۔32 برس قبل تعمیر پرائمری اسکول گوجر ناڑ سانگلہ کی عمارت خستہ حال | 2کمروں میں 30سے زائد طلباء بیٹھنے پر مجبور ،والدین بچوںکیلئے پریشان

بختیار کاظمی
سرنکوٹ// تعلیمی زون بفلیاز کے علاقہ سانگلہ کے محلہ گوجر ناڑ میں تقریباً 32 سال قبل ایک گورنمنٹ پرائمری اسکول کی تعمیرعمل میں لائی گئی تھی تاہم حکام بالخصوص متعلقہ محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے اب مذکورہ عمارت آہستہ آہستہ تباہ حال ہونے شروع ہو گئی ہے جبکہ دو کمروں پر مشتمل عمارت میں بچوں کیلئے بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں ۔والدین نے محکمہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہاکہ گور نمنٹ پرائمری سکول گوجر ناڑ سانگلہ میں اب بچوں کو مستقبل خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔والدین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ سکولی عمارت کا حال خراب ہونے کی وجہ سے بچوں و ملازمین کو اب باہر بیٹھنا پڑرہا ہے لیکن اس سلسلہ میں متعلقہ محکمہ سے رجوع کر کے اس عمارت کی مرمت کر کے بچوں کے قابل بنانے کی کئی مرتبہ اپیلیں کی گئی لیکن ابھی تک طلباء و سٹاف ممبران کی پریشانی کو حل ہی نہیں کیاگیا ۔غور طلب ہے کہ اس وقت پرائمری سکول میں 30سے زائد بچوں کا اندرا ج کیاگیا ہے لیکن متعلقہ حکام کی نا اہلی کی وجہ سے سکول میں بچوں کے بیٹھنے کیلئے معیاری جگہ ہی دستیاب نہیں ہے جبکہ تعمیر شدہ عمارت آہستہ آہستہ منہدم ہو نے کی دہلیز تک پہنچ چکی ہے ۔سکول میں بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے چار ٹیچر تعینات کئے گئے ہیں ۔مقامی لوگوں نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر اور ضلع ترقیاتی کمشنر سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ گورنمنٹ پرائمری سکول کی عمارت کو قابل استعمال بنانے کیلئے محکمہ ایجوکیشن کو ہدایت جاری کی جائیں تاکہ بچوں کا مستقبل خراب نہ ہو ۔