۔23نومبر 1933؍

بیسویں صدی انقلابات کی صدی کہلاتی ہے ۔اس صدی میں بڑے بڑے انقلابات رونماء ہوئے جن میں ایرانی انقلاب بھی شامل ہے۔ یہ انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں ۱۹۷۹ ء میں پیش آیا ۔ اس انقلاب نے پورے عالم اسلام کی تحریکات آزادی کی امید کی کرنوں سے جگمگا کر پوری دنیا کو دفعتاً ورطہ ٔ حیرت میں ڈال دیا ۔ ایک مغربی مفکر مائیکل فوکالٹ (Michal Foucault (نے اسے (Sprit of the world with out world) یعنی بے روح دنیا کی روح قرار دیا۔ مذکورہ انقلاب کے صورت گروں میں چند اہم نظریہ ساز مفکرین کا ہاتھ رہا ۔ ان میں ایک طرف اگر امام خمینیؒ اور شہید مرتضیٰ مطہری ؒنے مذہبی علوم کی بنیاد پر اس انقلاب کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے میں زبر دست رول ادا کیاتو دوسری طرف مایہ ناز ایرانی ماہر سماجیات ، روشن طبع مفکر ،بے باک مقرر اور عظیم اسکالر ڈاکٹر علی شریعتی ؒنے مسلم نشاۃ ثانیہ کو خوابوں کی دنیا سے نکال کر حقیقی دنیا میں روبہ عمل لانے کے لیے اور اس راہ میں درپیش الجنھوں کو حل کرنے میں کلیدی رول ادا کیا ۔ڈاکٹر علی شریعتی وہ عہد ساز شخصیت ہیں جنھوں نے ایران میں اس عظیم انقلاب کے لیے علمی ، فکری اور منطقی بنیادوں پر راہیںہموار کیں۔ 
      ڈاکٹر علی شریعتی  ؒ۲۳ نومبر ۱۹۳۳ء میں خراسان میں مشہد کے قریب ایک گاوں مازینان میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد محمد تقی شریعتی ایک مذہبی عالم ہونے کے ساتھ ساتھ معلم بھی تھے، جن سے علی شریعتی نے رواج کے مطابق ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ محمد تقی شریعتی نے اپنے بیٹے کی ہمہ جہت اور ہمہ گیر تربیت کی۔ علی شریعتی کے مطابق ’’میرے والد نے مجھے بہترین انسان بنایا اور میرے لیے سوچنے کا زاویۂ نگاہ متعین کیا، یہی وہ شخص ہیں جنہوں نے مجھے کتابوں اور لائبریری سے روشناس کیا۔‘‘ڈاکٹر علی شریعتی ۱۷؍ سال کی عمر میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ معلمی کا پیشہ بھی اختیار کیا لیکن چار سال بعد اس کو چھوڑ کر مشہدیونیورسٹی میں ۱۹۵۹؁ء میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد فرانس چلے گئے۔ جہاں انہوں نے ۱۹۶۴؁ء میں سور بورن یونیورسٹی سے سوشالوجی میں ڈاکٹریٹ کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ 
ڈاکٹر علی شریعتی کو فارسی، عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں پر زبردست عبور حاصل تھا۔ انہوں نے اسلامی علوم کا عربی سے براہ راست مطالعہ کیا جب کہ انگریزی اور فرانسیسی زبانوں سے مغربی علوم کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ وہ بچپن سے ہی مطالعہ کرنے کے بے حد شوقین تھے اس لیے کہا کرتے تھے کہ ’’مطالعہ مکونام کہ زندگی مکونام‘‘ یعنی میں مطالعہ اس لیے کرتا ہوں تاکہ زندگی باقی رہے۔ 
