۔35اے پر خطہ پیر پنچال میں دوسرے روز بھی بند اور احتجاجی مظاہرے

 
راجوری +پونچھ //آئین ہند کے دفعہ 35اے کے معاملے پر خطہ پیرپنچال کے اضلا ع راجوری اور پونچھ میں لوگوں نے کئی جگہوں پر احتجاجی ریلیاں نکالیں اور مظاہرے کئے ۔راجوری پونچھ کے بیشتر قصبوں میں بند رہا اور نماز جمعہ کے بعد بڑی تعداد میں لوگ مساجد سے باہر آئے اور انہوں نے بھاجپا کی قیادت والی مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اس پرریاست کے حالات خراب کرنے کاالزام عائد کیا۔راجوری ضلع میں قصبہ راجوری ، تھنہ منڈی ، درہال ، منجاکوٹ ، بدھل اور کوٹرنکہ قصبوں میں تمام کاروباری اور دیگرادارے بند رہے اور سڑکوں پر بھی گاڑیاں بھی نہیں نظر نہیں آئیں ۔آل پارٹی کوآرڈی نیشن کمیٹی کی کال پر ہر جگہ پہر لوگوں نے صبح کے وقت ہی احتجاجی دھرنے دیئے جبکہ نماز جمعہ کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جن میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔انہوں نے دفعہ 35اے کے تحفظ کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے کہاکہ انتباہ دیاکہ اس کے ساتھ کسی بھی صورت میں چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے ۔واضح رہے کہ خطے میں راجوری اور پونچھ قصبوں سمیت گزشتہ روز بھی بند رہاتھا۔راجوری میں آج گوجر منڈی ، کھیورہ اور پرانے شہر چوک سمیت کئی علاقے بند تھے ۔اس دوران مساجد سے ریلیوں کی شکل میں نکل کرلوگ گوجر منڈی پہنچے جہاں انہوں نے احتجاجی دھرنا دیا۔اس موقعہ پر مذہبی رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھاجپا کی قیادت والی مرکزی سرکار نے دفعہ 35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے افراتفری کا ماحول پیدا کردیاہے ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ بی جے پی لیڈرا ن اس پورے مسئلے کے ذمہ دار ہیں جو اپنے ووٹ بنک کے طور اس دفعہ کا استعمال کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں صورتحال پہلے سے ہی کشیدہ ہے جہاں امن کے قیام کے بدلے ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں جس سے حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں۔انہوں نے عدالت عظمیٰ سے اپیل کی اس سلسلے میں دائر کی گئی عرضی کو مسترد کیاجائے ۔دریں اثناء پونچھ ضلع میں پونچھ ، مینڈھر اور سرنکوٹ و منڈی میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور بند رکھاگیا۔مینڈھر میں بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی ریلی میں شریک ہوکر ریاست کے خصوصی تشخص کی حفاظت پر زور دیا۔وہیں سرنکوٹ قصبہ میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیاگیا او ر پورا دن دکانیں اور تجارتی ادارے بند رہے ۔اس دوران مظاہرین نے ٹائر جلاتے ہوئے بھاجپا کے خلاف نعرے بازی کی اور الزام عائد کیاکہ وہ ریاست کے خصوصی تشخص کو کمزور کرناچاہتی ہے ۔پونچھ کے منڈی قصبہ میں بھی مسلسل دوسرے روز بھی بند رکھاگیا اور تجارتی مراکز بند رہے ۔اس دوران کھنیتر اور دیگر علاقوں میں بند اور احتجاج ہوا۔وہیں صدر مقام پونچھ میں دوپہر بارہ بجے تک مکمل بازار بند رہا اور نماز جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسجد پونچھ سے امام و خطیب مولانا فاروق احمد مصباحی کی قیادت میں ایک احتجاجی ریلی بر آمد کی گئی جس میں مظاہرین نے ہاتھوں میں دفعہ35اے کے دفاع کے حق میں پلے کارڈ بھی اٹھارکھے تھے۔ یہ ریلی صدر بازار سے گزرتے ہوئے پریڈ گرائونڈ پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی ۔اس دوران زنانہ پارک میں ایک احتجاجی اجلاس منعقد کیا گیا جہاں مقررین نے کہاکہ دفعہ 35اے پر حملہ ہماری تہذیب وتمدن، شناخت، ثقافت پر حملہ ہے جس کو کسی بھی صورت میں ختم نہیں ہونے دیاجائے گا۔انہوںنے مرکزی سرکار کو متنبہ کیاکہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑچھاڑ نہ کی جائے۔ اپنے صدارتی خطاب میں مولانا فاروق احمد مصباحی بھی آئین ہند کی دفعہ 35-Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے تمام عوام سے اس سلسلہ میں متحد ہو کر آواز بلند کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی فرقہ پرست طاقتیں ایک مذموم اور ناپاک سازش کے تحت ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا چاہتی ہیں لیکن ایسا ہونے نہیں دیاجائے گا۔بند کال اور احتجاج کی وکلاء تنظیموں اور دیگرتنظیموں نے بھی حمایت کی ۔