۔370منسوخی کے بعد امن آیا اقتدار میں آتے ہی کشمیر کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی کوشش

۔  2024تک این آئی اے شاخیں سبھی ریاستوں میں ہونگی: امت شاہ
نیوز ڈیسک

نئی دہلی// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ نریندر مودی حکومت نے دہشت گردی کے تئیں زیرو ٹالرنس کی اپنی پالیسی کے مطابق این آئی اے اور انسداد دہشت گردی قوانین جیسی تحقیقاتی ایجنسیوں کو مضبوط کرنے کیلئے تمام کوششیں کیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی مئی 2024 تک تمام ریاستوں میں شاخیں ہوں گی۔وزیر داخلہ نوا رائے پور کے اٹل نگر علاقے میں این آئی اے کی رائے پور برانچ کے دفتر کی عمارت کے افتتاح کے موقع پر بات کر رہے تھے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ جب سے وہ اقتدار میں آئے ہیںحکومت نے کشمیر کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی کوشش کی ہے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں امن دیکھنے میں آرہا ہے اور آج ہماری ایجنسیاں وہاں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے میں کامیاب ہوئی ہیں،یہ اسلئے ممکن ہوا کیونکہ این آئی اے نے 2018، 2019 اور 2020 میں دہشت گردی کی فنڈنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ۔

 

کل 105 مقدمات (دہشت گردی کی فنڈنگ کے) درج کیے گئے اور 876 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 94 مقدمات میں چارج شیٹ داخل کی گئی تھیں۔انہوں نے کہا، ’’مودی حکومت نے بائیں بازو کی انتہا پسندی، دہشت گردی ،جعلی کرنسی اور منشیات سمیت دیگر متعلقہ جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی اور اس لئے ہم نے این آئی اے کو مضبوط کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی‘‘۔شاہ نے مزید کہا کہ بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت نے بھی انسداد دہشت گردی کے قوانین کو مضبوط کیا، ریاستی حکومتوں کے ساتھ دہشت گردی سے متعلق معلومات کا اشتراک کیا، قطع نظر اس کے کہ ریاست میں کسی بھی پارٹی کی حکومت کیوں نہ ہو، انسداد دہشت گردی کی تحقیقاتی ایجنسیوں کو مضبوط کیا اور اس طرح کے جرائم میں سزا کی شرح میں اضافہ کیا۔انہوں نے کہا”اس (پالیسی) کے مطابق، ہماری حکومت نے این آئی اے کو مضبوط بنانے کی سمت کام کیا، مجھے خوشی ہے کہ این آئی اے کی طرف سے نمٹائے گئے کیسوں میں سزا سنانے کی شرح 2014 میں 75 فیصد سے 94 فیصد تک پہنچ گئی ہے‘‘ ۔

 

شاہ نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے بائیں بازو کی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا بھی عہد کیا ہے جو اب ملک کے صرف چند اضلاع تک محدود ہے۔”پہلے ایل ڈبلیو ای کا اثر و رسوخ 120 اضلاع تک پھیلا ہوا تھا لیکن اب یہ سکڑ کر صرف 46 اضلاع تک رہ گیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں کچھ ایسے اضلاع ہیں جو اب بھی اس خطرے سے نبرد آزما ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر اسے ختم کریں گی۔