غزلیات

تاریخ    2 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


 
دنیا ہے محبت کی انسان محبت کا 
روکا نہیں جاسکتا طوفان محبت کا 
 
راحت کے نگر میں ہے فقدان محبت کا 
انسان اٹھاتا ہے نقصان محبت کا 
 
ہاتھوں میں اٹھایا ہے میزان محبت کا 
عادل نے بسایا ہے ایوان محبت کا 
 
آدم کبھی لایا تھا ایمان محبت پر 
انسان یہاں پر ہے دربان محبت کا 
 
ترسیں ہوئی آنکھیں ہیں بھیگا ہوا کاجل ہے 
نفرت کے نگر میں ہے امکان محبت کا 
 
جلتے ہوئے ماتھے پر شبنم کی ہتھیلی ہے 
ہے پیکرِ آتش پر احسان محبت کا 
 
اس شہرِ عداوت میں اعجاز کیا کس نے 
جاری ہوا ہے عادلؔ فرمان محبت کا 
 
اشرف عادل ؔ
الٰہی باغ سرینگر ،موبائل نمبر؛ 7780806455
 
 
 
گھر کا آنگن یاد آیا
اُجڑا گُلشن یاد آیا
وادی کی پھر یاد آئی 
اپنا مسکن یاد آیا
کِتنی باتیں یاد آئیں
جب ہے بچپن یاد آیا
چھوڑ آئے جو وادی میں
وہ اپنا دھن یاد آیا
وادی میں جو حاصل تھا
وہ اپنا پن یاد آیا
جو اپنی تہذیب میں ہے 
تواریخ کا درپن یاد آیا
اپنے یاد آئے ہیں ہتاشؔ
جب کوئی دُشمن یاد آیا
 
پیارے ہتاش 
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 
اب کے کھلونے کم ہی مجھ کو بھاتے ہیں
چاند نگر سے جوگی لُٹ کر آتے ہیں
غیر تو غیر ہیں شکوہ کیا  بے گانوں کا
کتنے ستم اپنے بھی ہم پر ڈھاتے ہیں
پہلے تھی شہروں کی فضائیں کتنی شانت
اب ہر موڈ پہ کالے کوے ستاتے ہیں
دل کی باتیں بن بنجارے کی آواز
دور خلاء میں پنچھی اُڑ کر آتے ہیں
جو گزری ہے اُسکا نشاں تو کچھ بھی نہیں
ہاں کم زیادہ شبدوں میں ڈھل جاتے ہیں
 
مشتاق مہدی
مدینہ کالونی۔ ملہ باغ حضرت بل سرینگر
فون نمبر9419072053
 
 
میں سوال ہوں کہ جواب ہوں
ترے ہاتھوں لکھی کتاب ہوں
مرا لفظ لفظ ہے معتبر 
میں حقیقتوں کا نصاب ہوں
تو سنوار دے تو ہوں اک دعا 
تو بگاڑ دے تو عذاب ہوں
جسے اک سحر کی ہے آرزو
اسی ڈھلتی شب کا میں خواب ہوں
جو تو چاہ کر بھی نہ کہہ سکا
میں اس اُن کہی کا جواب ہوں
مری عظمتوں کا ہے تاج تُو
تری عزتوں کا میں باب ہوں
جسے چُھو سکی نہ خزاں کبھی
ترے باغ کا وہ شباب ہوں
مجھے خود پہ ناز ہے بس یہی
کہ میں خادمِ بو تراب کر سکتے ہیں
 
عرفان عارف
صدر شعبہ اردو کامرس کالج جموں
موبائل نمبر؛9682698032
 
 
 
 
ظلمت کے سوا پیشِ نظر کچھ بھی نہیں ہے 
ہاتھوں میں دیا زادِ سفر کچھ بھی نہیں ہے
آندھی کا کوئی خوف و خطر کچھ بھی نہیں ہے 
بستی میں مرے نام کا گھر کچھ بھی نہیں ہے
رستے کی نہ منزل کی خبرجان  سکا میں 
کس سمت چلا جاؤں خبر کچھ بھی نہیں ہے
قسمت میں نہیں زخمِ جگر کے ہے شفا کچھ
یا اب کے دعاؤں میں اثر کچھ بھی نہیں ہے
آثار طلاطم کے ابھی اور میں تنہا 
بستی میں کوئی فردِ بشر کچھ بھی نہیں ہے
محفوظ رہوں کیسے میں اس موجِ بلا سے
دیوار کوئی پاس شجر کچھ بھی نہیں ہے
عارف ؔیہ کیا رب نے عطا فیض اسی کا
ہاتھوں میں مرے ورنہ ہنر کچھ بھی نہیں ہے 
 