ڈاکٹر علی شریعتی بچپن سے ہی انتہائی ذہین وفطین تھے، وہ اس جیسے طالب علم کی طرح نہ تھے جو طالب علمی کے دوران اپنے آپ کو درسی نصاب تک ہی محدود رکھتا ہے بلکہ شریعتی وہ طالب علم تھے جس نے دوران تعلیم سیاسی وغیر سیاسی سرگرمیوںمیں حصہ لیا اور جہاںبھی گئے انتہائی متحرک اور فعال رہے۔ انہوںنے طالب علمی کے زمانے ہی میں محمد مصدق کی نیشنل فرنٹ میں حصہ لیا۔ اس کے بعد مرتضیٰ مطہری کی اصلاحی تحریک سے بھی وابستہ ہوئے۔ ۱۹۵۸؁ء میں ایک نوجوان استاد کی حیثیت سے آیت اللہ طالقانی کی تحریک میں بھی شامل ہو گئے۔ 
۱۹۵۹؁ء میں جب علی شریعتی اعلیٰ تعلیم کی غرض سے فرانس چلے گئے تو دورانِ تعلیم انہوں نے قدیم وجدید افکار ونظریات کا خوب مطالعہ کر کے ان کی تہہ تک پہنچ گئے، پھر معاصر افکار ونظریات پر خوب تنقیدی جائزہ لیا۔ علاوہ ازیں پیرس میں ان کو البرٹ کومس، آرنالڈ ٹائن بی، جارج گوریک اور جارج جان پال سارتر جیسے بڑے بڑے دانشوروں کے ساتھ مکالمہ آرائی کرنے کا بہترین موقع ملا۔ علی شریعتی کی باتیں وہاںسند کی حیثیت رکھتی تھیں۔ جان پال سارتر کے ساتھ ان کو کئی بار مکالمہ آرائی ہوئی جس میں وہ سارتر کومات دیتے تھے۔ جان پال سارتر نے علی شریعتی کی مفکرانہ صلاحیت اور قابلیت کا جابجا اعتراف کیا۔ انہوں نے علی شریعتی کے متعلق مشہور جملہ کہا ہے : 
"I have no religion, but if were to chose one it would be that of Shariatis"
’’میرا کوئی مذہب نہیں ہے لیکن اگر مجھے کسی مذہب کا انتخاب کرنا ہوتا تو میں علی شریعتی کا مذہب یعنی اسلام کو اختیار کرتا۔‘‘ 
اسی دوران علی شریعتی پیرس میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایرانی انقلاب کے لیے راہیں ہموار کرتے رہے۔ انہوں نے دیار غیر میں ان ایرانی قائدین سے رابطہ قائم کرنے کے بعد انہیں متحد کیا جو فرانس میں جلائے وطن کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے تھے۔ علی شریعتی امریکہ میں ایرانی لوگوں پر مشتمل تنظیم ’’نیشنل فرنٹ‘‘ کے بانی ارکان میں سے ایک ہیں اور اس کی تنظیمی آرگن ایرانِ آزادی میں بحیثیت ایڈیٹر کام کیا۔ اس کے علاوہ ایران سے باہر طلبہ تنظیموں کا اتحاد Union of Islamic Students Associations in Europe کے نام سے تنظیم قائم کی۔ اسی طرح کی ایک اور تنظیم Students of Islamic Associations in Amarica & Canada سے بھی وابستہ ہوئے۔ مذکورہ بالا دونوں تنظیموں کے سرکاری مجلات میں مقالات لکھتے رہے۔ فرانس میں زیر تعلیم ایرانی طلبہ پر مشتمل ایک اور تنظیم قائم کی جس نے رضا شاہ کی مطلق العنانی پر زبردست تنقیدیں کیں۔ نیز دنیا بھر کے قائدین سے بھی رابطہ قائم کیا تاکہ رضا شاہ کی مطلق العنان حکومت سے غلو خلاصی ملے۔ گویا کہ ان کی پوری زندگی ہر دم رواں دواں تھی۔
ڈاکٹر علی شریعتی جب ۱۹۶۴؁ء میں پیرس سے جہد مسلسل کے بعد ایران واپس لوٹے تو ان کو سرحد سے ہی گرفتار کر کے تہران جیل بھیج دیا گیا کیونکہ شاہ حکومت پیرس میں ان کی تمام حکومت مخالف سرگرمیوں پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ ۶؍ مہینے بعد ۱۹۶۵؁ء میں رہائی ملی۔ رہائی کے بعد ان کو ایک ہائی اسکول میں استاد کی حیثیت سے تعینات کیا گیا، یہ اصل میں ان کے ساتھ تذلیل کی گئی۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور دانشور کو ایک ہائی اسکول میں استاد کی حیثیت سے تعینات کرنا کہاںکی عقل مندی تھی؟ اس پر جب زبردست ہنگامہ برپا ہوا تو محکمہ تعلیم نے ان کو مشہد یونیورسٹی کا پروفیسر مقرر کر دیا۔ اس کے بعد ۱۹۷۰؁ء میں علی شریعتی تہران آگئے اور سرکاری ادارے ’’حسینہ ارشاد‘‘ میں لیکچرس دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کے لیکچرس سننے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہو جاتے تے۔ ایران کے ہر کونے سے لوگ ان کی انقلابی تقاریر کے شیدائی اور دلدادہ تھے۔ علی شریعتی میں بلا کی قسم کی خطابت تھی۔ انتہائی کم وقت میں بھی وہ سامعین کو حقائق اور علمی وفکری بنیادوں سے روشناس کراتے تھے۔ انہوں نے شہنشاہی حکومت کے خلاف طویل علمی وفکری مخاصمہ کیا۔ جہاں وہ اپنے علمی اور انقلابی خیالات کا اظہار کرتے تھے وہاں جدید تعلیم سے آراستہ نوجوانوں کا ہجوم موجود رہتا تھا۔ ان کی تقاریر سے سڑکیں جام ہو جاتی تھی۔ اس طرح انہوں نے عوام میں انقلابی سوچ اور انقلاب کے لیے راہیں ہموار کیں۔ ایرانی پولیس اور انٹلی جنس نے ایک روز حسینہ ارشاد کا محاصرہ کر لیا جہاں سے علی شریعتی اپنے لیکچرس کے کیسٹس ملک کے کونے کونے تک پہنچاتے تھے، اسی موقع پر شریعتی کے بہت سے شیدائیوں کو گرفتار کر لیا گیا اور اسی وقت شریعتی زیر زمین چلے گئے لیکن شاہ حکومت نے ان کے عوض ان کے ضعیف والد کو گرفتار کیا جس کے نتیجے میں ان کو گرفتاری کے لیے پیش ہونا پڑا۔ اس کے بعد ۱۹۷۴؁ء میں ان کو تیسری بار گرفتار کیا گیا اور ۱۸؍ ماہ تک قید خانے میں مختلف قسم کی صعوبتیں جھیلتے رہیں۔ اندرونی اور بیرونی ایران سے شاہ حکومت پر دبائو بڑھتا گیا جس کے نتیجے میں علی شریعتی کو حکومت نے مجبوراً رہا کیا گیا، لیکن ان کے تقاریر اور کتابوں پر پابندی عائد کر دی گئی اور شاہ حکومت نے ان پر کڑی نگاہیں رکھیں۔ ڈاکٹر شریعتی ایک کارواں کی طرح حکومت کو تن تنہا للکارتے رہے اور چٹان کی طرح ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ 
بالآخر کار انہوں نے اس بات کا تہیہ کر لیا کہ بہتر طریقے سے قوم وملت کی خدمت ملک سے باہر رہ کر ہی کی جاسکتی ہے۔ انہوںنے کسی طرح جعلی پاسپورٹ بنایا اور لندن پہنچ گئے۔ ان کی اہلیہ اور چھوٹی بیٹی کو ایرانی حکومت نے ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی۔ تین مہینوں کے بعد ۱۹؍ جون بروز بدھ ۱۹۷۷؁ء میں محض ۴۴؍ سال کی عمر میں اس مرد آہن وجلیل کو لندن میںنہایت مشکوک حالات میں شہید کیا گیا۔  ان کی نعش دمشق پہنچائی گئی جہاں ان کو حضرت زینب ؓ کی قبر کے نزدیک ان کی خواہش کے مطابق دفنایا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ 
ڈاکٹر علی شریعتی اسلام کو مکمل نظریہ حیات، تحریک اور مکمل شریعت سمجھتے تھے۔ ان کے لیکچرس پر مشتمل ایک کتاب اسلام شناسی (اسلام کیا ہے؟) میں وہ لکھتے ہیں کہ اسلام سمجھنے کے لیے دو بنیادی اور اہم طریقے ہیں ایک یہ کہ اسلام کو تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی حیثیت سے سمجھا جائے جو چودہ سو سال سے اپنا مکمل وجود رکھتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسلام کو ایک نظریہ کے طور پر پڑھا اور سمجھا جائے۔ ڈاکٹر شریعتی مزید لکھتے ہیں کہ پچھلے تین سو سال سے، مفکرین ، مصلحین اور فلسفیوںنے اسلام کی یہی تشریح وتعبیر پیش کی ہے۔ اسلام کی صحیح شناخت تب ہی ہو سکتی ہے جب ہم اس کو نظریہ کے طور پر پڑھیں۔ ڈاکٹر علی شریعتی کے نزدیک اسلام ایک ایسا دین ہے جو صالح سماج اور تہذیب کی تعمیر کرتا ہے۔ موصوف ایک لیکچر Where shall we begain?میں کہتے ہیں کہ اسلام کو سیکھنے اور سمجھنے کے پانچ طریقے ہیں وہ اس طرح ہیں: 
