ بھی نوجوان ہی تھے۔
بلا شبہ اس وقت ہماری قوم خوشحالی انقلابی ترقی کے لئے ترس رہی ہے۔قوم کے اس خواب کی اگر کوئی صحیح تعبیر دے سکتا ہے تو وہ قوم کا نوجوان ہے۔ شرطیکہ کہ قوم کے نوجوان اس انقلاب کے لئے ذہنی طور تیار ہوجائیں اوربُرائیوں و خرافات کو اپنے دل دماغ سے رخصت کرکےاپنی فکر فردا کریں۔
بغور دیکھا جائےتو موجودہ دور ہمارے معاشرہ کے نوجوان میں دو طبقوں میںبٹے ہوئے ہیں۔ایک جو  موجودہ مشکل اور پیچیدہ حالات میں بھی صحیح راہ پر گامزن ہے اور دوسرا جو اپنی غفلت،بُری صحبت اور غیر ذمہ دارنہ پرورش کی وجہ سے غلط راہوں پررواںدواں ہے۔ظاہر ہےکہ جو نوجوان غلط راستے پر ہے اُس میں مختلف قسم کی خرابیاں پیدا ہوجاتی  ہیں۔اِن خرابیوں میں سے ایک خرابی نشہ آور چیزوں(Drugs) کا استعمال بھی ہے۔اس خرابی کی ابتداء تمباکو اور سگریٹ سے ہوجاتی ہے،جوبعد میں خوفناک صورت اختیار کرلیتی ہےاور اس کا اختتام نہایت المناک و بھیانک ہوتا ہے۔گویا معاشرے کی یہ نوجوان جہاںاپنے والدین،رشتہ داروں،ہمسایوں،دوست و اقربا کے لئے وبال جان بن جاتا ہے وہاں اپنے قوم اور وطن کے لئے بھی تباہی و بُربادی کا سبب بن جاتا ہے۔اس قسم کا نوجوان طبقہ مختلف خرابیوں اور بُرائیوں کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر ذہنی سکون پانے کے لئےمنشیات کا سہارا لیتا ہے۔ شراب،چرس،دوائی کی گولیاں (Tablets)  وغیرہ کے علاوہ ٹیکے(Injection) کا استعمال کرتا ہے۔یہ ٹیکہ(Injection) ایسے نوجوان، خود ہی اپنے آپ میں (Selef inject)لگاتے ہیں، اس ایک ٹیکے(Injection) کی قیمت  ایک ہزار روپے سے 6000 روپےتک روپے ہوتی ہے۔ان انجکشنوں میں Heroin,Amphetamines,Cocain  بھی شامل ہیں۔شراب، چرس اور دیگر منشیات کا استعمال اتنا عام ہوا ہے کہ نوجوان نسل کا اس سے بچنا دشوارہوتا جارہا  ہے۔ شراب کا کاروبار اتنا فروغ پاگیاہےکہ اب دنیا کا یہ تیسرا بڑا کاروبار بن چکا ہے۔2012  کے اعداد و شمار کے مطابق منشیات استعمال کرنے والے90فیصد لوگوںکی عمر 17 سال سے 35 سال ہے۔منشیات کے استعمال کرنے سے ہر سال دنیا میں 350000 لوگوں کی اموات واقع ہوجاتی ہیں۔موجودہ دورمیں کچھ ایسے خطرناک منشیات ایجاد کئے گئے ہیںجن کا استعمال محض سونگھنا ہوتا ہے۔بیشتر نوجوان اسی نشہ کے عادی ہوچکے ہیں۔نشے کی لَت کے پھنسے نوجوانوں کا ایک گروہ ذہنی و اخلاقی طور پر اتنا پست ہوچکا ہے کہ جوتوں کی پالش اور گٹر کے غلیظ پانی تک کو بھی نہیں چھوڑتے ہیں۔کیا یہ انسان کو دَنگ کرنے والی بات نہیں ہے؟قول شاعر:
  سبھی کچھ ہو رہا ہے اس ترقی کے زمانے میں
  مگر یہ کیا غضب ہے آدمی انساں نہیں بنتا
  منشیات کے استعمال سے سب سے پہلے اللہ ناراض ہوجاتا ہے۔دوسرا،معاشرتی ماحول تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔اہم پہلو تو یہ ہے کہ قوم کا قیمتی سرمایہ ضائع ہوجاتا ہے۔معاشرہ تنزل کا شکار رہتا ہے اور ہر کوئی ہر معاملے خود کومیں غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ہر کسی کو جان و مال کی فکر لاحق رہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ منشیات استعمال کرنے والوں کو اپنی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔منشیات کے استعمال سے زیادہ تر دل کی بیماریاں(Heart diseases) پیدا ہوجاتی ہیں۔قوت ِ فکریہ اور قوت ِ عملیہ از حد متاثر ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ قوت ِمدافعت(Immunity) بھی کمزور ہوجاتی ہے۔اس لئےمنشیات استعمال کرنے والوں کو لاحق امراض کے علاج میں دوائیں بہت کم کارگر ثابت ہوجاتی ہیں۔منشیات کے استعمال سےانسان کا اعصابی نظام(Nervous system) بھی متاثرہوجاتاہے۔ خود کشی کے جوواقعات ہوتے رہتے ہیں، اکثر ان کی بنیادی وجہ منشیات کا استعمال ہی ہوتا ہے۔