۔35 اے پر فیصلہ حکومت لیگی

  حکومت ہند کا کوئی بھی کام اہلیان وادی کے مفاد میں ہوگا:رام مادھو

 
سرینگر// بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے دفعہ 35 اے سے متعلق سوالات کو ٹالتے ہوئے کہا  ہے کہ حکومت ہند کا ہر ایک کام اہلیان جموں وکشمیر کے مفاد میں ہوگا۔ رام مادھو نے بدھ کے روز ایس کے آئی سی سی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جموں وکشمیر کی علاقائی جماعتیں سیکورٹی فورسز کی 100 اضافی کمپنیوں کی تعیناتی کو بلاوجہ دفعہ 35 اے کے ساتھ جوڑکروادی کشمیر میں خوف و ہراس کی فضا قائم کررہی ہیں۔رام مادھو نے کہا’’بی جے پی کا اس( آئین ہند کی شق35ائے کی تنسیخ)پر موقف واضح ہے،تاہم یہ جماعت نہیں ہے جو اس کا فیصلہ کرے ،بلکہ اس کا فیصلہ وزیر اعظم اور انکی حکومت کو لینا ہے،تاہم میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جو بھی فیصلہ لیا جائے گا،وہ ریاست کے مفاد میں ہوگا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اضافی فورسز کو امرناتھ یاترا یا انتخابات کیلئے لایا گیا،کیونکہ پنچایتوں میں بلاک سطح پر انتخابات ہونے ہیں۔جموں وکشمیر میں مجوزہ اسمبلی الیکشن کے حوالے سے رام مادھو کا کہنا تھا کہ ہم مانگ کررہے ہیں کہ ریاست جموں وکشمیر میں جلد از جلد اسمبلی الیکشن منعقد کئے جائیں۔ بی جے پی اسمبلی انتخابات لڑنے کیلئے پوری طرح سے تیار ہے۔ انہوں نے کہا’’ہم نے جموں، لداخ اور کشمیر میں انتخابی عمل سے متعلق تمام تیاریاں شروع کردی ہیں‘‘۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ جس طرح پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے دوران نوجوانوں نے اہم رول ادا کیا اور نئی قیادت کو سامنے لایا، اُمید ہے کہ اسمبلی الیکشن کے دوران بھی نوجوان بنا کسی ڈر کے الیکشن میں حصہ لیگی۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو نشانہ بناتے ہوئے رام مادھو نے کہا کہ’’سیاسی قلعہ کھسکنے‘‘ کے نتیجے میں وہ خود کو اشتعال انگیز بیانات دیکر بچا رہی ہے۔
انہوں نے کہا’’ خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش علاقائی جماعتوں کی سیاسی زمین کھسکنے سے بچنے کیلئے کی جارہی ہے،تاہم ہم ریاست میں اپنے کام میں پیش رفت جاری رکھیں گے،وہ لوگوں میں جائیں اور انتخابات کے بارے میں بات کریں،جبکہ انکی جماعت کے لیڈروں نے بھی انکی پارٹی کے یوم تاسیس میں شرکت نہیں کی‘‘۔انہوں نے کہا کہ وہ اب دھماکوں اور بارود کی باتیں کر رہے ہیں،کیونکہ انکے ناک کی نکیل کس دی گئی ہے،اور وہ یہ ڈرامہ خود کو بچانے کیلئے کر رہے ہیں۔مادھو نے کہا کہ حکومت وہ تمام اقدامات اٹھائے گیء جو قانون دائرے میں ریاستی عوام کے مفاد میں ہونگی،تاہم’’ کچھ معاملات عدالت میں التواء میں ہیں انہیں وہاں پر اٹھایا جائے گا‘‘۔انہوں نے بتایا کہ جب مرکزی و ریاستی حکومتوں نے کرپٹ سیاستدانوں کیخلاف کارروائی شروع کرنی چاہی تب یہاں کی علاقائی سیاسی پارٹیوں نے دفعہ 35Aسے متعلق عوام کو گمراہ کرنے کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ رام مادھو کے بقول کرپٹ عناصر کیخلاف مرکزی وریاستی حکومتوں نے جو مہم شروع کی ہے ، بی جے پی اس کی بھر پور طریقے سے حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن میں چاہے کوئی بھی اعلیٰ سرکاری افسر یا سیاست دان شامل کیوں نہ ہو، اُسکے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اُسے کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائیگا۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کو کتنا ہی بڑا لیڈر کیوں نہ ملوث ہو، اُسکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔رام مادھو نے بتایا کہ جس طرح مرکزی سرکار نے دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کیلئے دندان شکن مہم شروع کی ، اُسی طرح رشوت خوروں کے خلاف بھی مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔ نیشنل کانفرنس صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رام مادھو نے بتایا کہ آج اگر چندی گڑھ میں کسی کی پوچھ تاچھ عمل میں لائی جارہی ہے تو عین ممکن ہے کہ کل کسی کا سرینگر میں محاسبہ کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی مرکزی و ریاستی حکومتیں کرپٹ سیاست دانوں کے پیچھے لگیں، تو انہوں نے گولہ بارود کی باتیںکرنی شروع کردی۔ یہاں کی علاقائی سیاسی پارٹیوں کو اب پھر سے گولہ بارود یاد آگیا۔ انہیں پھر سے 35Aکوخطرہ محسوس ہونے لگا، اسی لیے انہوں نے لوگوں کو ڈرانے اور دھمکانے کا کام شروع کردیا۔ 
 

اویناش رائے کھنہ

 اسمبلی الیکشن کیلئے انچارج مقرر

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی// بی جے پی نے پارٹی کے سینئر لیڈر اویناش رائے کھنہ کو جموں وکشمیر میں رواں برس منعقد ہونے والے اسمبلی الیکشن کیلئے پارٹی انچارج مقرر کیا ہے۔مذکورہ فیصلہ منگل کونئی دہلی میں پارٹی کی کور گروپ میٹنگ پارٹی کے دوران کیا گیا ۔فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کے جنرل سیکریٹری ارون سنگھ نے کہا کہ پارٹی ہر پولنگ بوتھ پر پارٹی ممبران کی موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے کام کررہی ہے تاکہ ہر نشست سے پارٹی اپنے اُمیدوار کھڑا کرکے اپنے بل پر انتخابات لڑے۔یاد رہے اویناش رائے کھنہ جموں وکشمیرسے جڑے معاملات پر پارٹی کے انچارج بھی ہیں۔