۔26جنوری تقریب میں صحافیوں کی شرکت پرپابندی

سرینگر// صحافیوں کو26جنوری کی تقریب میں روکنے کو صحافتی آزادی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے رپورٹرس بغیر سرحد(آر ایس ایف) نے مذمت کی۔آر ایس ایف نے اپنے بیان میں کہا’’ سیکورٹی حکام کی طرف سے’’منفی رپورٹوں کی بنیاد پر ایس کے اسٹیڈیم میں صحافیوں کو داخل ہونے سے روکا گیا جبکہ یہ صحافی جموں کشمیر حکام کی طرف سے تسلیم شدہ صحافی ہیں‘‘۔ بیان میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں کچھ مزید وجہ ظاہر نہیں کی گئی۔رپورٹرس بغیر سرحد(آر ایس ایف) کے ایشیائی خطے کے سربراہ ڈنیل نے کہا’’ یہ آزادی صحافت کی سنگین خلاف ورزی ہے ،اسلئے بھی مزید پریشان کن ہے کیونکہ یہ بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریب سے تعلق رکھتی ہے اور اس میں قانون کی عمل داری منسلک ہے‘‘۔ آر ایس ایف نے کہا کہ پولیس کی طرف سے یہ پابندی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ان صحافیوں کو بلیک لسٹ کیا گیا جو حکومت ہند کے خطوط کا تعاقب نہیں کرتے ہیں۔انہوں نے جموں کشمیر سرکار پر زور دیا کہ اس نا قابل قبول فیصلے پر وہ روشنی ڈالے اور وادی کشمیر کے متاثرہ صحافیوں کے خلاف اہانت میں اضافہ کرنے کو ختم کرے۔بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی سطح کے صحافیوں جن میں یوسف جمیل،معراج الدین،عمر معراج اور دانش اسماعیل کے علاوہ بھارتی میڈیا کیلئے کام کرنے والے بلال بٹ،اشرف وانی سمیت گریٹر کشمیر کے حبیب نقاش اور امان فاروق ان صحافیوں میں شامل ہیں،جنہیں اسٹیڈیم میں داخل ہونے پر پابندی عائد کی گئی۔ آر ایس ایف کے بیان میں مزید کہا گیا کہ انڈئن سیکورٹی سروس کشمیر میں آزادی صحافت کی خلاف ورزیوں میں اضافہ کر رہی ہے،جبکہ پولیس نے دانستہ طور پر گزشتہ ہفتہ4 صحافیوں کو پیلٹ کا نشانہ بنایا۔اس بیان میں مزید کہا گیا کہ کشمیر نریٹر کے صحافی آصف سلطان گزشتہ5ماہ سے شبہات کی بنیاد پر مقید ہیں،جبکہ گزشتہ برس جون میں رائزنگ کشمیر کے مدیر اعلیٰ شجاعت بخاری کو گولی مار کر ماراگیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں صحافیوں کی حالات زار ہی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ ہے کہ بھارت آر ایس ایف کے2018عالمی آزادی صحافت فہرست میں180ملکوں میں سے138ویں پائیدان پر تھا۔