35اے پر پائی جارہی غیر یقینیت سابق پی ڈی پی حکومت کی دین: نیشنل کانفرنس

 سرینگر//سابق پی ڈی پی اور بھاجپا مخلوط حکومت کا ’ایجنڈا آف الائنس‘ اصل میں جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنا تھا ، آر ایس ایس سمیت تمام بھگوا جماعتیں جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کی کوششوں میں آج بھی مصروف ہیں اور قلم دوات جماعت والوں نے اقتدار میں رہ کر ان کی کوششوں کو کھلے عام دوام بخشا۔ 35اے پر غیر یقینیت اور ریاست کے تینوں خطوں کے عوام میں اس دفعہ سے متعلق پائی جارہی تشویش بھی پی ڈی پی حکومت کی ہی دین ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جنرل سکریٹری نے کہا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن اور یہاں کی شناخت کو ختم کرنے کیلئے جس طرح سابق پی ڈی پی سرکار ناگپور کے فرمانوں پر عمل پیرا رہی وہ کشمیری قوم کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتی۔ سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت میں دفعہ370 اور دفعہ35A(سٹیٹ سبجیکٹ قانون) کو کمزور کرنے کیلئے طرح طرح کے حربے اپنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ قلم دوات جماعت کی سرکار کی مہربانی سے آج ریاست کا بچہ بچہ اپنی شناخت ، پہنچان اور کشمیریت کے بچائو کے تئیں فکر مند ہے کیونکہ انہی خصوصیات کی وجہ سے ریاست کو انفرادیت حاصل ہے اور یہاں کا آبادیاتی تناسب برقرار ہے۔
 

اب 35اے تماشہ بند ہو

 اقوام متحدہ قرار دادوںپر بات شروع کی جائے:انجینئر 

سرینگر//اے آئی پی سربراہ انجینئر رشید نے سپریم کورٹ میں 35-Aکے متعلق دائر عرضداشت پر ہونے والی سماعت کو 19جنوری تک ملتوی کئے جانے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لکھنپور سے لیکر کرناہ تک ہر ریاستی باشندے کو یہ امید تھی کہ سپریم کورٹ ریاست کے لوگوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے مذکور ہ عرضداشت کو خارج کرے گی ۔ اپنے بیان میں انجینئر رشید نے کہا ’’جس طرح سپریم کورٹ نے ریاستی اور مرکزی سرکار کی اس دلیل کہ ریاست میں پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر شنوائی کو ملتوی کیا جائے کو مان لیا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نہ صرف نئی دلی کو خود اس بات کا احساس ہے کہ 35-Aکس قدر لوگوں کے دلوں سے جڑا ہوا ہے بلکہ یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ ریاست کے لوگوں کے جذبات کی دلی کے پاس کوئی قدر نہیں ۔ یہ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ جہاں 30برسوں کی مارا ماری کے بعد اب بات 70برس پرانے تنازعہ کشمیر پر ہونی چاہئے تھی وہاں کشمیریوں کو جان بوجھ کر سپریم کورٹ میں گھسیٹ کر میٹھا زہر پینے کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے ۔ 35-Aکی بر قراری کشمیریوں کی منزل نہیں مجبوری ہے اور نئی دلی اگر چہ کشمیریوں کو 35-Aکے نام پر تھکانا چاہتی ہے لیکن ریاست کے لوگو ں کے پاس 35-Aکا دفاع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ تاہم یہ بات نئی دلی کو سمجھ لینی چاہئے کہ کشمیری قوم ایک پُر امن سیاسی تحریک کے ذریعے اُس مسئلہ کا حل چاہتی ہے جس نے پورے بر صغیر کو یرغمال بنا کے رکھا ہے ۔ نئی دلی کیلئے بہتر یہ ہوگا کہ 35-Aکا تماشہ بند کرکے اقوام متحدہ کی قرادادوں پر بات کرے تاکہ پورا بر صغیر امن اور چین سے ترقی کی راہ پر چل پڑے ‘‘۔ انجینئر رشید نے کہا کہ یہ بات باعث شرم ہے کہ مرکزی وریاستی سرکار 35-Aکی صرف شنوائی ملتوی کروانا چاہتی ہے اور اس کی منسوخی کا مطالبہ نہیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’عبرت کا مقام یہ ہے کہ شنوائی کی معطلی کشمیریوں کے جذبات کے احترام کیلئے نہیں بلکہ بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات کے انعقاد کیلئے ممکن ہو سکی ہے ۔ یہ ریاست کی مین اسٹریم جماعتوں خاص طور سے این سی اور پی ڈی پی کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ انہیں کس طرح ایک بار پھر ربر کی مہروں کی طرح استعمال کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ علاقائی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ کُل جماعتی وفد کی صورت میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملیں اور انہیں صاف صاف کہہ دیں کہ انہیں 35-Aیا 370کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہ کئے جانے کی جب تک انہیں یقین دہانی نہ کرائی جائے گی وہ انتخابات میں حصہ لیکر اپنے ہی لوگوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی حماقت نہیں کریں گی‘‘۔ انجینئر رشید نے کہا کہ وقت آ چکا ہے کہ مین اسٹریم جماعتیں متحد ہو کر کوئی ایسا لائحہ عمل ترتیب دیں جس سے نئی دلی کیلئے کشمیریوں کو ہر بار رسوا کرنا اور عدالتی شنوائیوں کے نام پر انہیں بلیک میل کرنا ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا۔ 
 
