۔4کشمیری میڈیکل طالبات کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج

سرینگر // بیرون ریاست کالجوں میںکشمیری طلاب کو ہراساں اور بیدخل کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔سنیچر کو جنوبی بھارت کی 5 ریاستوں کے 7شہروں میںکشمیری طلاب کو بیدخل کرنے کے علاوہ پٹنہ بہار میں کشمیری ہینڈی کرافٹس میلہ کے دوکانداروں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ 24گھنٹوں میں بہار چھوڑنے کی دھمکی دینے کے بعد راجستھان کے ایک میڈیکل کالج نے 4طلاب اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے  ایک طالب علم کو معطل کردیا ۔اس دوران ہماچل پردیش میں ایک طالب علم کو گرفتار کیا گیا ہے۔سنیچر کو نیشنل انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنس (این آئی ایم ایس )یونیورسٹی راجستھان نے 4کشمیری طالبہ کو پلوامہ حملے کے حوالے سے اپنے وٹس ایپ پر سٹیٹس رکھنے کی پاداش میں معطل کر دیا ۔سیکنڈ ائیر کی طالبہ تلوین منظور ، اقرا ، زہرا نذیر ، اور عظمیٰ نذیر کو یونیورسٹی نے اپنے وٹس ایپ پر سٹیٹس 
رکھنے اور اُس کو دوسروں تک پہنچانے کی پاداش میں معطل کیا ہے ۔یونیورسٹی کے رجسٹرار نے اپنے ایک آرڈر میں کہا ہے’’ آپ نے پلوامہ فدائن حملے کے بعد اپنے وٹس ایپ نمبر پر قوم مخالفت پیغام پوسٹ کئے اور اس طرح کی حرکات کو راجستھان یونیورسٹی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گی۔شوشیلا چیترا ہوسٹل کی واڈن نے کہا کہ اُن کو اس بارے میں کوئی علمیت نہیں ہے کہ لڑکیاں کہاں ہیں،  انہوں نے 5.30منٹ پر کیمپس سے باہر کی راہ لی تھی ۔ان چاروں طالبات کیخلاف انڈین پینل کوڈ کی دفعہ124Aکے تحت بغاوت، 153Aدشمنی کو بڑھاوا دینا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت کیس رجسٹر کئے گئے ہیں۔تاہم کشمیر عظمیٰ کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ 4لڑکیوں کو کالج کی ایک کشمیری خاتون ٹیچر کرن بالی نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔اس دوران علی گڑھ یونیورسٹی حکام کے مطابق ایک کشمیری طالب علم باسم ہلال کو یونیورسٹی سے اس بنا پر معطل کیا گیاہے کیونکہ اُس نے پلوامہ میں ہوئے فدائن حملے کے بعد قابل اعتراض ٹویٹ کئے ۔یونیورسٹی کی طرف سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی جس میںکشمیری طلباء سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری طو ر پر کیمپس سے باہر قدم نہ رکھیں ۔ علی گڑ ھ کے مختلف شہروں میں پلوامہ فدائین حملے کے بعد احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر یہ اقدام اٹھایا گیا۔ہماچل پردیش کے سولان ضلع میں ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طالب علم کا داخلہ معطل کر دیا گیا جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔ تحسین گل ساکن سرینگر نامی طالب علم کو اتوار کے روز گرفتار کیا گیا کیونکہ اس نے سوشل میڈیا پر ملک دشمن ریمارکس دیئے تھے۔مذکورہ طالب علم پنجور نالہ گڑھ ہائی وے پر بڈی تحصیل سولان ضلع میںچٹکارا یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔یونیورسٹی حکام کی جانب سے شکایت پر اسکے خلاف کیس درج کیا گیا۔بنگلورو میں ایک طالب علم کو سوشل میڈیا پر ملک دشمن ریمارکس پوسٹ کرنے کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق 23سالہ طاہر لطیف ساکن بارہمولہ کو حراست میں لیا گیا جبکہ ایک اور کشمیر نوجوان عابد ملک کے خلاف سوشل میڈیا پر اونتی پورہ حملہ کو’اصلی سرجیکل سٹرائیک‘ قرار دینے پر کیس درج کیا گیا ہے۔اس دوران کرناٹک میں ایک پرائیوٹ سکول ٹیچر کو پاکستان ک حمایت کرنے پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ زلیخا بی نامی سکول ٹیچر ساکن شیوا پورا بلوگوائی کو سنیچر کی رات کو حراست میں لیا گیا۔اس نے سوشل میڈیا پر کہا تھا’ پاکستان کی جے ہو‘۔ اسکے بعد مظاہرین نے اسکے گھر پر پتھرائو کیا جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔ادھر نئی دہلی میں زیر تعلیم کشمیری طلاب میں خوف و ہراس پیدا ہوگا ہے۔ان طلاب کا کہنا ہے کہ اگر چہ نئی دہلی میں ابھی تک کسی بھی کشمیری طالب علم کو ہراساں کرنے کی اطلاعات نہیں ہیں لیکن پرائیویٹ کرایہ پر رہنے والے طلباء میں دہشت پھیلی ہوئی ہے۔جامع ملیہ اسلامیہ کے ایک طالب علم نے کہا کہ چاہیے کوئی بھی خیالات ہوں، کشمیری طالب علموں کے ساتھ جو بھی ہورہا ہے اس سے انہیں زندگی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔جے این یو کی سابق نائب صدر شہلا رشید نے کہا ہے’’ بھارت بھر میں کشمیری طلاب پر حملے ہورہے ہیں، انہیں ہراساں کرنے اور کالجوں سے بیدخل کرنے کی کارروائیاں ہورہی ہیں، حتیٰ کہ ان کیخلاف بے بنیاد کیس درج کئے جارہے ہیں،اور ہر کیس کے بارے میں یہ دلیل دی جارہی ہے کہ انہوں نے پاکستان زندہ بار کے نعرے لگائے، پولیس بھی بے بنیاد دعوے کررہی ہے‘‘۔اس دوران ڈپٹی کمشنر پولیس نئی دہلی مدھر ورما نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی میں اقلیتوں کی حفاظت کیلئے سیکورٹی کڑی کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائین گے کہ کسی بھی کشمیری کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ادھر نئی دہلی حکومت کے ایک وزیر راجندر پال گوتم نے کشمیریوں پر حملوں کی مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا’’  مذہب کے نام پریہ کس قسم کی نفرت پھیلائی جارہی ہے،ملک ابھی فورسز اہلکاروں کی ہلاکت کے صدمے سے نہیں نکلی، کشمیریوں کیخلاف ناروا سلوک کی اطلاعات آنا شروع ہوگئیں‘‘۔گوتم نے کہا’’ کشمیریوں پر حملوں میں جو بھی ملوث ہیں ، وہ سچے محب وطن نہیں ہیں‘‘۔ادھر جواہرلال نہرو یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس یونین نے کشمیری طلاب پر پیش آئے تشدد کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسے شرارتی اور سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی عمل میںلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔اپنے ایک بیان میں جنرل سیکریٹری اعجاز احمد راتھر نے کہا ہے کہ کچھ شرارتی اور سماج کوتقسیم کرنے والے عناصر بیرون ریاستوں کے مختلف علاقوں میں کشمیریوں اور طلباء کو نشانہ بنارہے ہیں اور ایسے لوگ نفرت پھیلا کر امن وامان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی سرکار کو اس بات کی یقین دہانی کرانی تھی کہ کشمیری طلاب پر اس طرح کے حملے نہ ہوں ۔انہوں نے اس دوران ملک بھر کے سیاسی لیڈران ، میڈیا اور سیول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی مداخلت کرتے ہوئے عوام میں نفرت کے بجائے اہم آہنگی اور امن کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے اثرو رسوخ کا استعمال کریں تاکہ کشمیری طلباء بیرون ریاستوںمیں محفوظ رہ سکیں ۔انہوں نے سیاسی لیڈران سے درخواست کی کہ انہیں اس اہم مرحلے میں ایسے عناصر کو روکنے کیلئے ذاتی مداخلت کرنی چاہئے جو ملک کو تقسیم کرنے کے درپے ہیں ۔
 
