۔3حملہ آور گرفتار ،4کی تلاش جاری

چندی گڑھ//مہندرا گڑھ ہریانہ میں دو ریاستی طلبہ پر قاتلانہ حملے میں ملوث3حملہ آوروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مزید4کی شناخت عمل میں لاکر ان کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کردی گئی ہے۔اس دوران حملے کا نشانہ بنے طلبہ اور ان کے ساتھیوںنے ہریانہ پولیس کے اس بیان کو مسترد کردیا ہے کہ حملے سے پہلے ان کا کسی   کے ساتھ کسی قسم کا کوئی جھگڑا ہوا تھا۔ ہریانہ کے مہندرا گڑھ علاقے میں جمعہ بعد دوپہر بلوائیوں کی ایک جمعیت سے راجوری سے تعلق رکھنے والے آفتاب احمد اور امجد علی نامی طالب علموں پر بغیر کسی اشتعال قاتلانہ حملہ کیا اور دونوں کی شدید مارپیٹ کی۔دونوں طلباء سینٹرل یونیورسٹی ہریانہ میں جغرافیہ میں پوسٹ گویجویشن کررہے ہیں اور فائنل ائر کے طالب علم ہیں۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب طلبہ نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد واپس یونیورسٹی کی طرف لوٹ رہے تھے۔ہریانہ پولیس نے واقعہ کی نسبت ایف آئی آر درج کی ہے جس میں انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 148 (فساد، جان لیوا ہتھیاروں سے لیس) ، 149(کسی پر حملہ کرنے کیلئے غیر قانونی اجتماع) ،341اور323(جان بوجھ کر جسمانی گزند پہنچایا) شامل کی گئی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اس معاملے کو لیکر جموں کشمیر اور ہریانہ حکومت کے ساتھ ساتھ متعلقہ یونیورسٹی حکام کی مداخلت کے تناظر میں پولیس نے تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں ہی راجوری کے طلبہ پر حملہ کرنے والے3بلوائیوں کو حراست میں لیا۔یہ گرفتاریاں واقعہ کی ویڈیو کلپ کا جائزہ لینے کے بعد عمل میں لائی گئیں جس کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کی گئی۔ ہریانہ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل بی ایس سندھو نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا’’واقعہ کی ویڈیو کلپ سے ہم اس میں ملوث لوگوں کی شناخت کرسکے، یہ تمام لوگ مقامی ہیں، تین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دیگر چار کی شناخت بھی کی جاچکی ہے اور انہیں بہت جلد قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا‘‘۔ہریانہ پولیس چیف نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ دو گروپوں کے درمیان جھگڑے کے دوران پیش آیا اور یہ کوئی سنگین مسئلہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی نسبت ایف آئی آر درج ہے اور مزید تحقیقات کی جارہی ہے۔تاہم بلوائیوں کے حملے کا شکار ہوئے طلباء اور ان کے دیگر ساتھیوں نے پولیس کے اس بیان کو مسترد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا کہہ کر پولیس اس معاملے کونیا رُخ دینے کی کوشش کررہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا کسی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھابلکہ یہ حملہ بغیر کسی جواز اور اشتعال کے کیا گیا۔آفتاب احمد اور امجد علی کے دو دوست ریحان اندرابی اور روی بھی واقعہ سے کچھ دیر قبل تک ان کے ساتھ تھے ۔انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ جب امجد اور آفتاب پر حملہ کیا گیا تو وہ ان سے صرف500میٹر کی دوری پر تھے اور آفتاب کی فون کال موصول ہونے کے بعد وہاں کی طرف دوڑ پڑے۔روی نے بتایا’’جب ہم ہاں پہنچے تو ہم نے امجد کو بھاگتے ہوئے دیکھا، ہم نے دیکھا کہ قریب12لوگوں کا ہجوم ان کے پیچھے ہے اور جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو وہ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے، اُس وقت آفتاب کی ناک سے خون بہہ رہا تھا‘‘۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی حکام کی مداخلت کے بعد ہی پولیس نے کیس درج کرلیا۔