 

دفعہ35اے کا قضیہ ختم ہونے تک

انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے گا:مظفر شاہ

سری نگر //عوامی نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اورسیو ل سوسائٹی کارڑنیشن کمیٹی کے ممبر مظفر احمد شاہ نے واضح کر دیاہے کہ سپریم کوٹ سے 35Aکو خارج کرنے تک پنچایتی انتخابات میں حصہ نہیں لیا جائے گا۔انہوں نے کہا جو بھی پارٹی پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے گی اس کے خلاف سماجی مقاطعہ کیا جائے ۔ عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر اورسیو ل سوسائٹی کارڑنیشن کمیٹی کے ممبر مظفر احمد شاہ نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت دفعہ 35A کو عدالت عظمیٰ سے خارج کرنے تک عوامی نیشنل کانفرنس ریاست میں مستقبل قریب میں منعقد ہونے والے پنچایتی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔مظفر احمد شاہ نے دلی سے بھیجے گئے بیان میں واضح کر دیا کہ جب تک نہ سپریم کوٹ سے 35Aکے خلاف دائر عرضیوں کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جاتا تب تک وہ پنچایتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے ۔انہوں نے کہا جو بھی پارٹی پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے گی اس کے خلاف سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا۔
 
35اے کی سماعت کومؤخر کرنا کشمیریوں کیلئے ذہنی کوفت کا باعث:جمعیت علماء
سرینگر//علماء دیوبند کے متحدہ فورم جمعیت علماء اہل السنۃ والجماعۃ جموں وکشمیر نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت آرٹیکل 35Aکی تاریخ کو جنوری2019 تک مؤخر کرناکشمیریوں کیلئے ذہنی کوفت کا باعث قرار دیاہے۔ جمعیت علماء کے سکریٹری مولانا شیخ عبدالقیوم قاسمی مہتمم دارالعلوم شیری نے کہا کہ تاریخوں پر تاریخیں بدلنا مسئلہ کا حل بالکل نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ جب مسئلہ واضح ہے اور سپریم کورٹ کئی مرتبہ اس سلسلے میں رٹ پٹیشنوں کو خارج کرچکی ہے ۔انہوں نے  مزیدکہاکہ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہیکہ اس رٹ پٹیشن کو دائمی طور خارج کیا جائے اور آئندہ کیلئے اس دفعہ کے خلاف کسی بھی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیدیا جائے جمعیت کے سکریٹری نے واضح کیاکہ دفعہ 35Aیا اس جیسی دیگر دفعات کا تحفظ ہر کشمیری کیلئے بلا تفریق مذہب وملت ضروری ولازم ہے۔
 

