۔35 اے کیساتھ چھیڑ چھاڑ ناقابل قبول :مجلس شوریٰ کشتواڑ

کشتواڑ // جموں کشمیر کی دفعہ35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی صورت میں شدید احتجاج کا انتباہ دیتے ہوئے مرکزی مجلسِ شوریٰ ضلح کشتواڑ نے عوام کو فیصلہ کن عوامی ایجی ٹیشن کیلئے تیار رہنے کوکہا ہے۔ یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 370کے تحت اس ریاست کوجو خصوصی اختیارات حاصل ہیں اور اس کے پشتینی باشندوں کے سوا کوئی یہاں مستقل سکونت اختیار نہیں کرسکتا ہے اور نہ ہی یہاں اراضی کی ملکیت حاصل کرسکتا ہے، کو ختم کرانے کی خاطر مقامی کٹھ پتلی حکومتوں کے ساتھ باضابطہ سازباز کرکے کئی قوانین پاس کروائے گئے اور مختلف محکموں بالخصوص محکمہ دفاع اور کمپنیوں کو لاکھوں کنال اراضی الاٹ کی گئی اور لاکھوں کی تعداد میں غیر ریاستی باشندے یہاں کے مستقل باشندے بنائے گئے۔ صوبہ جموں میں غیر ریاستی باشندوں کو مستقل سکونت کی جعلی اسناد کا سلسلہ ہنوز درپردہ جاری ہے اور اس پر قدغن لگانے کے ٹھوس اقدامات سے جان بوجھ کر گریز کیا جارہا ہے۔ اس سارے منصوبے کا اصل مقصد اس ریاست کی مسلمانوں کی اکثریتی آبادی کو کم کرکے اقلیت میں تبدیل کرکے جموں کشمیر کے بھارت کے ساتھ عارضی اور مشروط الحاق کو حتمی اور غیر مشروط بنانا ہے۔ یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ بھارت کے ساتھ عارضی الحاق کی دستاویز میں یہ بات درج ہے کہ جموںوکشمیر کے باشندوں کو اپنا سیاسی مستقبل طے کرنے کی خاطر رائے شماری کا موقعہ دیا جائے گا لیکن ستر سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس وعدے پر عمل نہیں کیا جارہا ہے حالانکہ سلامتی کونسل کی کئی قرار دادوں میں بھارت نے رائے شماری کرانے کے وعدے کی تصدیق کی ہے اور یہ بات بھی مان لی یہ کہ رائے شماری اقوام متحدہ کی غیر جانبدارانہ نگرانی میں کی جائے گی۔ امتداد زمانہ کے ساتھ بھارت کے حکمرانوں نے اس وعدے سے مکرنا شروع کیا اور یہاں ہونے والے اسمبلی و پارلیمانی انتخابات کو ہی اس کا نعم البدل قرار دیا حالانکہ رائے شماری اور انتخابات میں زمین و آسمان فرق ہے اور ایسا کہنا دن کو رات کہنے کے مترادف ہے۔ چونکہ بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرار دادوں کے ذریعے اس وعدے کو نبھانے کا عہد کیا ہے اور کسی بھی وقت اقوام متحدہ کا ادارہ بھارت کو اس وعدے کا ایفا کرنے پر زور دے سکتا ہے تو اس صورت میں بھارتی حکمرانوں کو لگتا ہے کہ جموںوکشمیر میں آبادی کا موجودہ تناسب اْن کے حق میں نہیں ہوگا اس لیے اب سازشوں کے ذریعے اس تناسب کو کم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس کے لیے اب بھارت کے سپریم کورٹ کو استعمال کیا جارہا ہے تاکہ کسی نہ کسی طریقے سے بھارتی آئین کی اْن دفعات سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے جن میں جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور رہائشی پشتینی باشندوں کی حیثیت کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے حالانکہ جب تک اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل نہیں کیا جاتا یا مسئلہ کشمیر کو مستقل اور منصفانہ بنیادوں پر یہاں کے جملہ عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا تب تک ان دو دفعات کا اپنی اصل شکل میں قائم رہنا ناگزیر ہے۔ مجلسِ شوریٰ جموں کشمیر میں‘ عدالتی مداخلت کے ذریعے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی چھیڑ چھاڑ کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اْن تمام عناصر کی کڑی مذمت کرتی ہے جو ریاست جموں کشمیر کی اس پوزیشن کو زک پہنچانے کی خاطر مختلف حربے اور ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں اور مختلف بہانوں سے عدالتوں میں اس کو ختم کروانے کی خاطربے بنیاد مقدمات درج کروارہے ہیں۔ اور مجلسِ شوریٰ یہاں کے عوام پر زور دیتی ہے کہ وہ اس حوالے سے مکمل بیداری کا ثبوت فراہم کریں اور اپنے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر کامل اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں۔ دفعہ 35Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے نہ صرف ریاست کی مسلمان آبادی کے مفادات بری طرح متاثر ہوں گے بلکہ غیر مسلموں کا معاشی اور معاشرتی نظام بھی درہم برہم ہوکر رہے گا اور اْن کی شناخت ہی ختم ہوجائے گی۔ اس حوالے سے مجلسِ شوریٰ ریاست میں بسنے والے غیر مسلم پشتینی باشندوں کو بھی ریاست کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی تمام کوششوں کا مقابلہ کرنے اور یک جٹ ہوکر ایسے عناصر کے خلاف آواز بلند کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔مجلس شوریٰ ریاست کے اس نادان طبقہ کے ضمیر کوبھی بیدار کرنا چاہتے ہیں جس نے ریاست میں CGST ٹیکس کو یہاں نافز کر کے ریاستی عوا م کے پائوں پر کلہاڑی ماری وہ طبقہ بھی ریاستی عوام کی آوازسے آواز ملائے اور ریاست کے آئین کی بالادستی کیلئے عوام کا ساتھ دے۔