۔26جنوری :بھارت میں خوشیاں: کشمیر میں ماردھاڑ اور گرفتاریاں:مولانا حامی

سرینگر//کاروان اسلامی کے امیر مولانا غلام رسول حامی نے کہا ہے کہ 26جنوری کی آمد سے ہی کشمیریوں کا قافیہ حیات تنگ کیاجاتاہے۔ مرکزی جامع مسجد شریف کولبگ بڈگام میں خطاب کرتے ہوئے مولاناحامی نے کہاکہ ’’جہاں بھارت کے کونے کونے میں یوم جمہوریہ کی تقریبات کو شدو مد سے منایا جا رہا ہے، وہیں کشمیر اور کشمیری عوام کیلئے اس دن کو بد قسمتی سے تعبیر کیا جا رہا ہے کیونکہ26 جنوری آنے سے قبل ہی ریاست اور بیرونِ ریاست کشمیری عوام کو کشمیر کے نام پر کریک ڈائون ، جامہ تلاشیاں، مار دھاڑ اور زدوکوب کا دائرہ وسیع کر کے قافیہ حیات تنگ کیا جاتا ہے ‘‘۔ انہوںنے کہاکہ’’ اس کی تازہ مثال دلی کی جامع مسجد کے گردو نواح میں کشمیریوں کو ہوٹلوں سے نکال کر بیمار اور تیمارداروں سمیت ٹھٹھرتی سردی میں رات گزارنے پر مجبور کرنا ہے ،ریاست کے طول و ارض میں خونین حالات روز بروز اتنی شدت سے ہو رہے ہیں جس میں کشمیری عوام کے لئے زندہ رہنا محال ہو رہا ہے ‘‘۔ مولانا حامی نے کہاکہ ’ہم پہلے بھی یہ اقوام عالم پر واضح کر چکے ہیں کہ خون خرابہ ، تشدد ، بندوق اور گولیوں سے دنیا میں کسی بھی مسئلے کا حل نہیںہوگا اور نہ ہوا ہے ،لہٰذا اس مسئلے کیلئے مضبوط سیاسی ، سماجی اور آئینی طور مستقل کوششوں کو بروے کار لانے کی اہم ضرورت ہے ‘۔