۔350 پلس کا ہدف

۲۰۱۹ء کے عا م انتخابات ہونے میں اب صرف ۱۸؍سے ۲۰؍ ماہ باقی ہیں۔بی جے پی کے صدر امیت شاہ ۳۵۰؍یا اس سے بھی زیادہ کی پارلیمانی نشستوں پر جیت درج کرنے کے خواہاں ہیں اور اپنی دانست میں وہ محنت بھی کر رہے ہیں۔اس ہدف کو پالینے کے لئے وہ کسی کو بھی اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لئے تیار ہیں اگر وہ پارٹی کی طاقت میں اضافے کا سبب بنے ،خواہ اُس کا ماضی کتنا ہی داغدارکیوں نہ ہو۔یعنی کہ اس جادوئی عدد کو ہر صورت میں حاصل کرنا ہی ان کا نصب العین ہے۔پالیمانی الیکشن سے پہلے گجرات ا ور ہماچل پردیش میں اسمبلی کے انتخابات ا مسال اور کرناٹک میں آئندہ سال کے شروع میںہونے والے ہیں ۔شمال مشرقی ریاستوں یعنی میگھالیہ،میزورم اور تریپورہ میں بھی الیکشن ہونے ہیں۔اس کے بعد ۲۰۱۸ء کے اخیر میں مدھیہ پردیش،چھتیس گڑھ اور راجستھان کے بھی صوبائی الیکشن ہوں گے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان صوبائی انتخابات کے نتائج  ۲۰۱۹ء کے عام انتخابات کو متاثرنہیں کریں گے۔اس سے قبل کچھ ضمنی انتخابات بھی ہوں گے اور ان کے نتائج سے مختلف پارٹیوں کی کارکردگی کا اندازہ ہوگا۔
 
یوپی کے وزیراعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے اپنی لوک سبھا کی سیٹوں سے استعفیٰ دے دیا ہے ، اس لئے وہاں بھی جلد ہی الیکشن ہوںگے۔وہ الیکشن بی جے پی کے لئے ایک بہت بڑا امتحان ہوگا۔استعفیٰ دینے سے پہلے وزیر اعلیٰ اور دونوں نائب وزراء اعلیٰ نے اُتر پردیش کی اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے عوام کا سامنا نہیں کیا بلکہ چور دروازے سے ایم ایل سی بن کر اسمبلی پہنچے اور وہ بھی دوسری پارٹیوں کے لیجسلیٹیو کونسل کے ممبروں کو توڑ کر ان سے استعفیٰ دلوایااور نشستیں خالی ہونے کے بعد اِن دونو ں کو پُر کیا۔اگر یہ دونوں چاہتے اور شاید چاہتے بھی ہوں کہ الیکشن کے راستے اسمبلی پہنچیں کیوں کہ دونوں ہی’ مقبول ‘لیڈر ہیں اور یوگی جی تو لگاتار ۵؍بار چُن کر آئے ہیںلیکن پارٹی نے ایسا کرنے سے انہیں روک دیا۔اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کس قدر پریشان ہے حالانکہ یوپی کے الیکشن کو ہوئے ابھی چند ماہ ہی گزرے ہیں جس میں اس نے تین چوتھائی نشستیں جیتی ہیں۔بی جے پی کسی طرح کا کائی رِسک لینا نہیں چاہتی ۔اگر خدانخواستہ ان دومیں سے کوئی ایک بھی الیکشن ہار جاتا تو پارٹی اور خاص طور پر وزیر اعظم مودی کی کتنی رسوائی ہوتی ،اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے اور ممکن ہے کہ ایسی صورت میں پوریمساوات ہی تبدیل ہو جاتی کیونکہ آج کے حالات میں ایسا اسلئے ہو سکتا تھا کہ بی جے پی کے امیدواروں کے خلاف یوپی میں حزب اختلاف کا ایک ہی امیدوار ہوتا اور لڑائی آر پار کی ہوتی۔اگر آمنے سامنے صرف دو پارٹیاں ہوں تو بی جے پی کے لئے اپنی عزت بچانا آسان کام نہیں ہوگاکیوںکہ اسے پتہ ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے؟خیر یہاں تو اس نے اپنا بچاؤ کر لیا لیکن لوک سبھا کے گورکھپور اور پھولپور کے ضمنی انتخابات میں خود کو کیسے بچا پائے گی، یہ دیکھنے جیسا ہوگا کیونکہ پھولپور کی سیٹ سے مایاوتی نے اپنی امیدواری کا اعلان کر دیا ہے اور اسی لئے انہوں نے اپنی راجیہ سبھا کی سیٹ سے ڈرامائی طور پرحال ہی میں استعفیٰ دیا تھا۔گورکھپور کی پارلیمانی سیٹ پر بھی مقابلہ کم دلچسپ نہیں ہوگا کیونکہ اس خطے میں سماجوادی پارٹی کی پکڑ اچھی خاصی ہے اور اکیلا امیدوار رہنے کی صورت میں سماجوادی کی جیت ممکن ہو سکتی ہے۔یہ تو طے ہے کہ ضمنی انتخابات میں حزب اختلاف متحد ہوگا اور آگے کا لائحہ عمل کا انحصار بھی اسی پر ہے۔یہ الگ بات ہے کہ حکومتی ایجنسیوں کا خوف انہیں موقع پرست بننے پر مجبونہ ر کر دے ۔
 
