۔61شہریوں کے جنازے اُٹھے، خونی پارلیمانی ضمنی الیکشن بھی ہوا

     سرینگر//وادی میں امسال فوج کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن آل آوٹ کے بیچ گولیوں کی گنگناہٹ،ٹیر گیس و مرچی گیس کا دھواں،پیلٹ چھروں سے چھلنی ہونے والے جسم ،احتجاجی مظاہروں کی صدائیں،معصوم شہریوں کا ٹپکتا لہو،آہ و الم ، نالہ و فریاد،والدین کے کندھوں پر جگر پاروں کے جنازے،جیلوں میں نظر بندوں پر قہر، جامع مسجد سرینگر کے خاموش ممبر ومحراب، بنددشیں، قدغنیں، ہڑتال،کرفیو اور افراتفری کے مناظر دیکھنے کو ملے۔سال بھر جہاں فوج اور فورسز آپریشنوں کے دوران215کے قریب عسکریت پسند جاں بحق ہوئے،وہیں100کے قریب فورسز، پولیس اور فوجی اہلکار بھی لقمہ اجل بن گئے،جن میں25اہلکار قدرتی آفات کے دوران برف کے نیچے بھی دب گئے۔ جھڑپوں کے دوران ایک درجن میجر،2لیفٹنٹ کرنل ،2ایس پی اور ایک کمانڈنٹ سمیت ٹاسک فورس،فوج اور سی آر پی ایف کے200کے قریب اہلکار زخمی بھی ہوئے۔وادی میں سال بھر شہری اپنے جگر پاروں کے جنازوں کو کندھوں پر اٹھانے میں مصروف رہے۔ مجموعی طور پر قریب61عام شہری گولیوں کا نشانہ بن گئے جن میں ایک بچی سمیت9خواتین بھی شامل ہیں،جبکہ کئی سیاسی کارکنوں کو بھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔30شہری عسکریت پسندوں اور فوج و فورسز کے درمیان خونین جھڑپوں کے دوران جائے جھڑپوں کے نزدیک فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ فوج کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن آل آوٹ کے دوران خونین معرکہ آرائیوں میں حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر محمود غزنوی اور لشکر طیبہ کے چیف کمانڈراں ابو دوجانہ و ابو اسماعیل کے علاوہ جیش محمد کے چیف کمانڈر خالد بھائی،حزب کمانڈرسبزار بٹ،بشیر لشکری،جنید متو،مظہ مولوی،عبدالقیوم نجار،جنید متو،نور ترالی اور دیگر اعلیٰ کمانڈر بھی جاں بحق ہوئے۔سال بھر جہاں سرکاری دعوئے کے مطابق 215کے قریب عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا جو گزشتہ6برسوں میں سے سے زیادہ ہیں،وہیں 2017میں سب سے زیادہ مقامی نوجوانوں،جن کی تعداد117بتائی جاتی ہے،نے عسکری صفوں میں شمولیت اختیارکی۔ جھڑپوں کے بیچ کئی جنگجو اور بالائے زمین ورکروں کو زندہ گرفتار کیا گیا۔عسکری محاز پر گرما گرمی کے دوران شمال وجنوب میں فوج،فورسز،ٹاسک فورس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے جنگجوئوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر سرگرمیاں جاری رہیں جبکہ بستیوں اور علاقوں کا محاصرہ بھی بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔ عسکری محازاور سیاست میں اس وقت غیر معمولی سرگرمیاں بھی اس وقت نظر آئی،جب ایک فٹ بال کھلاڑی نے عسکری صفوں میں شرکت کی۔اس دوران کئی دنوں کے بعد ماجد نامی اس نوجوان نے گھر واپسی کی۔مزاحمتی خیمے میںروایت سے ہٹ کر 2017میں سابق حزب کمانڈر ذاکر موسیٰ نے مزاحمتی قیادت کو دھمکی بھی دی،جس کی وجہ سے مزاحمتی لیڈراں تذبذب کے شکار ہوگئے،تاہم متحدہ جہاد کونسل نے حریت لیڈراں کی حمایت کی۔ذاکر موسیٰ حزب سے علیحدہ ہوگئے اور انصاالاغزوہ ہند کے نام سے الگ تنظیم کی داغ بیل ڈال دی۔سال بھر جاری رہنے و الی اتھل پتھل کے دوران8 اپریل سب سے سیاہ ترین دن ثابت ہوا،جب سرینگر پارلیمانی حلقہ کے ضمنی انتخاب کے دوران صرف ایک دن میں8 نوجوانوں کو گولیوں سے بھوندنے کے بعد سپرد لحد کیا گیا۔ اس صورتحال کے مد نظر اسلام آباد(اننت ناگ) پارلیمانی حلقے کا انتخاب پہلے ایک ماہ اور بعد میں غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کیا گیا۔ سال2017اپنے ساتھ کچھ تلخ و شیریں یادیں بھی لایا۔پہلی بار بنک گارڑوں کو بھی نشانہ بنایا گیا،جس میں الگ الگ واقعات کے دوران چاربنک محافظ جان بحق ہوئے،جبکہ اپنے نوعیت کے پہلے واقعے میں مشکوک حالات میں تعینات ایک پولیس افسر کو زیر چوب ہلاک کیا گیا۔اس دوران معروف اخوانی کمانڈر کو بھی گولیاں کا نشانہ بنایا گیا۔سال بھر کئی فوجی ،فورسز اور پولیس کیمپوں پر فدائین حملے بھی ہوئے،جن میں پلوامہ پولیس لائنز،سرینگر ائر پورٹ کیمپ اور چوکی بل کپوارہ کیمپ بھی شامل ہے۔ سال بھر عسکری محاز میں زبردست گرما گرمی دیکھنے کو ملی،جس کے بیچ خونین جھڑپوں میں انسانی لہو زمین پر نظر آیا۔ اس دوران20ہفتوں تک تاریخی جامع سرینگر بھی مقفل رہی،جبکہ شہر خاص کے حساس علاقوں میں 38مرتبہ جزوی یا سخت پابندیا یا بندشیں عائد رہیں۔