تازہ ترین

آفات سےنمٹنے کے سرکاری دعوے ۔۔۔؟

تاریخ    10 جنوری 2022 (15 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
گزشتہ چند روز سے ہو رہی برفباری سے کشمیر، پیر پنچال اور چناب خطوں میں لوگوں کو جس پریشانی کا سامنا ہوا ہے اسکا اندازہ لگانا اگرچہ مشکل نہیں تھا، کیونکہ محکمہ موسمیات کی طرف سے درمیانہ سے بھاری پیمانے کی برفباری کی پیش گوئی کی گئی تھی لیکن افسوس کا مقام ہے کہ خراب موسمی حالات کے حوالے سے ماضی کے تجربات سے کوئی سبق حاصل کرنے کی بجائے، ایسا ثابت ہوا ہے کہ انتظامیہ خواب خرگوش میں تھی۔ جبھی تو فی الوقت مذکورہ بالا تینوں خطوں میں بڑی تعداد میں رابطہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے عبور و مرور کا سلسلہ بُری طرح متاثر ہوگیا ہے۔ روز مرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بجلی کی فراہمی کا عالم یہ ہے کہ شہرکی بستیوں اور قصبہ جات میںبجلی کا سپلائی نظام درہم برہم ہوگیاہے اور کئی علاقوں میں مسلسل بیسیوں گھنٹوں تک پاور سپلائی متاثر ہوگئی۔ اب اگرچہ اسمیں بہتری آنے لگی ہے مگر کئی علاقے ابھی بھی پریشانیوں میں ہیں۔ وادی کشمیر کے شمال اور جنوب میں تازہ برفباری سے برقی سپلائی کا ڈھانچہ ہی جیسے مہندم ہو کر رہ گیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ برفباری سے بجلی کی ترسیلی ڈھانچے اور کھمبوں کو زبردست نقصان پہنچا ہے، لیکن موجود ہ حکومت روز اول سے یہ دعوے کرتی رہی ہے کہ موسمیاتی خرابی سے نمٹنے کےلئے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور تمام اضلاع میں ایمر جنسی سے نمٹنے کےلئے مراکز قائم کئے گئے ہیں، لیکن جس عنوان سے بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو کر رہ گیا ہے، اُس  سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انتظامیہ صرف ایڈوائزریاں جاری کرنے تک سنجیدہ تھی لیکن قدرتی آفت سے نمٹنے کےلئے کوئی تیاری نہیں کی گئی ۔وادی کی کلیدی سڑکوں سے اگرچہ برف ہٹانے کا کام سرعت سے کیا گیا لیکن دور دراز دیہات میں سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام ہنوز نہیں ہوا ہے، جسکی وجہ سے کئی دیہات میں لوگوں کو کاندھوں پر اٹھاکے مریضوں کو ہسپتال پہنچانے پر مجبور ہونا پڑا۔ گورنر انتظامیہ جہاں انتظامی امور میں فوری فیصلے صادر کرنے میں پیش پیش رہتی ہے ، اور اس رجحان کے ذریعہ سابق حکومتوں کے ذمہ داروں کو نیچا دکھانے کےلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا ،لیکن مجموعی طور پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ موجودہ انتظامیہ کو عوام الناس کی فکر کے بجائے نجکاری کے مفادات کی فکر دامنگیر ہے، جو بجلی اور دیگر بنیادی معاملات کے ڈھانچوں کےلئے جدت طرازی کے نام پر خرید و فروخت کے ساتھ جُڑی ہوتی ہے، وگرنہ اندھیرگردی کے اس عالم میں حکومت کا روز بجلی کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے پر مرکوز ہونا چاہئے تھا نہ کہ بنیادی خدمات کے شعبوں کی نجکاری کی تیاریوں پر جیسے کہ بجلی شعبہ میں پری پیڈ میٹر خریدنے پر، جس پر سینکڑوں کروڑ روپے صرف ہونے کا تخمینہ ہے، اور جو براہ راست اُس کارپوریٹ سیکٹر کے مفاد میں ہے، جس کے حکومتوں کے ساتھ مخصوص رشتے ہوتے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عام لوگوں کی بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی مفادات کی روشنی میں کام کئے جاتے مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو دو دن کی برفباری  سے سرکار کی پول نہیں کُھل جاتی۔ یہ شاید ہی بتانے کی بات ہے کہ گائوں دیہات میں لوگوں کو مریضوں کو کاندھوں پر اُٹھا کر علاج ومعالجہ کےلئے دسیوں میل کا سفر پیدل طے کرنا پڑرہا ہے۔ دور دراز علاقوں میں ضروری غذائی اشیاء کی ترسیل کا سلسلہ متاثر ہوگیا ہے اور فی الوقت سرینگر جموں شاہراہ کی جو صورتحال ہے، برف پگھلنے کے بعد اس پر بھاری پسیاں گرا ٓنے کا قوی اندیشہ ہے اور ایسے حالات میں آنے والے ایام کےد وران شاہراہ کے وقفے وقفے سے درماندہ ہونےکا خدشہ برقرار ہے،جس سے وادی میں غذائی اجناس کی سپلائی پوزیشن متاثر ہوسکتی ہے۔ مگر اس حوالے سے حکومت کی بے تعلقی نہایت ہی افسوسناک اور شرمندگی کا باعث ہے۔ ریاستی حکومت کو سیاسی مسائل اور معاملات کی  بجاے عوامی مفادات کے حامل امور پر توجہ مرکوز کرنے کو ترجیح دینی چاہئے۔
 

تازہ ترین