۔8افراد کے ڈوب جانے کا خدشہ

ترال کاپولیس اہلکارمعجزاتی طور بچ گیا،شام دیر گئے لاشوں اور گاڑی کا اتہ پتہ نہیں چل سکا

 
بانہال// جموں سرینگر شاہراہ پر رام بن کے نزدیک پیرکو ایک المناک حادثے میں مسافر گاڑی دریائے چناب میں گر گئی جس میں سوار کم سے کم آٹھ افراد کے ڈوب جانے کا اندیشہ ہے۔اس دوران ایک پولیس اہلکارلڑھکتی گاڑی سے باہر گر کر معجزاتی طور پر بچ گیا۔ یہ حادثہ شام قریب ساڑھے چار بجے را م بن کے نزدیک مہاڑ کے قریب پیش آیا۔ ونگر گاڑی زیر نمبرJK14D/7989  ادہمپور سے رام بن کی طرف آرہی تھی۔اس دوران گاڑی سڑک سے لڑھک کر سیدھے دریائے چناب میںگر گئی۔ حادثے کے فوراً بعد پولیس ، ایس ڈی آر ایف اور QRT کے رضاکاروں پر مشتمل ٹیمیں ، ایس ایس پی رام بن حسیب الرحمن اور ایڈیشنل ایس پی سنجے کمار پریہار اور دیگر پولیس افسران کی سربراہی میں بچائوکارروائیوں کیلئے موقعہ پر پہنچ گئیں لیکن دریائے چناب میں پانی کی سطح  زیادہ اور تیز بہائو کی وجہ سے گاڑی کا کوئی اتہ پتہ نہیں چل سکا ۔ عینی شاہدین اور وائرل ہوئے ویڈیوز میں گاڑی میں سوار مسافروں کا سامان ، بیگ وغیرہ اور کئی مسافروں کی لاشیں دریائے چناب کے پانی کی سطح پر بہتی دیکھی گئیں لیکن پانی کی رفتار کے سامنے کوئی کچھ نہ کرسکا۔۔ایس ایس پی رام بن حسیب الرحمن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس دلدوز حادثے میں ایک مسافر پولیس کانسٹیبل معراج الدین ولد غلام محی الدین ساکن چندری گام اونتی پورہ گاڑی سے باہر گر کر معجزاتی طور بچ نکلا اوراس نے پولیس کو بتایا کہ حادثے کے وقت اس گاڑی میں کم از کم آٹھ سے نو افراد سوار تھے جن میں پولیس ہیڈ کانسٹیبل اجے کمار اور کانسٹیبل حافظ حسین ساکنان اکھنور جموں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حادثے سے دو کلومیٹر پہلے ہی کرول کے مقام پر دو خواتین مسافرگاڑی سے اتر گئی تھیں۔ گاڑی سمیت لاپتہ ہوئے مسافروں کا کوئی پتہ نہیں چل پایا تھا اور اندھیرے کی وجہ سے گاڑی میں سوار افراد کے بچنے کے امکانات نہ کے برابر ہیںاوراندیشہ ہے کہ وہ سبھی لقمہ اجل بن گئے ہوں گے۔
 

پنتھیال میں 2گھنٹے ٹریفک بند

محمد تسکین
 
بانہال// ناشری، رام بن اور بانہال سیکٹر میں بارشیں ہونے کی وجہ سے پنتھیال میںگرتے پتھروں کی وجہ سے شاہراہ صبح سات بجے سے نو بجے تک بند رہنے کے بعد دوبارہ بحال کی گئی۔ پتھروں کے گر آنے کی وجہ سے شاہراہ کے اچانک بند ہونے سے وادی کشمیر کی طرف رواں ٹریفک کو پنتھیال ، رام بن اور ناشری ٹنل کے آر پار کئی مقامات پر روک دیا گیا جو بعد ازاں ٹریفک جام کی بھی وجہ بنا۔ شاہراہ گزشتہ منگل سے سنیچر تک بند تھی اور اتوار اور پیر کی رات سے قریب چھ روز بعد جموں اور ادہمپور سے پانچ ہزار سے زائد مال، ایندھن اور مسافر گاڑیوں کو وادی کشمیر کی طرف جانے دیا گیا۔ ڈی ایس پی ٹریفک رام بن اجے آنند نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پیر کے روز پانچ ہزار مال گاڑیاں جموں سے وادی کی طرف رواں تھیں اور اتوار رات سے قریب تین ہزار گاڑیاں پیر کی شام تک بانہال ٹنل پار کرکے وارد کشمیر ہوچکی تھیں۔