۔6سال قبل آگ کی واردات میں خاکستر | منصف کورٹ ڈورو کی عمارت سرنو تعمیر کرنے کا مطالبہ

اننت ناگ//جنوبی قصبہ ڈورو شاہ آبادمیں آتشزدگی سے متاثرہوئی منصف کورٹ کی عمارت گزشتہ 6سال سے تعمیر وتجدیدکی منتظر ہے ۔یہ عمارت9جولائی2016کو آگ کی ایک واردات میں خاکستر ہوگئی تھی تاہم 6برس گزرنے کے بعد بھی نئی عمارت کو تعمیر نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے عدالت میں تعینات عملہ،وکلا و قانونی امداد حاصل کرنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جنگجو کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے ایک روز بعد یعنی 9جولائی2016کو ہجوم نے اس عمارت کو آگ لگا دی تھی جس کے باعث عدالت کا اجلاس ہال ،ریٹرنگ روم ،جج کی رہائش گاہ و دیگر کوارٹر مکمل طور پر خاکستر ہوئے تھے ۔آگ کی اس واردات میں درجنوں قانونی کتابیں و دیگر اشیا راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوئے تھے ۔اس کے علاوہ ہجوم نے عدالت کی عقبی دیوارکو بھی منہدم کیا تھا جس کے بعد 1سال تک یہاں کام کاج ٹھپ رہا تاہم بعد میں لوگوں کے مشکلات کو مدنظر رکھ کر عدالت کا کام کاج عارضی کمروں میں شروع کیا گیا لیکن کئی سال گزرنے کے بعد بھی تباہ شدہ ڈھانچے کی مرمت نہیں ہوپائی ۔کئی ماہ قبل عدالت کی تعمیر کے حوالے سے سرگرمیاں شروع ہوگئی تھیں جس کے باعث عدالت کو خالی پڑی بلڈ بنک عمارت میں منتقل کیا گیا تاہم کافی عرصہ گذر نے کے بعد بھی اس عمارت کی سر نو تعمیر شروع نہیں ہوسکی ۔ڈورو بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ فاروق احمد گنائی نے اس سلسلے میںکشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مذکورہ کورٹ کا قیام 1968میں عمل میں لایا گیا تھا اور عمارت اپنے عہد کے بہترین فن تعمیر کا نمونہ تھا تاہم آگ کی اس واردات میں اس کی چھت ،دروازے اور کھڑکیاں پوری طرح جل گئیں۔2018میں عمارت کی تجدید کے لئے DPRتیار کیا گیاتھا لیکن پروجیکٹ کو منظوری ملی یا نہیں اسکی جانکاری کسی کو نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ عدالت کا کام کاج فی الوقت خالی پڑی بلڈ بنک عمارت میں ہورہا ہے تاہم یہاں چیمبروں اور بیت الخلا کی عدم دستیابی کے باعث وکلا ، ملازمین اور عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ درجنوں افراد اس کورٹ کا رخ کرتے ہیں لیکن جگہ کی تنگی کے باعث انہیں ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔صابق بار صدر وسینئر وکیل ایڈوکیٹ میر محمد حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے نئی عمارت کی تعمیر کیلئے متعدد بار حکام کو تحریری طور آگاہ کیا لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔حال ہی میں وہ وفد کے ہمراہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقی ہوئے ہیں جہاں ایل جی نے یقین دلایا کہ امسال تعمیری کام شروع کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ کورٹ عمارت کی سر نو تعمیر ناگزیر بن چکی ہے لہذا ایل جی انتظامیہ تعمیر کے لئے رقومات واگذار کرے ۔