۔9730نوجوانوں پر عائد سنگبازی کے کیس کالعدم

جموں//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بتایاکہ حکومت کی طرف سے 2008سے 2017تک سنگ بازی کے واقعات میں ملوث 9730نوجوانوں پر عائد کیس واپس لینے کو منظوری دی گئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ان کی حکومت نے 4ہزار سے زائد افراد کو ایمنسٹی دی ہے جو پچھلے دو برسوں کے دوران سنگ بازی کے معمولی واقعات میں ملوث تھے ۔قانون ساز اسمبلی میں اپنے ایک تحریری جواب میں وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ پہلی بار جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو حکومت نے پھر سے  زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم کیاہے تاہم ان کے اور ان کے خاندان کے حوالے سے تفصیلات سیکورٹی وجوہات کی بناپر نہیں بتائی جاسکتی ۔انہوںنے بتایاکہ 2016اور2017کے دوران 3773کیس رجسٹر کئے گئے اور11290افراد کی گرفتاری عمل میں آئی۔انہوںنے کہاکہ 7کیس قبول نہیں کئے گئے اور 1692چارج شیٹ کئے گئے جبکہ 1841معاملات زیر تحقیقات ہیں۔وزیرا علیٰ کے مطابق 2016میں سنگ بازی کے واقعات پر 2904کیس درج ہوئے اور8570افراد کو گرفتار کیاگیا جبکہ 2017میں سنگ بازی پر 869کیس درج ہوئے اور  2720افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ۔وزیر اعلیٰ کے جواب کے مطابق 2016اور2017کے دوران سب سے زیادہ گرفتاریاں سرینگر ضلع میںہوئیں جہاں 2330افراد گرفتار کئے گئے جس کے بعد بارہمولہ میں 2046افراد ، پلوامہ میں 1385افراد ، کپوارہ میں 1123افراد، اننت ناگ میں1118افراد ، بڈگام میں 783افراد ، گاندر بل میں 714افراد ، شوپیاں میں 694افراد ، بانڈی پورہ میں 548افراد ، کولگام میں 547افراد اور ضلع ڈوڈہ میں 2افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔انہوںنے مزید بتایاکہ سنگ بازی کے واقعات میں 56سرکاری ملازمین اور 16حریت کارکنان بھی کل 4949افراد میں ملوث پائے گئے جبکہ بقیہ 4074افراد کا تعلق کسی بھی علیحدگی پسند جماعت یا جنگجوگروپ سے نہیں تھا ۔