۔42کلو میٹر رنگ روڑ کی تعمیر میں 3سال کی ڈیڈ لائن مکمل ہونا نا ممکن

 سرینگر// پانپور سے منی گام گاندربل تک42کلو میٹر متبادل سڑک مجوزہ نیم دائرے والی(رنگ روڑ) کے حصول کیلئے درکاراراضی سرکار  کیلئے سر درد ثابت ہو رہی ہے۔تاہم نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کا کہنا ہے کہ79فیصد اراضی کا حصول عمل میں لایا گیا ہے۔42.10کلو میٹر کارنگ روڑ939کروڑ41لاکھ روپے کی لاگت سے تیار کیا جائے گا،اور اس کی تعمیر کا کام رامکے نامی کمپنی کودیا گیا ہے اور مذکورہ کمپنی کو یہ شاہراہ3برسوں میں مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ رنگ روڑ 6اضلاع کے52علاقوں سے گزرے گا،جن میں پلوامہ،بڈگام،بارہمولہ،سرینگر ،گاندربل اور بانڈی پورہ شامل ہے۔ گالندرپانپور منی گام نیم دائرہ نما شاہراہ واتھورہ چاڑورہ،سویہ بگ،نارہ بل،سمبل اور لار سے ہوکر منی گام تک پہنچے گی۔ پہلے مرحلے میں گالندر سے نارہ بل اور دوسرے مرحلے میں نارہ بل سے منی گام تک پروجیکٹ مکمل کیا جائے گا۔ رنگ روڑ کی تعمیر کیلئے بڈگام میں سب سے زیادہ اراضی4ہزار500 کنال ،حاصل کی جارہی ہے،جس میں سے 3ہزار 661 کنال زرعی اراضی شامل ہے۔گاندربل میں231کنال اراضی حاصل کی جائے گی۔ بانڈی پورہ میں181،بارہمولہ ضلع میں279کنال ،پلوامہ میں379اور سرینگر میں423کنال اراضی حاصل کی جا رہی ہے۔مجموعی طور پر پانپور،گاندربل رنگ روڑ کیلئے 5ہزار995کنال اراضی استعمال میں لائی جائیگی۔ ذرائع نے مزید کہا کہ متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کے کھاتوں میں80فیصد معاوضے کی رقم بھی جمع کی گئی ہے،اور صرف20فیصد رقم باقی ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پانپور گالندر سے گاندربل تک تعمیر کئے جانے والی اس نیم دائرہ نما سڑک کیلئے اب تک79فیصد اراضی کو حاصل کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ21فیصد اراضی ابھی حاصل کرناباقی ہیانہوں نے کہا’’ زمینداروں نے اسٹیمپ ڈیوٹی سے زیادہ کی قیمتیں ظاہر کی ہیں،جس پر تنازع کھڑا ہوا ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ دیگر ریاستوں میں حصول اراضی کیلئے جو قوانین رائج ہیں،ان کا اطلاق جموں کشمیر میں نہیں ہو رہا ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا’’ منظور شدہ رقم کا80فیصد رقم متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کے کھاتوں میں جمع کی جاچکی ہے،تاہم اگر اراضی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو اضافی رقم جمع کرنا پڑے گی۔معلوم ہوا ہے کہ سرینگر میں20لاکھ روپے فی کنال اور15فیصد جبرانہ ، بانڈی پورہ میں 18 لا کھ 61 ہزار500کے علاوہ15فیصد جبرانہ جبکہ پلوامہ میں21لاکھ27ہزار روپے فی کنال قیمت مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو،پروجیکٹ کی ڈیڈ لائن فوت ہوسکتی ہے،اور اس کی تعمیر میں تاخیر ہونے کا احتمال ہے۔ریاستی ہائی کورٹ نے مارچ میں سرکار کو ہدایت دی تھی کہ اراضی کے حصول کیلئے زمینداروں کو این ایچ آئی اے کے فیصلے کے تحت معاوضہ فراہم کرنے کو زیر غور لایا جائے۔جسٹس ایم کے ہانجورہ کی عدالت نے اس سلسلے میں تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کے علاوہ محکمہ مال کے کمشنر سیکریٹری،نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا ،مرکزی محکمہ زمینی ٹرانسپورٹ و شاہرائیں سمیت دیگر متعلقہ محکموں کو نوٹسیں جاری کی تھیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ غلام احمد ڈار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع میں اس نیم دائرہ نما سڑک کیلئے درکار تمام اراضی کا حصو ل عمل میں لایا گیا ہے،جبکہ80فیصد رقومات کی ادائیگی بھی کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بارہمولہ،سرینگر اور پلوامہ میں درکار اراضی کی منتقلی ہوچکی ہے۔ رامکی انفراسٹرایکچر لمیٹیڈ کے نائب صدر محمد ایاز خان نے کہا کہ ابھی تک اس شاہرہ پر کام شروع نہیں ہوا ہے۔کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایاز خان نے بتایا’’ابھی کچھ اضلاع میں اراضی منتقلی کا کام باقی ہے،،تاہم سڑک کی تیاری کیلئے ابتدائی کام شروع کیا گیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کئی بار انہوں نے کام شروع کرنے کی کوشش کی،تاہم لوگوں نے اس میں رخنہ ڈالا۔ نیم دائرہ نما سڑک ارضی مالکان ویلفیئر کمیٹی کے صدر جی اے پال کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ سابق ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی،سابق وزیر مال اور تعمیرات عامہ کے سابق وزیر سمیت متعدد وزراء اور ممبران اسمبلی سے بھی اٹھایا گیا،اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت ریاست میںاراضی حصولیابی قانون کی نئی شکل سے متعلق آرڈی نینس جاری کرے،تاکہ متاثرہ لوگوں کو معقول معاوضہ فراہم ہو سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اہم پروجیکٹ کی نگرانی براہ راست وزیر عظم کا دفتر کریگا۔