۔5روز بعد بھی وادی کے متعدد علاقے برقی رو سے محروم

سرینگر // وادی کے متعدد علاقوں میں 5روز بعد بھی بجلی سپلائی بحال نہیں ہو سکی ہے اور جن علاقوں میں برقی روبحال ہوئی ہے وہاں صرف ایک گھنٹے بجلی رہتی ہے جس سے نہ صرف عام لوگ بلکہ امتحان کی تیاری کر رہے طلاب کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے ۔ترال سے اطلاع ہے کہ مندورہ ، پنرجاگیر ، بٹھ نور ، چیوہ ، اولر ،آری گام علاقوں میں پانچ روز بعد بھی بجلی سپلائی بحال نہیں ہوسکی ہے جبکہ مین ٹاون میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے۔جنوبی کشمیر کے ہی ڈورواور کوکرناگ تحاصیل کے متعدد علاقے بھی گھپ اندھرے میں ہیں جبکہ علاقے کا حلقہ برنگ پورہ بھی پچھلے پانچ روز سے بجلی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ علاقے میں امتحان کی تیاری کررہے طلباء کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا ہے ۔ادھر شوپیاں ضلع کے متعدد دیہات بھی بجلی سپلائی سے محروم ہیں جبکہ کئی ایک علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے محکمہ اس پورے ضلع میں بجلی بحال کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوا ہے ۔ایک مقامی شہری امتیاز احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ شوپیاں ضلع کے ریسونگ سٹیشن پنجورہ ، ترنج، گاگرن ، پہنو ، نڈواہ کے تحت آنے والے علاقے گھپ اندھیرے میں ہیں ۔ کولگام میں بھی کئی علاقے بجلی سے محروم ہیں جبکہ کئی علاقوں میں شام دیر گئے محکمہ بجلی نے سپلائی کو بحال کر دیا تھا ۔تاہم دمحال ہانجی پورہ اور نو آباد علاقوں میں بجلی سپلائی میں متواتر خلل بدستور جاری ہے۔بانڈی پورہ ضلع میں اگرچہ بجلی سپلائی بحال کر دی گئی تاہم چک ریشی پورہ ، سنرونی ، اہم شریف ، پزالپورہ ، بنہ کوٹ ، خیار ، آجر ، بانڈی پورہ قصبہ ،ملن گام ، الوسہ ، اشٹنگو ، کلوسہ میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ۔ کپوارہ ضلع کے لولاب ، ہندوارہ ، سوگام ، ویلگام ، ترہلگام ، کرالپورہ ،  اورکرناہ کے متعدد علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگ سخت پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ادھر ضلع رام بن کے بانہال، کھڑی ،مہومنگت ، پوگل پرستان ، گول، سنگلدار ،رامسو ، اور نیل چملواس میں برف باری کے بعد سے اب تک بجلی سپلائی بحال نہیں کی جاسکی ہے ۔چیف انجینئر بجلی حشمت قاضی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کولگام میں بدھ کی شام بجلی بحال کر دی گئی اور شوپیاں ضلع میں بھی شام دیر گئے تک بجلی بحال کر دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی کشمیر میں بجلی بحال کرنے کے حوالے سے عملے کو رات دن متحرک رکھا گیا ہے تاکہ بجلی سپلائی کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جا سکے ۔ ڈورواور کوکرناگ میں بجلی سپلائی بحال کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کے تحت آنے والے  رسیونگ سٹیشنوں پر کام چل رہا ہے اور اُمید ہے کہ جمعرات کی شام تک ان علاقوں میں بھی بجلی بحال ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ وہ خود اس وقت فیلڈ میں ہیں اور حالات کا جائزہ لے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ برف باری کی وجہ سے بجلی کے کھمبوں اور ترسیلی لائنوں کو پیڑوں کے گرنے سے کافی نقصان ہوا ہے لیکن اس کے باوجود بھی محکمہ نے وادی میں بجلی بحال کر دی ۔
 

محکمہ بجلی کے  بدنصیب عارضی ملازمین

ایک کا بازو کاٹا گیا،دوسرا زیر علاج

اشفاق سعید 
 
 سرینگر // ترسیلی لائنوں کی مرمت کے دوران پلوامہ میں منگل کو محکمہ بجلی کا ایک عارضی ملازم شدید زخمی ہواہے ۔اس سے قبل یارو لنگیٹ کے رہنے والے ایک عارضی ملازم37سالہ محمد رجب گنائی ترسیلی لائن کی مرمت کے دوران زور کا جھٹکا لگنے سے شدید طور پر جھلس گیا اور صدر اسپتال میں 21دن تک داخل رہنے کے بعدمنگل کو اس کا  ایک بازو کاٹ دیا گیا ۔مذکورہ ملازمین نے کہا کہ اُس کے گھر میں چار بچے ہیں جن کا پیٹ وہ پال رہا تھا لیکن اب وہ اپنے ہاتھ سے محروم ہو گیا ہے عمر بھر کیلئے اپاہچ ہو گیا ۔ادھر پلوامہ ضلع میں بھی اُس وقت محکمہ کا ایک عارضی ملازم زخمی ہوا جب وہ ترسیلی لائن کی مرمت کر رہا تھا ۔شبیر احمد صوفی ولد علی محمد صوفی ساکن وش بگ پلوامہ بنڈزوکے مقام پر ترسیلی لائن ٹھیک کر رہا تھا تو اس دوران بجلی تار کے ساتھ ٹکرا کر زمین پر گر گیا ۔ محکمہ کی لاپروہی کے نتیجے میں اُس کو شدید کرنٹ لگ گیا جس کی وجہ سے اُس کے بازوں اور سر پر گہری چوٹیں آئیں ۔ زخمی ملازم کو پہلے پلوامہ اور بعد میں صدر ہسپتال سرینگر منتقل کیا گیا۔شبیر مزدوری کر کے تین بچوں کا پیٹ پالتا تھا جبکہ کئی ماہ تک اُس کو تنخواہ بھی نہیں ملتی تھی ۔