تازہ ترین

سال2021،کووِڈ- 19کے باوجود کشمیر میں سیاحتی سیزن کامیاب رہا

ساڑھے چھ لاکھ سیاح وادی وارد،52لاکھ یاتریوں نے ماتاویشنودیوی کے درشن کئے

تاریخ    2 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


یواین آئی
 سری نگر// کورونا اور دوسرے سیکورٹی تحفظات کے باوصف بھی سال2021 کے دوران لاکھوں کی تعداد میں غیر مقامی سیاح وادی کشمیر کے بے مثال قدرتی حسن و جمال کے مناظر سے لطف اندوز ہوگئے ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال گذشتہ کے دوران ساڑھے چھ لاکھ غیر مقامی سیاحوں نے کشمیر کی سیر کی۔سال میں ماہ نومبر نے سب سے زیادہ تعداد میں غیر مقامی سیاحوں کی میزبانی کی۔ اس ماہ کے دوران ایک لاکھ 27 ہزار سیاح یہاں آئے جن میں 155 غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے ۔محکمہ سیاحت کشمیر کے ناظم ڈاکٹر جی این یتو نے کو بتایا کہ کشمیر میں سال2020 کے مقابلے میں سال2021 کا سیاحتی سیزن شاندار رہا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں سال 2017، 2018 اور سال2019 کے ابتدائی مہینوں کے دوران بھی سیاحتی سیزن بہت ہی اچھا تھا لیکن اس کے بعد پہلے نامساعد حالات اور پھر کورونا کے پھیلاؤ سے یہ شعبہ ٹھپ ہوگیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کشمیر میں سیاحتی شعبے کو فروغ دینے کے لئے ملک بھر میں مختلف نوعیت کے پرگراموں کا انعقاد کیا جن کے انتہائی مثبت نتائج بر آمد ہوئے ۔موصوف ناظم نے کہا کہ وادی کے مشہور سیاحتی مقامات گلمرگ، پہلگام اور سونہ مرگ میں کرسمس کا تہوار منایا گیا جن میں سینکڑوں کی تعداد میں غیر مقامی سیاحوں نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ گلمرگ کی سیر مقامی و غیر مقامی سیاحوں کی ہمیشہ اولین ترجیح رہتی ہے اور دسمبر 2021 تک تین لاکھ 38 ہزار سیاح اس کے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوگئے ۔کشمیر ہاؤس بوٹ اونرس ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری عبدالرشید نے بتایا کہ سال2021 کا سیاحتی سیزن گذشتہ دو برسوں کے سیاحتی سیزن سے کافی بہتر تھا۔انہوں نے کہا کہ اس سیزن کے دوران سیاحوں کی تعداد میں 60 سے 70 فیصد اضافہ درج ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سیزن کے دوران جھیل ڈل، نگین جھیل اور دریائے جہلم کی ہاؤس بوٹوں میں سیاحوں کا رش رہا جس سے اس شعبے سے جڑے لوگوں کی روزی روٹی کی سبیل ہوگئی۔موصوف نے کہا کہ تاہم کورونا اور اومی کرون کی وجہ سے غیر ملکی سیاحوں کی کمی محسوس ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سیاح ہاؤس بوٹوں میں بیھٹنے کو زیادہ تر جیح دیتے تھے اور وہ یہاں کے قالین اور دوسری دستکاری کی چیزیں بھی بڑی تعداد میں خریدتے تھے جس نے ان شعبوں سے وابستہ لوگوں کے گھروں میں چولھے جلنے کا بندوبست ہوجاتا تھا۔خیبر ہمالین ریزورٹس جس کے تحت وادی میں کئی ہوٹل چل رہے ہیں، کے روف ترمبو نے کہا کہ سال2021 کے ماہ نومبر اور دسمبر میں سیاحوں کی بھاری تعداد وارد وادی ہوئی ورنہ سال کے ابتدائی مہینوں کے دوران یہاں سیاحوں کا کوئی خاص رش نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ گلمرگ میں ‘کھیلو انڈیا کھیلو’ کی گیمز کے انعقاد نے سیاحتی شعبے کی جان میں جان ڈال دی۔ان کا کہنا تھا کہ گلمرگ میں ماہ نومبر اور دسمبر میں غیر مقامی سیاحوں کا غیر معمولی رش دیکھنے کو مل گیا جس سے گذشتہ دو برسوں کی کسر کافی حد تک نکل گئی۔انہوں نے محکمہ سیاحت کی کشمیر میں سیاحتی شعبوں کو فروغ دینے کی کاوشوں کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکمے کی انتھک کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ کشمیر میں یہ شعبہ بتدریج پٹری پر واپس آ رہا ہے ۔صوبہ جموں میں بھی سال 2021 کے دوران سیاحتی شعبہ کافی شاندار اور کامیاب رہا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال2021 کے دوران 99 لاکھ 84 ہزار 3 سو 78 سیاحوں نے صوبہ جموں کے مختلف سیاحتی مقامات کی سیر کی۔ان سیاحوں میں سے 52 لاکھ24 ہزار 1 سو 53 یاتری ضلع ریاسی میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی مندر کے درشن سے فیض یاب ہوگئے ۔سال 2020 کے دوران صرف 3 لاکھ 43 ہزار 8 سو 86 سیاح ہی جموں کی سیر پر آ سکے کیونکہ اس سال کورونا کی وجہ سے سیاحوں کی نقل و حمل پر زیادہ پابندیاں عائد رہیں۔سال2019 کے دوران زائد از ڈیڑھ کروڑ سیاح جموں کے مختلف سیاحتی مقامات پر پہنچ گئے تاہم ان میں سے بھی زیادہ تعداد شری ماتا ویشنو دیوی کی یاترا پر جانے والے یاتریوں کی ہی تھی۔