۔53برسوں بعد بھی سرکاری مڈل سکول کاندھرا کی اپنی عمارت قائم نہیں سٹاف تدریسی عمل کھلے عام چلانے پر مجبور ،2 سوسے زائد بچوں کا مستقبل خراب ہونے کا خدشہ

 محمد بشارت

کوٹرنکہ //کوٹرنکہ سب ڈویژن میں شعبہ تعلیم کا نظام پسماندگی کا شکار ہو گیا ہے جس کی وجہ سے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم سینکڑوں کی تعداد میں بچوں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔سب ڈویژن کے بلاک بدھل نیو میں ایک ایسا سرکاری سکول بھی قائم ہے جس کی مبینہ طورپر گزشتہ 53برسوں سے کوئی عمارت ہی تعمیر نہیں ہے جبکہ سکول میں زیر تعلیم 200کے قریب بچے کھلے عام تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔کاغذی ریکارڈ کے مطابق 1970میں مذکورہ جگہ پر ایک پرائمری سکول قائم تھا جس میں مضافاتی علاقوں کے بچے زیر تعلیم تھے جبکہ 2006میں بچوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے حکام کی جانب سے سکول کا درجہ بڑھا کر پرائمری سے مڈل کر دیا لیکن سکول کا درجہ بڑھانے کے باوجود بھی زمینی سطح پر محکمہ کی عمارت کا کوئی نام و نشان بھی قائم نہیں ہے ۔

 

 

مکینوں نے محکمہ ایجوکیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اس وقت 200کے قریب بچے کھلے عام تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جبکہ مذکورہ مقام پر ایک کچا مویشی خانہ ہے جس کی عمارت کو سکول منتظمین کی جانب سے کچھ حد تک استعمال کیاجارہا ہے ۔غور طلب ہے کہ مذکورہ علاقہ کوٹرائبل سمارٹ گائوں کے زمرے میں لانے کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز مختص کئے گئے تھے لیکن اس دوران بھی سکول کی تقدیر نہ بد ل سکی ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس قدر بڑی رقم مذکورہ علاقہ میں خرچ بھی ہو گئی لیکن زمینی سطح پر عام لوگوں و ان کے بچوں کو بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں ہیں ۔کوٹرنکہ بدھل سڑک کے سات کلو میٹر کی دوری پر آباد گائوں کے طاہر احمد (جس کی زمین میں سکول قائم ہے)نے بتایا کہ 7.50لاکھ روپے کی رقم میں سکول تعمیر کرنے کی کوششیں کی گئی تھی لیکن رقم کم ہونے کی وجہ سے اس دور افتادہ علاقوں میں مذکورہ کوششیں ناکام ہو گئی ۔ممبر پنچایت محمد بشیر نے محکمہ تعلیم کیساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ آفیسران اور سیاسی نمائندے اسٹیچوں پر اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں جبکہ دیہات میں قائم کردہ سرکاری سکولوں میں اس وقت بچوں کو مستقبل خراب کیاجارہا ہے ۔مقامی لوگوں نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کیساتھ ساتھ محکمہ ایجوکیشن کے اعلیٰ آفیسران سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ سرکاری سکول کی عمارت قائم کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی جائیں تاکہ ان کے بچوں کامستقبل بچایا جاسکے ۔