پنجاب کے ایک اور ضمنی الیکشن کے لئے بی جے پی کو کوئی امیدوار نہیں مل رہا تھا اور پرچۂ نامزدگی داخل کرنے سے فقط ایک دن پہلے اُس نے ممبئی کے ایک راجپوت تاجر سورن سنگھ سیلیریاکو میدان میں اُتارا۔حالانکہ ان کا آبائی وطن گروداسپور ہی ہے جہاں سے فلم اداکار ونود کھنہ ۴؍مرتبہ منتخب ہوئے تھے اور ان کے انتقال کے بعد ہی یہ سیٹ خالی ہوئی ہے۔کانگریس نے بہت پہلے سابق اسپیکر بلرام جاکھڑ کے بیٹے اور پنجاب کانگریس کے صدر سنیل جاکھڑ کے نام کا اعلان کر دیا تھا، وہیں عام آدمی پارٹی نے سبکدوش میجر جنرل سریش کھجوریہ کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔اگرچہ ۱۱؍اکتوبر کو ایک اور ضمنی الیکشن (وینگرا لوک سبھا سیٹ پر) کیرلامیں بھی ہے لیکن گرداسپور کے الیکشن کے دلچسپ ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگرچہ بی جے پی کا یہ گڑھ ہے لیکن کیپٹن امریندر سنگھ کی کارکردگی اور حکمت عملی بی جے پی کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے اور کھجوریا بھی ایک سخت چیلنج پیش کر سکتے ہیں کیونکہ گرداسپور میں سابق فوجیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
 
ایک بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ انتخابات سے پہلے جو پیش گوئی ٹی وی والے دکھاتے ہیں،پتہ نہیں کیوں گجرات کے الیکشن کے تعلق سے خاموش ہیں؟کسی طرح کا کوئی اعداد و شماراس بابت ٹی وی کے کسی چینل پر پیش نہیں کیا جا رہا ہے جب کہ صرف ۲؍ماہ ہی باقی ہیں۔ذرا یاد کریں کہ یوپی میں انتخابات سے پہلے ٹی وی اور اخبارات میں کس قدر گھمسان مچا ہو اتھا۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہاں بی جے پی کے لئے سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اور زمینی حالات جو حقائق پیش کر رہے ہیں وہ ٹی وی والے دکھا نہیں سکتے۔آخر کچھ تو صحافت کی آبرو کا خیال رکھنا ہے۔ابھی ابھی ’بلیٹ ٹرین‘ کی صورت میں جو نمائش وزیر اعظم نے پیش کی تھی وہ گجراتیوں کو رجھانے کے لئے ہی تھا جس کو عام گجراتیوں نے بالکل نہیں سراہا۔گجراتی چونکہ تاجر ہوتے ہیں اور نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے سب سے زیادہ یہی طبقہ متاثر ہوا ہے وہ بلیٹ ٹرین لے کر کیا کرے گا؟الیکشن کے پیش نظر ہی سروور ڈیم کا افتتاح بھی وزیر اعظم نے اپنے جنم دن کے موقع پر کیا لیکن اس ڈیم سے متاثر لوگوں کو یاد تک نہیںکیا۔اس لئے گجرات کے لوگ وزیر اعظم کی منشا کو سمجھ چکے ہیں اور اسمبلی الیکشن میں اس کا ثبوت بھی پیش کریں گے۔
 
