۔7برسوں سے تعینات عارضی ملازمین کی برطرفی

سرینگر// محکمہ صحت و طبی تعلیم میں7برس قبل تدریسی انتظامات کے تحت تعینات عارضی ملازمین کی برطرفی کو عدالتی توہین کے مترادف قرار دیتے ہوئے میڈیکل ایمپلائز فیڈریشن نے کہا کہ وہ’’استعمال کرو اور پھینک دو‘‘ کی پالیسی کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔سرینگر کے ایوان صحافت میں میڈیکل ایمپلائز فیڈریشن کے چیئرمین شبیر احمد لنگو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکار نے2009 کے علاوہ 2013 اور 2018 میں ایس آر ائو384کے تحت محکمہ صحت و طبی تعلیم میں تدریسی انتظامات کے تحت قلیل تنخواہوں پر ملازمین کو ابتدائی طور پر4برسوں کیلئے تعینات کیا جبکہ بعد میں ایس آر ائو409کے تحت اس میں مزید دو برسوں کی توسیع کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نامساعد حالات کے علاوہ موجودہ کویڈ دور میں بھی ان ملازمین نے دیگر ملازمین کے شانہ بہ شانہ کام کیا تاہم سرکار نے انکے حقوق پر شب خون مارا۔شبیر لنگو نے کہا کہ ملازین نے اگر چہ عدالت عالیہ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا اور عدالت نے احکامات جاری کرتے ہوئے’’ تدریسی انتظامات کے تحت تعینات ملازمین کو با قاعدہ بنانے کے علاوہ7ویں تنخواہ کمیشن کے تحت تنخواہوں کی واگزاری اور واجب الاد تنخواہوں کی فراہمی کا فیصلہ سنایا تاہم حکام نے عدالتی فیصلہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی مانی مانی شروع کی‘‘۔انہوںنے کہا کہ حکام نے عدالتی احکامات کوصرف نظر رکھتے ہوئے 2013میں تدریسی انتظامات کے تحت ملازمین کی بر طرفی کے احکامات صادر کئے جوسرا سر ناانصافی ہے۔پریس کانفرنس میں موجو میڈیکل د ایمپلائز ترجمان اعلیٰ غلام نبی ترالی نے ان ملازمین کی برطرفی کے احکامات کو واپس لینے اور واجب الادا تنخواہوں کی واگزاری کا مطالبہ کرتے ہوئے ایچ ڈی ایف کے تحت تعینات ملازمین کے حق میں نان پلان مد سے تنخواہوں کو واگزار کیاجائے ۔