۔70سالہ کولگام کا علیل شہری2 سال بعد رہا

 اننت ناگ //محض تین ماہ قبل رہا ہوئے 70سالہ کولگام کے ایک شہری کو دوبارہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے جموں جیل منتقل کر دیا گیا ہے ۔ جماعت اسلامی کے متحرک کارکن محمد رمضان شیح ساکن رام پورہ کیمو کولگام کے لواحقین نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے انہیں ایک پرانے کیس کے سلسلے میں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اُن کی دوبارہ گرفتاری عمل میں لا کر پی ایس اے کے تحت کورٹ بلوال جیل جموں منتقل کیا گیا ہے ۔شیخ کو نومبر 2016میں آزادی کے حق میں ریلی نکالنے اور لوگوں کو تشدد کیلئے اکسانے کے الزام میں گرفتار کر کے کٹھوعہ جیل منتقل کیا گیا تھا ۔مئی 2018میں اُسے کٹھوعہ جیل سے رہائی ملی لیکن انہیں رہا نہیں کیا گیا ۔اس سال فروری کے مہینے میں بھی اُن پر عائد پی ایس اے کو ہٹایا گیا مگر اُس کے باوجود بھی اُس کی رہائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔اس سال اپریل کے مہینے میں شیخ کے گھر والوں کی استدعا پر ضلع ترقیاتی کشمیر کولگام نے ڈسٹرکٹ پولیس سپرانٹنڈنٹ کو  خط لکھا تھا کہ وہ انسانی بنیادوں پر مزکورہ شہری کی رہائی عمل میں لائیں تاکہ وہ اپنی بیٹی کی شادی میں شرکت کر سکے جبکہ گریٹر کشمیر نے بھی اس حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے بعد بیٹی کی شادی سے ایک دن قبل اُس کی رہائی عمل میں لائی گئی۔ شیخ کی اہلیہ مغلی بیگم نے کہا کہ سال2016میں وہ صرف ایک مرتبہ پرامن ریلی میں شرکت کرنے گئے تھے اور زیادہ تر وہ گھر میں ہی رہنے کو ترجیح دیتے تھے لیکن اُن کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ کیوں انہیں بلا وجہ سزا دی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے انہیں دوبارہ گرفتار کیا کیونکہ وہ اپنے بھائی کے پوتے شیخ توصیف حزب کمانڈ ر کی آخری رسومات میں شرکت کرنے گیا تھا جو شوپیاں میں ایک جھڑپ کے دوران مارا گیا ۔مغلی نے کہا کہ اب ہم اتنے مجبور ہیں کہ اپنوں کی موت پر بھی ماتم نہیں منا سکتے ۔اُس کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال اُس کے خاوند کی کٹھوعہ جیل میں طبیعت ٹھیک نہیں رہی جس کے بعد وہ مسلسل بیمار رہنے لگے اور اُس کے اہل خانہ کیلئے بھی یہ بات کوئی آسان نہیںہے کہ وہ جموں جا کر اُن سے ملاقات کر سکیں ۔