فنڈنگ کیس: ہندوارہ میں ظہور احمد وٹالی کی 17جائیدادیں ضبط: این آئی اے

یو این آئی

سری نگر// قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پیر کے روز کپوارہ میں ظہور احمد شاہ وٹالی کے نام درج 17 غیر منقولہ جائیدادیں قرق کر دیں۔
این آئی اے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے جموں وکشمیر میں دہشت گردی کے مالی معاونت کار ظہور احمد وٹالی کی حریت دہشت گردی فنڈنگ کیس کے سلسلے میں ان کی 17جائیددادیں ضبط کیں ہیں ۔ اورا س کیس میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کمانڈر یاسین ملک عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
یاسین ملک کے علاوہ اس کیس میں میں جماعت الدعوا کے سربراہ اور لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر حافظ محمد سعید ، حزب سپریمو محمد یوسف شاہ عرف سعید سلاح الدین سمیت 17دیگر افراد کے خلاف چارج شیٹ بھی پیش کی گئی ہے۔
یاسین ملک کو پہلے ہی مختلف الزامات میں قصور وار ٹھرایا گیا اور مئی 2022میں انہیں اس کیس میں عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ مقدمہ جموں وکشمیر میں دہشت گرد اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق ہے جو آئی ایس آئی کی حمایت یافتہ تنظیموں جن میں لشکر طیبہ ، جموں وکشمیر لبریشن فرںٹ، جیش وغیرہ کے ذریعے انجام دی گئی ہیں۔ یہ کالعدم تنظیمیں عام شہریوں اور سیکورٹی ٰ فورسز پر حملوں کو فروغ دے کر وادی میں دہشت پھیلا رہی تھیں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں بھی ان کا ہاتھ رہا ہے۔
ان کے مطابق سرحدی ضلع کپواڑہ کے ہندواڑہ علاقے میں پیر کے روز این آئی اے نے ظہور وٹالی کی 17جائیدادوں کو قومی تحقیقاتی ایجنسی کی خصوصی عدالت کے حکم پر اٹیچ کیا گیا۔
موصوف ترجمان نے بتایا کہ مذکورہ کالعدم تنظیمیں کشمیر میں تخریبی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو انجام دینے کی خاطر حریت کانفرنس جو کہ سال 1993میں تشکیل پائی کا سہارا لے رہی تھیں ۔
انہوں نے کہاکہ تحقیقات کے دوران منکشف ہوا کہ حریت کانفرنس ایک مجرمانہ سازش کے تحت وادی کشمیر میں افرا تفری کا ماحول پیدا کرنے اور تشدد کو فروغ دینے کے لئے عوام الناس کو اکسانے کی حکمت عملی اپنارہی تھیں۔
علاوازیں ظہوور وٹالی علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کے لئے مختلف ذرائع سے جمع کئے گئے فنڈز حریت لیڈروں کو بھیج رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ این آئی اے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ظہور وٹالی ایک حوالہ کار تھا جو حافظ سعید سے رقوم وصول کر رہا تھا ۔
بتادیں کہ حافظ سعید امریکہ کی جانب سے خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد اور اقوام متحدہ کی جانب سے اشتہاری دہشت گرد قرار دئے گئے ہیں۔ حافظ سعید 2001کے پارلیمنٹ حملے اور 2008کے ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس نے مختلف ذرائع سے سال 2011اور 2013کے درمیان بینک اکاونٹ میں کروڑوں روپیہ غیر ملکی ترسیلات حاصل کی تھیں۔
اس کے علاوہ وٹالی نے اپنی ملکیتی فرم میسرز ٹریسن انٹرنیشنل سری نگر میں غیر ملکی ترسیلات وصول کیں اورا س کے این آر ای بینک کھاتوں میں بھی غیرملکی ترسیلات پائی گئیں۔
این آئی اے ترجمان نے بتایا کہ وٹالی نے 20کنال اراضی کے ایک پلاٹ کی فروخت ظاہر کی تھی جو مبینہ طورپر وٹالی کی کمپنی ٹریسن فرمز اینڈ کنسٹریکشن پرائیوٹ لمیٹیڈ کی ملکیت تھی۔ اس کیس میں نیول کشور کپور نامی بھی شریک ملزم ہے۔ تاہم تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ریونیو ریکارڈ میں نہ تو وٹالی اور نہ ہی اس کی مذکورہ کمپنی کے پاس اس اراضی کے مالکان حقوق تھے۔
وٹالی کو اس وقت نئی دہلی کی خصوصی این آئی اے عدالت میں مقدمہ کا سامنا ہے۔