اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں میں 70 فیصد بچے اور خواتین شامل: رپورٹ

یو این آئی

غزہ// اقوام متحدہ کی مشرق وسطی میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں 3 ہفتوں سے جاری اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے 70 فیصد بچے اور خواتین تھیں۔
لازارینی نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر غور کرنے کے لیے منعقدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں غزہ کے بارے میں اپنے جائزے پیش کیے۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے خلاف کوئی جگہ محفوظ نہ ہونے پر زور دینے والے لازارینی نے بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں غزہ میں ہلاک ہونے والوں میں سے تقریباً 70 فیصد بچے اور خواتین ہیں۔”
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے بھی نشاندہی کی کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کی وجہ سے اب تک 3,400 سے زائد بچے ہلاک اور 6,300 سے زائد بچے زخمی ہو چکے ہیں۔
رسل نے کہا کہ”اس کا یہ مطلب ہے کہ غزہ میں روزانہ 420 سے زیادہ بچے ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں، یہ ایک ایسا اعداد و شمار ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو ہلا کر رکھ دے گا۔”
غزہ میں فلسطینی وزارت صحت نے 212 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ بھی شائع کی ہے جس میں 7 سے 26 اکتوبر کے درمیان غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں کے نام، شناخت اور عمریں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 7 سے 26 اکتوبر کے درمیان اسرائیلی حملوں میں مرنے والے 7,028 افراد میں سے 2,913 بچے تھے۔اسرائیلی حملوں میں 444 بچے جن میں ایک سال سے کم عمر کے 133 بچے، 153 ایک سال کےاور 158 دو برس کی عمر کے تھے۔حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے 2,262 خواتین تھیں جبکہ 60 سال سے زائد عمر کے 462 افراد مارے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملوں میں ہلاک ہونے والے 281 افراد کی شناخت نہیں ہو سکی۔