۔7کشمیریوں کیخلاف غداری کا مقدمہ

سرینگر // مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دلی پولیس کی جانب سے جواہر لعل نہرویونیورسٹی دہلی میں زیر تعلیم سات کشمیری طلباء عاقب حسین ، مجیب حسین، منیب حسین، عمر گل، رئیس رسول، خالد بشیر بٹ اوربشارت علی کیخلاف غداری کے الزام میں مقدمہ درج کرنے اور پٹیالہ ہائوس کورٹ کی میٹروپولیٹین مجسٹریٹ کی عدالت میں ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان طلباء کے تعلیمی کیریئر کو مخدوش بنایا جارہا ہے ۔قائدین نے کہا کہ ان طلباء کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے 2016ء میں شہید محمد افضل گورو کی برسی کے موقعہ پر مذکورہ یونیورسٹی کی طلباء یونین کی جانب سے منعقدہ مظاہرے میں شرکت کی تھی۔
قائدین نے کہا کہ کشمیری طلباء کیخلاف اس طرح کے جارحانہ ہتھکنڈوں کے استعمال کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ حکومت بھارت میں 2019ء میں ہونے جا رہے انتخابات تک کیلئے اپنے ووٹ بنک کو محفوظ رکھنے کیلئے اس طرح کے کارڈ کھیل رہی ہے ۔سات کشمیری طالب علموں کیخلاف ملک سے غداری کے الزام میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے وہ حد درجہ آمرانہ اور ان طلباء کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے ۔قائدین نے انسانی حقوق کے عالمی ادروں  پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام خصوصاً ان طالب علموں کے ساتھ روا رکھے جارہے حق و انصاف سے عاری سلوک اور ان کے تعلیمی مستقبل کو مخدوش کرنے کے غیر جمہوری اور غیر انسانی کارروائیوں کا شدید نوٹس لیں۔