ۭوزیراعلیٰ کی کھری کھری!

 ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا کے 64ویں سالانہ اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کچھ ایسی باتیں کہیں ہیں جنہیں اگرعوامی جذبات کی ترجمانی کے مترادف قرار دیا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کنویشن میںموجود حاضرین ، جو ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیںاور سیاحتی شعبہ سے وابستہ ہیں، پر دو ٹوک الفاظ میں یہ باور کیا کہ ریاست جموںوکشمیر کے عوام کو 1947میں ہوئی برصغیر ہند کی تقسیم کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے، کیونکہ جب سے یہ ریاست بھارت اور پاکستان کے درمیان ٹکرائو اور تصادم کا نشانہ بنی ہوئی ہے اور حالیہ مہینوں کے دوران ایل اوی سی پر جو صورتحال بنی رہی وہ اس حقیقت کی کھلا اظہار ہے کہ دونوں ممالک کےد رمیان تصادم آرائیوں میں ریاست کے شہری توپ کی رسد بنے ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ پنجاب، ہریانہ ، راجستھان یا کسی اور ریاست کی سرحد پر آئے روز گولیاں نہیں چلتیں اور گولے نہیں برستےبلکہ یہ صرف جموںوکشمیر کی ریاست ہے، جسے اس صورتحال کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ کا یہ اظہار ریاست جموںوکشمیر کے سیاسی تنازعہ ہونے کی ایک بڑی دلیل ہے، جو حکمران اتحاد میں شریک بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین کو ہضم نہیں ہوتی اور وہ اس مسئلےکے حقائق کو الجھا کر نت نئے مباحث چھیڑنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک بر ملا حقیقت ہے کہ ان نت نئے زیلی مباحث کو فروغ دینے کےلئے میڈیا کا کھلے بندوں استعمال ہو رہا ہے، بالخصوص الیکٹرانک میڈیا کےکچھ چینل تمام صحافتی آداب کو ایک طرف رکھ کر صورتحال کو کھلم کھلا انگیخت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ان میڈیا چینلوں کے نام لیکر انہیں ہدف تنقید بناتے ہوئے اُن پر الزام لگایا کہ وہ کشمیر کے اندر پیش آرہے واقعات کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں، جیسے ساری ریاست میں آگ لگی ہوئی ہو۔ وزیراعلیٰ کے اس اظہار سے صرف نظر کرنا حقائق سے منہ چرانے کے مترادف ہوگا کیونکہ ایک طویل عرصہ سے ان چینلوں پر مباحث چھیڑکر ناظرین کے جذبات کو بھڑکانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور حیرت کا مقام یہ ہے کہ ان مباحث میں ایسے ریٹائیڈ افسران کو بھی شامل کیا جاتا ہے ، جو اپنی سروس کے دوران کشمیر میں تعینات رہے ہیں اور اپنے ظلم وزیادتیوں کے بہ دسبب نہ صرف بدنام رہے ہیں بلکہ انکے خلاف حقوق انسانی کی پامالیوں کا ارتکاب کرنے پر پولیس میں کیس بھی درج ہیں۔ ان میڈیا چینلوں کی جانب سے متعصب اور یکطرفہ سوچ رکھنے والے لوگوں کو بطور ماہرین کشمیر پیش کرکے سامنے لانے کے لئے پس پردہ کیا مقاصد کار فرما ءہوسکتے ہیں، وہ الگ تجزیہ کاتقاضا کرتا ہے، لیکن اتنا طے ہے کہ ان مباحث سے جو آگ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اسکا صاف صاف اور واضح مقصد یہی ہے کہ ملکی رائے عامہ کو کشمیر کے حوالے سے اس پیمانے پر گمراہ اوربدظن کیا جائے کہ بیرون ریاست سے کوئی شخص ریاست، خاص کر کشمیر ،کی طرف رخ نہ کر پائے۔ ظاہر بات ہے کہ اس طرح کی مہم سے ریاست کا سیاحتی شعبہ اور اس شعبے سے منسلک مختلف زیلی شعبے بُری طرح متاثر ہوتےرہے ہیں، جس کی وجہ سے ریاست کو ہزاروں کروڑ روپے کے نقصان سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ خاص کر یہ سلسلہ ریاست میں سیاحتی سیزن شروع ہونے میں ایک بہت بڑا سدِ راہ بنتا جا رہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ریاست کے اندر حالات گزشتہ ربع صدی سے خراب چلے آرہے ہیں لیکن اس کے باجود سیاحوں کی آمد کم و بیش برقراررہی مگر اب گزشتہ کچھ برسوں سے ٹی وی چینلوں پر  پروپیگنڈا کی مہم چھیڑ کر جموںوکشمیر اور یہاں کے عوام کے خلاف بدظنی پھیلانے کی منظم مہم برپا کر دی گئی ہے۔جسکا واحد مقصد یہی ہوتا ہے کہ سیاح جموںوکشمیر کے بجائے دوسری ریاستوں کا رُخ کریں۔ وزیراعلیٰ نے ٹریول ایجنٹوں کی مجلس میں ان حقائق کا اظہار کرکے اُن پر حقائق واضح کرنے کی جس اندا ز سے کوشش کی ہے ، اُسکو عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے اور یہ امید کی جارہی ہے کہ اس کنوینشن کے توسط سے ریاست جموںوکشمیر کےمثالی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام کوملک کی ساری ریاستوں تک پہنچا یا جائے گا۔