۔70ہزار 2013میںبنک میں جمع کروائے | 2021میں 20ہزار کا قرضہ بقایا نکلا،معذور شہری نالاں

مینڈھر// ناڑمنکوٹ علاقہ سے تعلق رکھنے والے ایک معذور شخص محمد رزاق ولد کالا عمر 45سال نے جموں وکشمیر کوآپریٹو بینک برانچ مینڈھر کے ملازمین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میں نے 2013میں 70ہزار روپے بینک میں جمع کروائے جسکی ایف ڈی میرے پاس ہے اور اب جب بینک گھوٹالے کا پتہ چلا تو میں بینک میں آیا تو بینک ملازمین نے مجھے کہا کہ آپ نے تو بیس ہزار روپے ہمارے دینے ہیں آپ کا تو یہاں کوئی پیسہ نہیں ہے۔ اسکا کہنا تھا کہ میں فوج میں پوٹر کام کرتاتھا اور میری مائن بلاسٹ سے ٹانگ جب اڑ گئی تو فوج نے میرا علاج کروانے کے علاوہ مجھے ایک لاکھ روپیہ دیا جس میں سے میں نے 70ہزار روپے بینک میں جمع کروائے اور اب جب پیسے لینے کیلئے آیا تو میرا 70ہزار کا کہیں نام و نشان ہیں نہیں ہے جبکہ بینک والے الٹا مجھ سے 20ہزار روپے مانگ رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ میں معذور شخص ہوں اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ،میں ریاستی گورنرر انتظامیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ متعلقہ بینک کے جن لوگوں نے میرے پیسوں کا گھوٹالہ کرکے میرے کھاتے میں لون کے پیسے ڈالے ہیں انکے خلاف قانونی کاروئی کی جائے اور میرے پیسے واپس کروائے جائیں تاکہ میں اپنے بال بچوں کا خرچہ چلا سکوں ۔اس کا مزید کہنا ہے کہ ایف ڈی کی کاپی بھی میرے پاس ہے جسکو بینک والے جعلی بتارہے ہیں ۔