دفعہ35اے کیخلاف کیس خارج کیا جائے

دریگام بڈگام میں فریڈم پارٹی کا احتجاجی مظاہرہ

سرینگر// فریڈم پارٹی نے آج دری گام بڈگام میں ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کرتے ہوئے بھارت کی سپریم کورٹ پر زور دیا کہ وہ دفعہ35Aکیخلاف سبھی درخواستوں کو مسترد کرے۔ پارٹی نے زور دیکر کہا کہ درخواستوں پر کارروائی کو بار بار ملتوی کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے اس لئے بہتری اسی میں ہے ان سبھی درخواستوں کو ردی کی نذر کیا جائے بصورت دیگر جموں کشمیر کے عوام اپنے تشخص کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ مظاہرین نے کہا کہ ان درخواستوں کا واحد مقصد جموں کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنا ہے تاکہ مسلم اکثریت والے اس خطے میں رہنے والے مسلمانوں کی شناخت کو خطرے میں ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کی متنازع حیثیت کو زک پہنچانے کی ان مکروہ سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گاوربھارت کی ہر سامراجی چال کو ناکام بنایا جائے گا۔
 

مظفرآباد میں دفعہ35اے کے حق میں ریلی 

مظفرآباد//پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں یونیورسٹی طلباء نے دفعہ 35Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوششوں کے خلاف احتجاجی ریلی منعقد کی ۔اس ریلی کا اہتمام انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں کشمیر نے کیا تھا۔ ریلی یونیورسٹی گیٹ سے نکالی گئی جس میں پروفیسر صاحبان کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ریلی سے پروفیسر ڈاکٹر نثار ہمدانی، وائس چیئرمین انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں کشمیر مشتاق الاسلام، پاسبان حریت جموں کشمیر کے چیئرمین عزیر احمد غزالی، پیپلزپارٹی کے رہنما شوکت جاوید میر، پروفیسر الیاس آفریدی، پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ سرور، شاہد الحق، مریم اشفاق، کرن انصر، بشری ہاشمی نے خطاب کیا، ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نثار ہمدانی نے کہا کہ بھارت جموں کشمیر میں کشمیریوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی مذموم کوششیں بند کرے
 
 
۔35اے معاملے پر مکمل ہڑتال بھارت کیلئے چشم کشا: آغا حسن 
 
سرینگر//انجمن شرعی شیعیان سربراہ آ غا سید حسن نے 35A کو منسوخ کرانے کی بی جے پی حکومت کی بھر پور کوششوں کو ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے تشخص اور محفوظ مستقبل کے لئے جاری جدوجہد پر کاری ضرب لگانے کا بدترین حربہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ تنازعہ کشمیر کے حتمی حل تک آئین ہند میں موجود ریاست کی خصوصی پوزیشن والے دفعات اور قوانین کی حفاظت ناگزیر ہے اور اس معاملے میں سیاسی اختلاف راے کو بالائے طاق رکھ کر ریاستی عوام ہمہ گیر مزاحمت کے لئے ہمہ وقت آمادہ ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ 35اے معاملے پر متحدہ مزاحمتی قیادت اور دیگر سماجی و دینی تنظیموں کی کال پرجموں و کشمیر باالخصوص اہلیان وادی کے فقید المثال احتجاجی ہڑتال کو حکومت ہند کے لئے نوشتہ دیوار سے تعبیر کرتے ہوئے آ غا حسن نے کہا کہ اگر ایسے دفعات سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور ان دفعات کی منسوخی کے لئے کوئی ناعاقبت اندیش اقدام کیا گیا تو ریاست میں ایک ایسی آ گ بھڑک اٹھے گی جس کو بجھانا بھارت کے لئے آسان نہیں ہوگا ۔آغا حسن نے کہا کہ بی جے پی اپنی جار حانہ کشمیر پالیسی کے سہارے کافی دیر تک حکمرانی کے خواب دیکھ رہی ہے تاہم بھارت کا انصاف پسند طبقہ اور کشمیری عوام ایسے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ 35اے کی حفاظت کے معاملے پر ریاست کا ہر فرد سنجیدہ ہے اس معاملے پر سنجیدہ اور لا مثال احتجاجی ہڑتال پر عوام کو خراج تحسین پیش کیا۔آغا حسن نے کہا کہ ایسے نوعیت کے حساس معاملوں پر قوم بھر پور اتحاد و اتفاق اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرکے بھارت کے عزائیم پر پانی پھیر دیںگے۔دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نیآغا سید حسن کی خانہ نظر بندی کی مذمت کی۔