 
 
 

کشمیریوں پر حملے بند کئے جائیں:سی پی آئی ایم پولٹ بیورو

نیوز ڈیسک

نئی دہلی//کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)نے ملک کے مختلف حصوںمیں کشمیرسے تعلق رکھنے والے طلباء اور دیگر لوگوں پرکئے جارہے حملوں پر تشویش کااظہار کیا ہے۔ ایک بیان کے مطابق پارٹی کے پولٹ بیورونے کہاکہ دہردون میں ویشوہندوپریشداوربجرنگ دل کے کارکنوں نے طلباء کی مارپیٹ کی۔دیگر مقامات پربھی کشمیری طلباء اور تاجروں پر حملے کئے گئے اور انہیں ہراساں کیاگیا۔جموں میں کشمیریوں پر حملوں کے بعد کرفیو نافذ ہے ۔ قدرتی طور لوگ سی آر پی ایف کے40اہلکاروں کی پلوامہ میں ہلاکت سے غمزدہ ہیں لیکن اس موقعہ کو معصوم کشمیریوں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کرنا قابل ملامت ہے ۔کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) کے پولٹ بیورو نے مرکزی اورریاستی حکومتوں پرزوردیا ہے کہ وہ کشمیری لوگوں کی حفاظت کیلئے ہرممکن اقدام کریںاور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے۔
 
 
 

 ریاستی طلباء کی سلامتی کا جائز ہ 

گورنر کے صلاح کار کی صوبائی کمشنر سے مشاورت

نیوز ڈیسک

سری نگر//گورنر کے صلاح کار خورشید احمد گنائی نے صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان سے بیرون ریاست مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوںمیں زیر تعلیم ریاستی طلباء کی حفاظت سے متعلق اُٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا۔صوبائی کمشنر نے صلاح کا ر کو بتایا کہ وہ مختلف ریاستوں کے عہدہ داروں کے ساتھ لگاتار رابطے میں ہیں جنہوں نے ریاستی طلباء کی حفاظت کی یقینی دہانی کرائی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی کمشنر کشمیر اور ریاستی پولیس نے ہیلپ لائن نمبرات قائم کئے ہیں جن پر طلباء اور والدین اپنے خدشات درج کراسکتے ہیں۔صلاح کار کو ملک کے مختلف شہروں میں لیزان افسروں کی تعیناتی کے حوالے سے بھی جانکاری دی گئی جو نئی دلی میں قائم پرنسپل ریذیڈنٹ کمشنر جموں وکشمیر کی نگرانی میں کام کریں گے ۔صلاح کار نے صوبائی کمشنر کو بتایا کہ گورنر ذاتی طور مختلف شہروں میںلیزان افسروں کے کام کاج اور طلباء کی بہبو دکا جائزہ لے رہے ہیں اور گورنر نے پرنسپل ریذیڈنٹ کمشنر کو طلباء کی طرف سے درج کی جانے والی کسی بھی شکایت کا فوری نوٹس لے کر متعلقہ ریاستوں کے عہدہ داروں کے اشتراک سے بروقت کارروائی کرنے کے احکامات دئیے ہیں۔