۔5جنوری1949،کشمیر پر قرارداد کا دن:گیلانی

 سرینگر //حریت(گ) چیئر مین سید علی گیلانی نے اقوام متحدہ میںجموں کشمیر کے تنازعہ سے متعلق منظور کی قرادادوں کو بنیادی اساس قرار دیتے ہوئے کہا بھارت کی ہٹ دھرمی اورمسلسل انکار سے ایک ایسی ہمالیائی حقیقت کو جھٹلاناممکن نہیں۔ 5جنوری 1949 کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے  انہوں نے کہاکہ ان کے مطابق ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے بارے میں ایک جمہوری طرز عمل کے طور پر استصواب رائے کے ذریعے طے کیا جائے گا۔ اس قرارداد میں واضح طور بتایا گیا ہے کہ اس آزادانہ رائے شماری کو بھارت اور پاکستان کی دونوں حکومتوں نے تسلیم کیا ہوا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ اس قرارداد کے مطابق اس ریاست کے ہر فرد کو بلا لحاظ مذہب وملّت اظہارِ رائے کی پوری آزادی ہوگی اور کسی جائز سیاسی سرگرمی پر کوئی پابندی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی فرد کو اپنی اظہارِ رائے کے لیے انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا۔ لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر جہاں اس خطے پر اپنی چودھراہٹ قائم کرنا چاہتا ہے  وہی کشمیر سے متعلق بین الاقوامی اداروں میں کئے گئے وعدوں سے مکر رہا ہے ۔انہوں نے یاد دلایا کہ تقسیم ہندکے فارمولہ کے تحت اگر متحدہ ہندوستان میں موجود ساڑھے پانچ سو ریاستوں کے لئے ممکن تھا تو اس فارمولے کو جموں کشمیر کے لئے اپنانے میں کونسی مصلحت روک بنی ہوئی ہے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ بھارت اپنی روائتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست پر ظلم و جبر کے بل پر اپنا قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک جموں کشمیر کے عوام سے ان کے سیاسی مستقبل سے متعلق رائے پوچھی نہیں جاتی ،تب تک کسی پائدار حل کی امید کرنا عبث ہے۔6؍لاکھ انسانی قربانیوں کے باوجود عالمی ادارے کی خاموشی ہمارے لیے سوہانِ روح بنی ہے۔