۔5 اگست 2019 کے فیصلے اور کووڈ نے بزنس سیکٹر میں تباہی مچادی | تاجروں ، ہوٹل والوں ، ٹرانسپورٹروں کو بے پناہ نقصان،پیکیج کیلئے مودی ،شاہ سے ملیںگے: ارون گپتا

جموں// نومنتخب صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ارون گپتا نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد اور کووڈ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں تاجروں ، ہوٹل والوں ، ٹرانسپورٹروں اور صنعت کاروں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔سی سی آئی کے صدر ارون گپتا نے کہا"جموں و کشمیر میں خاص طور پر آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کے بعد تاجروں ، ٹرانسپورٹروں اور ہوٹلوں میں کاروبار کرنے والوں کے لئے خصوصی مراعات ہونی چاہئیں کیونکہ ہمیں زیادہ تر نقصان اٹھانا پڑا ہے اور حکومت ہند بھی اس کے بارے میں جانتی ہے۔ لہذا ، حکومت کو چاہئے کہ وہ مراعات دیں‘‘۔گپتا نے کہا "ہمارے پاس 5 اگست 2019 اور کوڈ 19 صورتحال کے بعد تاجروں ، ہوٹلوں ، ٹرانسپورٹروں اور صنعت کاروں کو ہونے والے کل نقصانات کے اعداد و شمار نہیں ہیں۔ ہم تاجروں کو ہونے والے نقصانات کا حساب کتاب کر رہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا "میں نے وزیر اعظم نریندرا مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ تاجروں ،ہوٹل والوں اور ٹرانسپورٹروں کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کیلئے ان سے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کیاجاسکے"۔سی سی آئی جموں کے صدر نے کہا "مجھے نہیں لگتا کہ جموں خطے اور کشمیر کے خطے کے تاجروں کے مابین کوئی اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔ ہم اب بھی دوستانہ تجارت کر رہے ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ آب و ہوا کی صورتحال اور جموں سری نگر ہائی وے پر وسیع کام نے کسی طرح تجارت کو متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے سامان کی نقل و حمل میں تاخیر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا ، 12 ماہ تک ، جموں سرینگر شاہراہ عام طور پر تودے گرنے ، برف باری اور چوڑا کام کے سبب دو ماہ تک متاثر رہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ، "تاہم ہم پورے 10 ماہ تک کشمیر کے ساتھ تجارت کرررہے ہیں"۔اس سے قبل انہوں نے کہا کہ "کوڈ 19 کے دوران دونوں خطوں کی تجارت متاثر ہوئی چاہے وہ سیاحت کی صنعت ، سیاحت ، ٹرانسپورٹرز ، ہوٹلوں اور ریستوراں کی ہو۔ ان سبھی کو بری طرح سے نقصان اٹھانا پڑا ہے اور کوئی بھی کشمیر نہیں گیا جس کی وجہ سے سیاحت کے شعبے کو نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں حکومت دونوں خطوں کے تاجروں سمیت ان کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کرے۔