130واں دن…وادی میں سکوت

سرینگر//مزاحمتی کلینڈر میں خواتین کیلئے یوم احتجاج کی کال کا کوئی بھی اثر کل پہلی بار نہیں ہوا۔ جبکہ سرینگر، بانڈی پورہ اور گاندربل میں سنگبازی کے واقعات رونما ہوئے۔ سیول لائنز اور قصبوں میں نجی گاڑیوں کے علاوہ اکا دکا مسافر و مال بردار گاڑیاں نقل و حرکت کرتی ہوئیں نظر آئیں جبکہ چھاپڑی فروشوں کی بڑی تعداد بھی سڑک  کے کناروں پر کاروبار میں مصروف تھے۔ادھر مزاحمتی قیادت کی طرف سے بدھ کو علاقائی سطح پر چلو کال کے پیش نظر ان علاقوں میں پیشگی میں ہی سیکورٹی کو متحرک کیا گیا اور داخلی و خارجی راستوں کو سیل کیا گیاہے۔
صورتحال
 مزاحمتی قائد ین کی کال پر منگل کو مکمل ہڑتا ل رہی ۔اس دوران شمالی ، وسطی اور جنوبی کشمیر سے چھوٹی مسافر بردار گاڑیوں کے ساتھ ساتھ نجی گاڑیوں کی ایک اچھی تعداد سرینگر کی طرف رواں دواں نظر آئیں جبکہ سرینگر سے بھی مختلف علاقوں کی طرف علی الصبح اچھی تعداد میں نجی  اور مسافر بردار گاڑیاں روانہ ہوئیں۔ سرینگر کے سیول لائنز علاقوں بشمول صنعت نگر ، جواہر نگر ، راجباغ ، کرنگر ، بٹہ مالو اڈہ ، لالچوک ، ڈلگیٹ سمیت کئی دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہی جبکہ ٹی آر سی کراسنگ سے لے کر لالچوک تک چھاپڑی فروشوں نے مختلف اشیاء کو سجایا اور اس دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد خرید و فروخت میں نظر آرہی تھی۔ شہر کی سڑکوں پر سینکڑوں ریڈی والوں کو بھی دیکھا گیا جو سبزی اور پھل فروخت کر رہے تھے ۔ادھر پائین شہر میں ہڑتال کا اچھا خاصا اثر نظر آیا اور اکا دکا پرائیویٹ گاڑی کی سڑکوں پر نقل و حمل کرتی ہوئی نظر آرہی تھی جبکہ دکان مکمل طور پر بند تھے اور کم وبیش چھاپڑی فروشوں بھی نظر آ ئے۔ شہر خاص کے متعدد علاقوں سے اگرچہ کرفیو اور بندشوں کا سلسلہ ہٹایا گیا تھا تاہم گلی کوچوں اور سڑکوں کے علاوہ حساس جگہوں پر اضافی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور وہ متحرک تھے۔ شہر کے کئی حساس علاقوں میں فورسز اور پولیس کی بکتر بند گاڑیاں بھی گشت کرتی ہوئی نظر آئی۔ ادھرپائین شہرمیں ہڑتال کا زیادہ اثر دیکھنے کو ملا اور وہاںاور ہر طرح کے کاروباری اور تجارتی ادارے بند رہے۔تاہم ہڑتال کے باوجود سیول لائنز اور مضافاتی علاقوں میں نجی گاڑیوں کی آمدورفت میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اضافہ درج کیا جارہا ہے۔لاچوک اور ملحقہ بازاروں میںبیشتر دکان بند تھے ۔اس دوران بانڈی پورہ قصبے میں دکانیں اور کارو باری بند رہے تاہم قصبے اور ضلع کے حساس علاقوں میں فورسز اور پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا۔شام کے وقت پائین شہر کے کئی علاقوں میں سنگبازی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔جوگی لنگر،سعیدہ تینگ،اسلامیہ کالج کے علاوہ دیگر جگہوں پر معمولی سنگبازی کے واقعات رونما ہوئے جبکہ فورسز نے نوجوانوں کا تعاقب کیا۔نامہ نگار عازم جان کے مطابق ضلع کے اشٹینگو میں مقامی لوگوں نے بندشیں اور رکاوٹیں کھڑی کی تھی جس کی وجہ سے گاڑیوں کی نقل و حمل بند ہوکر رہ گئی۔عینی شاہدین کے مطابق سہ پہر وہاں فورسز اور پولیس اہلکار نمودار ہوئے اور رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کی،تاہم نوجوانوں نے ان پر سنگبازی کی۔اس موقعہ پر فورسز نے بھی جوابی سنگبازی کی اور طرفین میں کافی دیر تک تصادم آرائی جاری رہی۔عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے نمائندے نے کہا کہ فورسز پر جب ہر چہار اطراف سے قہر انگیز سنگبازی کی گئی تو انہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کے گولے داغے۔