جو نوجوان اپنی زندگی کا خیال نہ رکھے،وہ دوسروں کی زندگی کا خیال کیسے کرسکتا ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو چور، قاتل وغیرہ ہوتے ہیں،وہ بھی منشیات کے عادی ہوتے ہیں۔ منشیات کے استعمال پر پیسے بھی ضائع ہوجاتے ہیں۔جو اصل اور جائزکام اُن پیسوںسے ہوسکتے، وہ ہونے سے رہ جاتے ہیں۔پھر پیسوں کی قلت سے پورا گھرانہ پسمانگی کی جانب بڑھ جاتا ہےاور پھرذہنی انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایک طرف جہاں ایک نوجوان کاجسم اور کیرئیرختم ہوجاتا ہے وہاں وہ اپنے گھر کے دیگر افراد کی تباہی کا بھی پیش خیمہ بن جاتا ہے۔اگر یہ بات مان بھی لی جائےکہ پیسہ دوبارہ حاصل ہوجائے،صحت بھی کسی حد تک ٹھیک ہوجائے،مگر زندگی کا جو سنہرا وقت اور کردار کی جو خوبی کہاں سے واپس آئے گی ؟
منشیات کا عادی ہونے کے بہت سے وجوہات ہوسکتے ہیں:1۔غلط دوستوں کا انتخاب اور اُن کی صحبت ایک نوجوان بُرائیوں اور خرابیوں میں ڈال دیتی ہے۔اس لئےضروری ہے کہ ایسے دوستوں سے دو ررہا جائے۔2۔بےروزگاری کی وجہ بھی نوجوانوں کو منشیات کی طرف راغب کرسکتی ہوسکتا ہے۔مگر یاد رہے کہ رزق دینے والا اللہ پاک ہے۔اس نے جو نصیب میں لکھ دیا ہے،اس پر راضی رہنا ہی فائدہ مند ہے۔3۔مسلسل ذہنی تناو بھی نوجوان کو اس لعنت میں گرفتار  ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔4۔جنسی خواہشات کو وپرا کرنے یا جنسی خواہشات کا پورا نہ ہونے سےبھی نوجوان کو منشیات کا عادی بنا سکتی ہے۔اس کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات ہوسکتے ہیں۔ نوجوانوں کا اس دلدل میں پھنسےمیں کسی حد تک اُن کے والدین ذمہ دارہیں۔والدین کی یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں۔وہ اپنے بچوں کو ضرورت سے زیادہ پیسے نہ دیںاور جتنا بھی دیں اُس کا تصرف بھی دیکھیںگویا ہر دن اپنےبچوں کا احتساب کرے کہ کس کام میں پیسہ خرچ کیا ہے۔والدین کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ اپنے بچوں کے دوستوں کو دیکھیں ،پرکھیں اور پوری طرح جانچ پڑتال کریںکہ وہ کیسے ہیں ،کیا کرتے ہیں اور کن کی صحبت میں رہتے ہیں۔تاکہ اپنے بچوں کو بُرائیوں اور خرابیوں سے محفوظ رکھ سکیں۔والدین کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ بالغ ہوتے ہی اپنے بچوں کا نکاح کروائیں۔
نوجوانوں کو اس کام سے دور رکھنے کے لئے حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ منشیات مخالف مہموں کاٹھوس بنیادوںپر آغاز کرے۔حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جو لوگ منشیات کو فروغ دیتے ہیں، اُن کے خلاف قانونی کاروائی کرے۔ حکومت کو یہ بھی چاہئے کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے تا کہ اُنہیں ذہنی سکون حاصل ہوسکیں۔غیر سرکاری تنظیمیں(NGO's) جو اس وقت میدان عمل میں ہیں،کو چاہئے کہ اس محاذ پرزیادہ کام کریںاور نوجوان نسل کو اس لعنت میں گرفتارہونے سے بچ جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ذی شعورا فرادکی بھی بحیثیت اجتماعی یا انفرادی یہ ایک اہم ذمہ داری ہے کہ منشیات کی وبا کو فروغ دینے کی ہر کوشش کے خلاف اپنی آواز بلند کریںاور اُن عناصر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجائیںجو بُرائیوں اور خرابیوں کو فروغ دینے میں ملوث ہوں۔ منشیات کا کاروبار کرنے والے شیطان صفت لوگوں کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہئے کہ موجودہ دور میں جس طرح وہ دوسروں کے گھروں کو آگ میں جھونک دیتے ہیں،کل اُسی طرح کوئی اور اُن کے گھروں میںبھی آگ لگا سکتا ہے۔
  اللہ ہر کسی کو اس لعنت سے دور رکھیں۔آمین۔
ایسو شانگس،فون9149897428
yasirkutay2000@gmail.com