اُمّت کا اسلامی تصّور

تاریخ    30 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


عذراء زمرود
انسانوں کے درمیان نسل ،رنگ،زبان،علاقہ،قومیت اور دیگر چیزوں کے جو تعصبات پیدا ہوگئے ہیں،اسلام انھیں غلط قرار دیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان اگر کوئی فرق ہو سکتا ہے تو وہ نسل، رنگ،زبان اور وطن کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقائد وافکار،عمل اور اخلاق کی بنیاد پر ہوسکتا ہے۔اسلام دنیا کے تمام نسلی اور قومی معاشروں کے برعکس ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے،جس میں انسانوں کے درمیان باہم رابطہ کی بنیاد پیدائش نہیں بلکہ ایک عقیدہ اور ایک اخلاقی ضابطہ ہو ۔ جو شخص بھی اس عقیدہ کو مانے اور اس اخلاقی ضابطہ پر عمل پیرا ہو، وہ اس معاشرہ میں شامل ہو سکتا ہے،خواہ وہ کسی نسل سے تعلق رکھتا ہویا کسی رنگ کا ہو اور کوئی بھی زبان بولتا ہو۔ اس معاشرہ میں شامل تمام انسانوں کے حقوق اور سماجی مرتبے یکساں ہوں گے ۔ ان کے درمیان کسی طرح کی اونچ نیچ، بھید بھاؤ اور تفاوت نہ ہوگا۔ قرآن کریم میں ایسے افراد کے لیے ' امت کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔اللہ کا ارشاد ہے: ’’یہ تمہاری امت حقیقت میں ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں۔ پس تم میری عبادت کرو‘‘( الانبياء:٩٢)
شروع میں تمام انسان ایک ہی امت تھے اور ایک ہی دین کے ماننے والے تھے۔ پھر لوگوں نے اپنی اپنی سوچ اور اپنے اپنے مفادات کے مطابق صراط مستقیم میں سے پگڈنڈیاں نکال لیں ،مختلف گروہوں نے نئے نئے راستے بنا لیے اور اُن غلط راستوں پر وہ اتنی دور چلے گئے کہ اصل دین مسخ ہو کر رہ گیا اور اب ان مختلف گروہوں کے نظریات کی یہ مغائرت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ’پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی ‘!یعنی آج بہت سے مذاہب کی اصلی شکل کو پہچاننا بھی ممکن نہیں رہا۔ ان کے بگڑے ہوئے عقائد کو دیکھ کریقین نہیں آتا کہ کبھی ان کا تعلق بھی دین حق سے تھا۔ بہر حال حقیقت یہی ہے کہ تمام انبیا ورسل علیہ السلام کا تعلق ایک ہی اُمت سے تھا۔ وہ سب ایک ہی اللہ کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے ۔کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ ابتدا میں تمام انسان راہ راست پر قائم تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں زندگی گزارنے کا جو طریقہ بتایا تھا ،اس پر عمل پیرا تھے ، اس کے اوامر کو بجالاتے اور اس کی منہیات سے بچتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ ان میں انحراف آنے لگا ، نفسانی خواہشات سر اٹھانے لگیں ، اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو وہ فراموش کرنے لگے اور سیدھے راستے سے بھٹکنے لگے۔ اُن کے درمیان اتحاد واتفاق باقی نہ رہ سکا، کچھ لوگ سیدھی راہ پر قائم رہے اور کچھ غلط راہوں پر جا پڑے۔ اس حقیقت کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:’’ابتدا میں سارے انسان ایک ہی امت تھے ،پھر انھوں نے اختلاف کیا‘‘( يونس:١٩)
 
یعنی سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بعد کافی مدت تک لوگ ایک ہی دین پر رہے پھر اختلاف کرکے فرقے بن گئے، کچھ لوگ تو سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات تسلیم کرنے کے بعد ان کے ہی پجاری بن گئے اور کچھ لوگوں نے اپنے بزرگوں کے مجسمے بناکر ان کی عبادت کرنے لگے ۔ توحید کی سیدھی راہ کو چھوڑ کر شرک کی راہوں پر جا پڑے۔اصل میں اختلاف کا مطلب ہے کہ بعد کے زمانوں میں تمام لوگ حق پر قائم نہ رہ سکے۔ بعض لوگوں میں طرح طرح کی برا ئیاں پیدا ہوگئیں۔ انھوں نے مختلف مظاہر کائنات کو خدائی میں شریک کر لیااورسورج،چاند،ستاروں، درختوں۔ جانوروں اور دریاؤں وغیرہ کی پرستش شروع کر دی۔ مٹی وپتھر کے بت بنا کر انھیں پوجنے لگے ۔انسانی آبادی دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلی اور مختلف قومیں وجود میں آگئیں۔ان قوموں کے مذاہب جدا جدا ہو گئے۔لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے قانون کو فراموش کرکے اپنی خواہشات کی پیروی شروع کر دی،جاہلانہ رسمیں ایجاد کر لی گئیں اور انہیں حقیقی دین سمجھا جانے لگا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر بھیجے اور ان کے ساتھ اپنی روشن تعلیمات بھی بھیجیں تاکہ لوگوں کے درمیان حق اور باطل، صحیح اور غلط کھل کر سامنے آجائیں۔ پیغمبروں نے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا پیغام پیش کیا، ایک خدا کی پرستش کی دعوت دی، شرک و بت پرستی سے روکا، صاف الفاظ میں انھیں آگاہ کیا کہ کن کاموں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور کن کاموں سے ناراض۔ کن کاموں پر وہ انہیں اپنے اجروانعام سے نوازے گا اور کون سے کام اس کے غیظ وغضب کو بھڑکاتی ہیں۔ اس طرح پیغمبروں اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کےذریعے لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ ہوگا اور حق و باطل کے درمیان امتیاز قائم ہو گیا۔ قرآن مجید بیان کرتاہے: ’’( ابتدا میں) سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے ( پر حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے) تب اللہ تعالیٰ نے نبی بھیجے، جو راست روی پر بشارت دینے والے اور ( کج روی کے نتائج سے) ڈرانے والے تھے اور ان کے ساتھ کتاب حق برحق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کےجو اختلافات رونما ہو گئے تھے، ان کا فیصلہ کرے‘‘( البقره:٢١٣)
بہرحال جو لوگ اسلام پر قائم ہوں،قرآن انھیں ایک امت قرار دیتا ہے۔وہ ان کے درمیان حقوق کے معاملے میں کوئی تفریق روا نہیں رکھتا اور نسل و رنگ وعلاقہ کی حد بندیوں کو توڑکر انسانوں کی ایک عالم گیر برادری قائم کرتاہے۔نسلی اور وطنی معاشروں میں تو صرف انہی لوگوں کو شامل ہونے کا حق ملتا ہے جو کسی خاص نسل کے ہوں یا کسی وطن میں پیدا ہوئے ہوں۔ اس سے باہر کے لوگوں پر اس معاشرے کا دروازہ بند رہتا ہے،مگر اسلامی معاشرہ میں ہر وہ شخص مساوی حقوق کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے جو مسلمان ہو۔ اس طرح وہ مسلم امت کا ایک فرد بن جاتا ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو حقیقتاً ایک بنائیں۔ آمین یارب العالمین
(تاری گام ،کلگام )
 

تازہ ترین