تازہ ترین

انسان اوروحوش کا ٹکرائو

نظامِ قدرت میں خلل کا شاخسانہ

تاریخ    8 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


یہ ہمارا اجتماعی تجربہ ہے کہ اگر چیزوں کو متوازن حالت میں کام کرنے دیا جائے تو ہم کسی بھی رشتے کے نقصان دہ پہلو کو کم سے کم کر سکتے ہیں۔ اب انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان تعامل کی مثال لیں۔ یہ ایک پرانا رجحان ہے اور انسان نے مختلف جنگلی جانوروں کو مختلف طرح استعمال میں لایا ہے۔ ایک ہی وقت میں دونوں آزاد دائروں میں رہتے ہیں بغیر ایک دوسرے کی جگہ میں گھس آئے۔جنگلی جانوروں کے انسانی رہائش گاہوں میں داخل ہونے کا شاید ہی کوئی امکان تھا۔ لیکن اب سب کچھ بہت بدل گیا ہے۔ انسانی آبادیوں کی ان علاقوں تک وسعت جو خالصتا ً جنگلی سمجھے جاتے تھے ،نے یہ سب بدل دیا۔ اور جب ہم نے اس فطری نظام میں خلل پیدا کی تو اب ہم اپنی زندگی کے ساتھ اس کی قیمت بھی ادا کر رہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں ہمیں اکثر یہ خبرسننے کو ملتی ہے کہ ریچھ یا تیندواکسی گاؤں میں داخل ہوا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بعض اوقات جنگلی جانور چپکے سے گھر کے احاطے میں گھس کرانسانی زندگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جانوروں کے حقوق کے حوالے سے جدید دور کی حساسیت کے پیش نظر انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم میڈیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ جانوروں کو نقصان نہ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اس سے کچھ قانونی کارروائی کا خدشہ رہتا ہے۔ اس نے ایک مسائل کا انبار کھڑا کردیا ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال یہ ہے کہ ہم گلی کے آوارہ کتوں کے قہر کے خلاف کس طرح بے دفاع اور بے بس بھی ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے انسان وحوش تنازعات میں بہت سی جانیں کھو دی ہیں اور یہ تشویش کی بات ہے۔آئے روز بستیوں میں جنگلی جانوروں کی طرف سے انسانوں پر حملوں اور جانوں کے زیاں کی خبریں آتی ہیں اور بڑھتی تعدد نے اسے ایک عمومی موضوع بنا دیا ہے لیکن جانی نقصان ہم سب کے لئے باعث تشویش ہونا چاہئے۔ اب وقت آگیا ہے کہ کچھ سنجیدگی سے غور کریں اور اپنے آپ سے پوچھیں کہ ایسا تنازعہ کیوں ہوتا ہے ، اور ہم انسانی جانیں بچانے میں کیوں ناکام رہتے ہیں۔ ایک بات جو ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ انسانوں نے جنگلی مسکن کو پریشان کر دیا ہے اور یہی چیز ان جانوروں کو انسانی آبادی میں جانے پر مجبور کرتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک جامع پالیسی ہونی چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جنگلات کے علاقوں پر کوئی تجاوز نہ ہو ، اور جنگلی زندگی کو قدرتی حالت میں پنپنے دیا جائے۔انسان اور جنگلی جانوروں کے مابین تصادم کا مسئلہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ اس عا لم ِ رنگ و بو کا وجوداور فریقِ اوّ ل نے ہمیشہ فریق ِ ثانی پر اس کی تمام تر وحشت ، خونخواری اور طاقت کے باوجود غلبہ پایا ہے۔لیکن بارہا پانسہ پلٹ بھی جاتا ہے اور غالب مغلوب ہو کر جنگلی جانوروں کی درندگی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں پہنچ جاتا ہے۔ جنگلی درندوں کے بارے میں ما ہرین کا کہنا ہے کہ وہ تب تک انسانوں پر حملہ آور نہیں ہوتے جب تک انہیں اپنے لئے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا یا پھر دونوں کا براہِ راست آمنا سامنا نہیں ہوتا۔ یعنی ان کے لئے ایک طرح سے یہ بقا کی لڑائی ہو تی ہے اور یہ جبلت دنیا کی ہر زندہ شے میں پائی جاتی ہے۔ لیکن جب درندے اپنی فطری خوراک کے علاقوں کو چھوڑ کر بستیوں کا رخ کر کے انسانوں کا شکار کرنے لگتے ہیں تو یہ ایک تشویشناک اور غیر فطری رجحان ہے جس پر غور و فکر کرنا اور اس کے سدِ باب کے لئے اقدامات کرنا حکومت ، حکومتی ایجنسیوں ، انتظامیہ اور سول سو سائٹی کی یکساں ذمہ داری بن جاتا ہے ۔ بد قسمتی سے حکومتی ایجنسیاں خصوصی طور پر محکمہ وائلڈ لائف اپنے اُن فرائض کو انجام دینے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے جس کے لئے اس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ محکمہ متعلقہ کے اہلکار متاثرہ مقام پر اس وقت پہنچتے ہیں جب یا تو جنگلی درندے اپنی کارروائی انجام دے کر فرار ہوچکے ہو تے ہیں یا مشتعل لوگوں کے انتقام کی نذر ہو چکے ہو تے ہیں۔ یہ محکمہ عملی سے زیادہ نمائشی بن چکا ہے جس کے پاس وافر تربیت یافتہ عملہ ہے اور نہ جنگلی جانوروں کو قابو کر نے کے لئے ضروری ساز و سامان موجود ہے۔ البتہ کبھی کبھار دیہی لوگوں کو جنگلی درندوں کے حملوں سے بچنے کے لئے کچھ گھسے پٹے ٹوٹکے ضرور سجھائے جاتے ہیں جن پر اگر عمل کیا جائے تو شائد دیہات میں روز مرہ کی زندگی کی تمام سرگرمیاں ختم کر دینی پڑیں گی۔ اس میں شک نہیں کہ ان درندوں میں سے کچھ ناپید ہو نے کے دہانے پر ہیں اورحیاتیاتی توازن بنائے رکھنے کے لئے ان کا تحفظ ضروری ہے لیکن یہ حقیقت بھی تسلیم کی جانی چاہئے کہ انسانی جانوں کے اتلاف کی قیمت پر ا یسا کرنایک غیر انسانی اور غیر فطری رویہ ہے جس کی اجازت شائد کوئی بھی مہذب سماج نہیں دے سکتا۔پہلی ترجیح انسانوں کا تحفظ ہونا چاہئے جس کے بعد جنگلی جانوروں کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔اس کے لئے سب سے پہلی ذمہ داری محکمہ وائلڈ لائف کی بنتی ہے کہ وہ انسانوں اور جانوروں کے تحفظ کے لئے قلیل مدتی اور طویل مدتی اقدامات کرے جس کیلئے اسے محکمہ جنگلات کی طرز پر اور اس کے تعاون سے ہر اس علاقہ میں اپنے تربیت یافتہ ملازمین تعینات کر نے چاہئیں جہاں جنگلی درندوں کی موجودگی پائی جاتی ہے اور ان کے بستیوں پر حملے کر نے کے امکانات ہیںتاکہ انسانی آبادی کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
 

تازہ ترین