ہماچل پردیش کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ ویر بھدر سنگھ عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے ہیں کہ انہیں خود سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہئے لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے اور کانگریس کو نقصان پہچائیں گے۔شمال مشرقی ریاستوں میں’ بیف ‘کے تعلق سے لوگ بی جے پی کے خلاف ہیں اور وہاں کانگریس کی موجودگی اچھی خاصی ہے اور کچھ جگہوں پر مقامی پارٹیاں بھی اپنا وجود رکھتی ہیں۔مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں حکومت مخالف لہر ہے جس کا مشاہدہ ضمنی انتخابات اور بلدیہ کے انتخابات میں کیا گیا ہے اور ان تینوں جگہوں پر حزب اختلاف پارٹی کانگریس ہی ہے ۔اس کے علاوہ تمل ناڈو میں سیدھا مقابلہ اب بی جے پی کی مرکزی حکومت اور عدالت سے ہو گیا ہے۔بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ وہاں الیکشن نہ ہوں اور کسی طرح بھی اِی پلان سامی کی حکومت کو گرنے سے بچا لے جس کے لئے اگر غیر جمہوری کام بھی کرنا پڑے تو پروا نہیں۔تمل ناڈ و میں مرکز آخر کیوں نہیں کُل وقتی گورنر مقرر کرتا ؟عدالت میں سبکی ہونے کے بعد ہی سیدھا راستہ اختیار کیا جائے ،کوئی ضروری تو نہیں۔
 
اب ہم آتے ہیں مشن ’۲۰۱۹ء‘ کی طرف۔اگر امیت شاہ نے ۳۵۰؍پلس کا ہدف رکھا ہے تو کانگریس اُس کو ۱۵۰؍ تک محدود کرنے پر محنت کرے۔اس میں اس کے اتحادی بھی اس کی مدد کریں گے۔اگر یہ نشانہ رکھیں گے تو ممکن ہے کہ بی جے پی ۲۰۰؍ سیٹوں تک سمٹ جائے۔ممکن ہے کہ وہ ۲۰۱۹ ء میں بڑی پارٹی بن کر ابھرے لیکن واجپئی جی کی طرح مجبور و بے بس رہے کیونکہ ہندوستان میں ایسے حالت کی سخت ضرورت ہے۔راہل گاندھی نے جس رواداری اور ہم آہنگی کی بات اپنے امریکی دورے میں کی ہے اور جس کی کمی ہندوستان میں شدت سے محسوس کی جارہی ہے، اُس کی بازیافت کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے روزگار کی فراہمی کی بھی بات کی ہے جو بی جے پی اِن ۳؍برسوں میں فراہم کرنا تو دور اپنی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے موجود روزگاروں کو کھا گئی ہے۔
 
یہ ناممکنات میں سے نہیں ہے۔بی جے پی کا جو بھی زور ہے وہ ’ہندی بیلٹ‘میں ہے جس میں یو پی،اتراکھنڈ، بہار،ایم پی،چھتیس گڑھ ،راجستھان، دہلی، پنجاب اور ہریانہ آتے ہیں اور اس کے غلبہ والے مہاراشٹر اور گجرات کو بھی اس میں شامل کرلیں۔یہ تمام ملا کر بھی ۲۷۵؍سیٹوں سے زیادہ نہیں ہوتیں اور کوئی ضروری نہیں ہے کہ ۲۰۱۴ء میں جو نتیجے یہاں سے آئے وہ اِس باربھی دُہرائے جائیں۔اس لئے امیت شاہ کے جھانسے میں آنے کی چنداں ضرورت نہیں۔جنوبی ہندوستان کے پانچوںصوبوں، مغربی بنگال،ادیشہ،پنجاب ، دہلی ، جموں و کشمیراور شمال مشرقی ریاستوں نیز مرکز کے زیر انصرام یونین ٹریٹری میں بی جے پی کا کوئی زور نہیں۔یہی وجہ ہے کہ شاہ اور مودی دن رات نئے لوگوں اور نئی پارٹیوں کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ اس جادوئی عدد کو پا سکیں لیکن اِس بارایسا ہو کوئی ضروری نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 نوٹ :مضمون نگار ماہنامہ تحریرِ نو، نئی ممبئی کے مدیر ہیں
رابطہ 9833999883