جاوید عارفؔ
 شوپیان کشمیر
موبائل نمبر؛7006800298
 
 
المیہ یہ کہ انصاف ہے مر گیا
جرمِ اقرار مظلوم ہی کر گیا
 
سامنا کرنے نکلا تھا طوفان کا
ایک جھونکے کی آہٹ سے وہ ڈر گیا
 
پھول رکھتا تھا جو اپنی دہلیز پر
میرا دامن تو کانٹوں سے وہ بھر گیا
 
عمر بھر جو مرے گھر نہ آیا کبھی
ہاں وہی شخص پھر دل میں گھر کر گیا
 
ہائے وہ سنگِ در بھی نہ ہم کو ملا
بات اِک در کی تھی درد بدر کر گیا
 
عقیلؔ فاروق 
بنہ بازار شوپیان 
موبائل نمبر؛7006542670
 
 
اگر یہاں نہ ہوتا تو کہاں ہوتا
تو جہاں جہاں ہوتا میں وہاں ہوتا
تو مرکزِ حیات، وجہہ تخلیقِ کاینات
تو ہی نہ ہوتا یہ جہاں کہاں ہوتا
ہم ٹھہرے ترے در کے مسافر
ہم نہ ہوتے تو فلاں فلاں ہوتا
ہوتی اگر نہ یہ ٹھوس سی حقیقت
خدا جانے کیا گمانِ گماں ہوتا
دیوارِ پردہ بھی سہی مگر سوچو تو
کیوں کر نہ عرش و آسماں ہوتا
ہم تُم، یہ وہ نہ ہوتا تو پھر
نہ جانے کیسے تذکرہء یزداں ہوتا
میں بھی طور کی طرح جل گیا ہوتا
اگر نہ پردہء سجاب درمیاں ہوتا
وعدہ فردا پہ اعتبار ہے کچھ ورنہ
ہمیں بھی ارمانِ بہارِ جاوداں ہوتا
شکر ہے، وہ مری آنکھیں پڑھ کر گیا
شاید ہم سے نہ معاملہ بیاں ہوتا
 
میر شہریار
سریگفوارہ،اننت ناگ
موبائل نمبر؛7780895105
 
 
ہر آنکھ ہے پُرنم اب یا رب، سب روحیں پریشاں منظر ہیں
دل خون کے آنسوں روتا ہے کیوں دانشِ چمن تہہ بستر ہیں
 
ہیں سائے طلسِمِ شام و سحر ہر ایک گلی ہر ایک ڈگر
اب رقصِ اجل کے درپردہ رنگین تماشے برسرہیں
 
ہے راہِ عَلم اور مشعلِ راہ یزدانِ جفا کے ہاتھوں میں
رہزن بھی لِبادہ اوڑھے ہوئے خود ساختہ بانی ورہبر ہیں
 
یہ کیسا شیوۂ انساں ہے، حق و عدل کا کوئی شناس نہیں
پس غرق غرورِ غفلت ہیں، افوائیں صنم سے برتر ہیں
 
تعبیرِ وفا ایثار کا دعویٰ خالق کی رضا سمجھائے کون
اب کس کو بُلائیں فلک سے حسنؔ سے کہتے فلک کے ہم سِر ہیں
 
حسن کشمیری
دردپورہ، کپواڑہ، موبائل نمبر؛9906721430
 
 
غم سے ملتی کیسے نجات مجھے
دے رہا وقت ہر پل مات مجھے
 
تھی بڑی اُمید راحت کی مگر
آنسوں کی ملی سوغات مجھے
 
صبح تک کیسے جیوں اس حال میں
ناگ بن کر ڈس رہی رات مجھے
 
بھولنا چاہا مگر وقتِ آخر
یاد آئی تمہاری بات مجھے
 
قاتل بنے جب سے مصنف سعیدؔ
جینا پڑا ہے اُن کے ساتھ مجھے
 
سعید احمد سعید
احمد نگر سرینگر،(مقیم حال) کوکس ٹائون بنگلور
موبائل نمبر؛9906355293

تازہ ترین