۔5سال سے چھوٹے بچے کیلئے ماسک ضروری نہیں

 نئی دہلی// مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے انفیکشن کی شدت کتنی ہی کیوں نہ ہو 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے اینٹی وائرل یا مونوکلونل اینٹی باڈیز کے استعمال کی سفارش نہیں کی گئی ہے اور اگر اسٹیرائڈز کا استعمال کیا جاتا ہے تو طبی طور پر 10 سے 14 دنوں میں کم اس کی خوراک کو کم کیا جانا چاہیے۔وزارت صحت نے 'بچوں اور نوعمروں (18 سال سے کم عمر) کے حوالہ سے کورونا کے انتظام کے لیے ترمیم شدہ جامع رہنما ہدیات' کے ذریعہ یہ بھی کہا کہ پانچ سال یا اس سے کم عمر کے بچوں کے لیے ماسک کی سفارش نہیں کی جاتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 6-11 سال کی عمر کے بچے والدین کی براہ راست نگرانی میں محفوظ اور مناسب طریقے سے ماسک کا استعمال کر سکتے ہیں۔وزارت نے کہا کہ 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو بالغوں کی طرح ماسک پہننا چاہیے۔ ماہرین کے ایک گروپ کی طرف سے ان رہنما ہدایات کا جائزہ بالخصوص اومیکرون ویرینٹ کی وجہ سے انفیکشن کے کیسز میں حالیہ اضافے کے پیش نظر کیا گیا۔ تاہم وبائی مرض کی لہر کی وجہ سے محتاط نگرانی کی ضرورت ہے۔رہنما ہدایات میں انفیکشن کے معاملات کو غیر علامتی، ہلکے، درمیانے اور شدید کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ غیر علامتی اور ہلکے معاملات میں علاج کے لیے 'اینٹی مائیکروبائلز یا پروفیلیکسس' تجویز نہیں کی جاتی۔ رہنما ہدایات میں کہا گیا کہ اسٹیرائیڈ کا استعمال صحیح وقت پر، صحیح خوراک اور صحیح مدت کے لیے کیا جانا چاہیے۔ وزارت نے کہا کہ ان رہنما خطوط کا مزید جائزہ لیا جائے گا اور نئے شواہد کی دستیابی پر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ادھرکورونا وبا کے دوران طویل عرصے تک اسکولوں سے دور رہنے سے بچوں میں ذہنی تناؤ اور خوف کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے جس کے بچوں پر پڑنے والے اثرات کو سمجھنے اور جانچنے کی ضرورت ہے ۔