ادھر مقامی لوگوں نے الززام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعد مین فورسز اور پولیس اہلکار گھروں میں داخل ہوئے اور انہوں نے توڑ پھوڑ کی۔مقامی لوگوں نے فورسز کی اس مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاج بھی کیا جس کے دوران اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی ہوئی۔پاپہ چھن میں بھی نوجوانوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی تھی اور کسی بھی گاڑی کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی  ہے۔ادھر گنستان سمبل میں فورسز نے تنظیم آزادی کے صدر عبدالصمد انقلابی کے گھر پر چھاپہ مارا تاہم وہ گھر میں موجود نہیں تھے۔عینی شاہدین کے مطابق مزاحمتی قیادت کی طرف سے بدھوار کو گنستان چلو کال کے پیش نظر منگل کی شام کو ہی محاصرے میں لیا گیا جبکہ داخلی اور خروجی راستوں پر فورسز اور پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا۔ اننت ناگ ضلع میں ہڑتال سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی ۔ نامہ نگار ملک عبدالسلام کے مطابق ضلع کے بجبہاڑہ ، آروانی،ہمدان ،عشمقام ،دیالگام ،لارکی پورہ ،مٹن ،ڈورو اور دیگر قصبہ جات میں تمام دکانیں اور کارو باری ادارے بند رہے ۔ تاہم سڑکوں پر نجی گاڑیوں کے علاوہ سو گاڑیاں بھی چلتی ہوئیں نظر آئیں۔ادھر10ویں جماعت کے امتحانات اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو مد نظر رکھتے ہوئے حساس علاقوں میں پولیس اور فورسز کے اضافی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔بار ہمولہ سوپور اور پٹن کے ساتھ ساتھ شمالی کشمیر کے کئی دیگر علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی درہم برہم ہوکررہ گئی۔نامہ نگار الطاف بابا کے مطابق قصبہ میں نجی گاڑیوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نظر آئی  جبکہ چھاپڑی فروشوں نے بھی اپنے ٹھیلے لگائے تھے۔سوموار اور منگل کی درمیانی رات نامعلوم افرادنے گو رنمنٹ ہائی اسکول سلطان پورہ کنڈی بارہمولہ پر مٹی کا تیل چھڑ ک لیا اور بعد میں اسے آ گ لگادی جس کے ساتھ ہی عمارت سے آگ کے شعلے بلند ہوگئے۔ تاہم وہاں موجود عملے ا ور چو کیداروںنے اسکول پر لگی آ گ بجھا دی ۔ معلوم ہوا ہے کہ اسکول کا سارا ریکارڈ محفوظ ہے۔ اس سلسلے میں مقامی پولیس تھانہ میں تحریراََ شکایت درج کی ہے جہاں پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔سنگرامہ، امر گڑھ،پتوہ کھاہ، چھورو وغیرہ میں توڑ پھوڑ اور گرفتارریوں کے خلاف غم و غصے کی شدید لہر کے بیچ مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔قصبے کے حساس مقامات پر احتیاط کے بطور پولیس اور نیم فوجی دستے بڑی تعداد میں تعینات کئے گئے تھے اور اس دوران ہر طرح کی کاروباری اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں مکمل طور معطل رہیں ۔گاندربل میں مزاحمتی کال کے130ویں دن بھی مکمل ہڑتال رہا جس کے دوران دکان،کاروباری مراکز اور مالی ادارے بند رہے تاہم سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحمل جاری رہی۔اس دوران امتحانی مراکز کے ارد گرد کری سیکورٹی کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔نمائندے کے مطابق ضلع میں امتحانی مرکز کے باہر سنگبازی کا واقعہ پیش آیا جبکہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا۔کولگام سے نمائندئے اطلاع دی ہے کہ کیموہ ،کولگام ،کھڈونی اور دیگر علاقوں میں دکانیں بند تھیں اور ٹرانسپوٹ سروس معطل رہی ۔ شوپیان سے بھی مکمل ہرٹا ل کی اطلاع ہے تاہم نجی ٹرانسپورٹ چلتا رہا۔ بڈگام ضلع ہیڈ کوارٹر سمیت چاڑورہ، چرار شریف، بیروہ، ماگام، کھاگ اور خانصاحب میں مکمل ہڑتال رہی اس دوران کاروباری و تجارتی ادارے، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے۔