29سال کا ریکارڈٹوٹ گیا، منفی 8.4

سردی کا بادشاہ چلہ کلان اپنے اصل روپ میں،وادی کے شمال و جنوب میں کڑاکے کی ٹھنڈ

  قدرتی آبی زخائر، نل اور گھروں میں موجود ٹنکیاں جم گئیں

 
سرینگر // 40روز پر محیط سردی کے بادشاہ چلہ کلان نے کئی برسوں بعد اپنا اصلی روپ دکھا دیا ہے۔وادی کے شمال و جنوب میں لوگ کڑاکے کی سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں اور وادی کشمیر میں گذشتہ شب منفی درجہ حرارت نے 25سالہ ریکارڈ توڑ دیا جبکہ30برسوں میں سب سے کم درجہ حرارت منفی 8.4ریکارڈ کیا گیا۔1991میں سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی11.3 ریکارڈ ہوا تھا ، جبکہ 1995میں 25سال قبل درجہ حرارت منفی 8.3ریکارڈ کیا گیا تھا۔پچھلے دو ہفتوں سے وادی سردی کی شدید گرفت میں ہے او ر یہاں سخت سردی نے  نئے ریکارڈ قائم کر لئے ہیں۔ ریکارڈ منفی درجہ حرارت کی وجہ سے پوری وادی میں سردی کا قہر پیدا ہوگیا ہے۔گھروں میں موجود پانی کی ٹنکیاں منجمند ہوگئی ہیں، پانی کے نل کئی روز سے منجمند ہورہے ہیں اور اب پانی کی پائپیں پھٹنا شروع ہوچکی ہیں، پانی ذخیرہ کرنے والے واٹر ریزروائر بھی منجمند ہورہے ہیں، جس سے پانی کی سپلائی بہے محدود ہوگئی ہے۔پانی کے قدرتی آبی ذخائر بھی منجمند ہورہے ہیں جن میں خاص طور پر ڈل جھیل قابل ذکر ہے جہاں جمعرات کو نوجوان کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آئے۔یہاں بیرون ریاست کے سیاح بھی ڈل جھیل کی موٹی سطح جم جانے کے بعد اس پر ٹہلتے نظر آئے۔اسکے علاوہ وادی بھر کی چھوٹی ندیاں اور پانی کے چشموں کی تہہ بھی جم گئی ہے۔وادی بھر میں زیادہ سردی کی لہر جنوبی کشمیر میں محصوس کی جارہی ہے جہاں وسطی اور شمالی کشمیر کی نسبت منفی درجہ حرارت میں ریکارڈ توڑ اضافہ ہوگیا ہے۔بدھ اور جمعرات کی درمیانی  شب سب سے کم درجہ حرارت شوپیان میں ریکارڈ کیا گیا جو منفی 12.9تھا۔گذشتہ شب سرینگر میں منفی درجہ حرارت 8.4تھا جو 25سال قبل 1995 اب تک کا سب سے کم درجہ حرارت تھا۔محکمہ موسمیات کے مطابق ماہ جنوری1995 میں سرینگرمیں کم سے کم درجہ حرارت منفی8.3ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا تھا اور یہ ریکارڈ گزشتہ رات ٹوٹ گیا۔ سردی اس قدر شدید تھی کہ  رات کے وقت لوگ بستروں میں کروٹیں بدلتے رہے جبکہ جمعرات کی صبح اہلیان وادی کومنہ ہاتھ دھونے کیلئے گھروں میں پانی بھی دستیاب نہیں تھا۔محکمہ موسمیات نے 1986سے2021تک کے عدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہجنوری 1986میں سرینگر میں رات کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 9ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا تھا ۔جنوری 1987میں منفی 8ڈگری اور جنوری 1991میں منفی 11.8ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔جنوری 1995میں منفی 8.3ڈگری سیلشیس ،جنوری 2012میں منفی 7.8 اورجنوری 2021میں منفی 7.8ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا تھا ۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے  پوری وادی میں سردی کی سخت ترین شدت پائی جا رہی ہے ۔ترجمان نے کہا ہے کہ درجہ حرارت میں سب سے زیادہ گراوٹ جنوبی کشمیر میں ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ قاضی گنڈمیں منفی 10.0 ،پہلگام میں منفی 11.1 ،کوکرناگ میں منفی 10.3، اونتی پورہ میں منفی 12.6، اننت ناگ میں منفی 10.0، شوپیاں میں منفی 12.9 ، پلوامہ میں منفی 9.8اور کولگام میں منفی 9.8ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا ۔شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں منفی 6.7، گلمرگ میں منفی 7.0 ، اور بانڈی پورہ میں منفی 4.2ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا ۔ادھر کرگل خطہ بھی سخت ترین سردی کی لپیٹ میں ہے کرگل کے دراس علاقے میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 28.3ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا، وہیں دن میں منفی 19.6ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا ۔