۔9سالہ بچی کا قتل انتہائی گھناونافعل

 سرینگر//حریت (گ)اور حریت (ع) نے ترکانجن اوڑی میں ایک نوسالہ کمسن بچی کے سفاکانہ قتل اور اُس کے ساتھ ہوئی زیادتی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس گھنائونے جرم میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔حریت (گ)کے جنرل سیکریٹری غلام نبی سمجھی نے بونیار اوڑی میں 9برس کی معصو بچی کو پُراسرار حالت میں قتل کئے جانے کی لرزہ خیز واردات میں مجرمین کو کڑی سے کڑی سزا دلانے کیلئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت انسانیت سوز جرائم، شراب اور دیگر منشیات، قمار بازی اور بے شرمی کا مرکز بنائے جانے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں۔ جہاں لاقانونیت، افسرشاہی اور رشوت خوری پر مبنی ایک اخلاق سوز معاشرے کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ سمجھی کے مطابق تہاڑ جیل سے لے کر سرینگر سینٹرل جیل تک سبھی قیدخانوں میں جملہ محبوسین کے صبرواستقلال اور تحریکی جذبات کو عقیدت کا سلام پیش کرتے ہوئے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ جیل انتظامیہ ان کے ساتھ غیر مہذب اور غیر انسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہے، جوکہ انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ متحدہ مجلس علماء کے امیر اور حریت (ع) چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا کہ جس بہیمانہ طریقے سے اس معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا اُس سے ہر ذی حس انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی کٹھوعہ کے زخم تازہ ہی تھے کہ اس واقعہ نے کشمیری سماج کو ایک بار پھر جھنجھوڑکر رکھ دیا ہے ۔میرواعظ نے کہا کہ سماج کایہ انحطاط اور انسانی اقدار کی پامالی کا یہ رجحان پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے اور سماج کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ برائیوں ، زیادتیوں ، بڑھتے ہوئے جرائم  اور بے راہ روی کا شکار کشمیری سماج کو اپنی اصل ڈگر پر لانے کیلئے کمر بستہ ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف اس قوم کو سیاسی اور تحریکی سطح پر شدید آزمائشوں ، مصائب اور آلام کا سامنا ہے بلکہ من حیث القوم ہم تاریخ کے ایک نازک مرحلے پر کھڑے ہیںاور دوسری طرف سماجی اور معاشرتی سطح پر اس قوم کے سامنے جو نئے چیلنج کھڑے ہیں ان کے سدباب کیلئے اجتماعی کوششیں وقت اور حالات کا ناگزیر تقاضا ہے۔ اس دوران میرواعظ نے 2016 کی عوامی تحریک کے دوران گرفتار کئے گئے حریت پسند سرجان برکاتی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کو قید خانے میں ضروری سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے اور ان کی مسلسل نظر بندی ان کے اہل خانہ کیلئے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