(۱) اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا (۲) قرآن مجید کو جاننا (۳) انبیائے کرامؑ کے بارے میں علم حاصل کرنا (۴) ان حالات کو سمجھنا جن میں اسلام کی بعثت ہوئی (۵) اور ان شخصیات کی سیرت کا مطالعہ کرنا جنہیں اسلام نے پیدا کیا ہے۔ یہ سب سے مفید اور کارآمد منہج ہے جس کے ذریعے سے اسلام کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اسلام کے تصور توحید کے بارے میں ان کا موقف کچھ اس طرح ہیں: اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے توحیدی مذہب کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا جو ہر لحاظ سے نظام شرک کے مخالف ہے اور تمام انبیائے کرامؑ نے توحیدی نظریہ کو پیش کیا جو کہ باطل پرستوں کے لیے خطرناک نظریہ ہے۔ ڈاکٹر شریعتی مزید کہتے ہیں کہ تمام انبیائے کرامؑ بالخصوص حضرت ابراہیمؑ اور حضرت محمدﷺ  تک نے طاغوتی طاقتوں کے خلاف زور دار بغاوت کی ہے اور صحیح معنوں میں ان کی کمر توڑ دی ہے۔ 
ڈاکٹر شریعتی بھی علامہ اقبال کی مانند ان مفکرین میں سے ایک ہیں جنہوں نے مغربی فکر وتہذیب کی شدید تنقید کی۔ شریعتی مغرب کی سیاسی، اقتصادی اور تہذیبی بالادستی کو مسلم ممالک کے لیے خطرے کے طور پر لیتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ مغرب جس نے سیاسی، اقتصادی اور تہذیبی غرض تمام پہلوئوں پر بالادستی قائم کر رکھی ہے، ایشیا اور افریقہ کے لیے بالعموم اور مسلم ممالک کے لیے بالخصوص خطرے کی علامت ہے۔ 
ان کی زبان میں مغرب اپنی اقتصادی بالا دستی اور تہذیبی یلغار کے ذریعے سے آگے بڑھتا جا رہاہے۔ شریعتی اس بات سے عالم اسلام کو باخبر کرتے ہیں کہ مغربی استعماریت ایشیائی اور افریقی تہذیبوں کو مغربی تہذیب میں تبدیل کرنے کے درپے ہے۔ ڈاکٹر شریعتی مغربی تہذیب کی نقل اتارنے کے سخت مخالف ہیں۔ وہ اس حوالے سے انتہائی سخت لہجے میں یوں رقمطراز ہیں کہ ’’ہم چڑیا گھر میں بندر کی طرح بیٹھ کر لوگوں کو آتے جاتے دیکھ رہے ہیں اور بس! اور لوگ جو کچھ کرتے ہیں ہم بندر بن کر ان کی نقل اتارتے جاتے ہیں۔‘‘ شریعتی مغربی تہذیب کی خود ساختہ برتری کے لیے مغرب زدگی جیسی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب وہ مغربی علوم اور اس کے مفکرین سے استفادہ کرنے کے لیے بہت قائل نظر آتے ہیں چونکہ خود ان کی فکر پر جن افراد نے اثر ڈالا ان میں علامہ اقبالؒ، ابن رُشدؒ، ملا صدرا ؒکے علاوہ کارل مارکس، جان پال سارتر قابل ذکر ہیں۔ وہ مغربی مفکرین کے فکر وخیال سے گاہے بگاہے استفادہ کرتے تھے اور اپنے لیکچرس میں ان مفکرین کا حوالہ بھی دیاکرتے تھے۔ 
شیعیت اور شیعی پیشوائیت کی تشکیل نو کا جیسا اہم کام بھی انہوں نے ہی اٹھایا۔ جب ان کی کتاب اسلام شناسی اور ان کا ایک مقالہ حسینہ الارشاد کی طرف سے شائع ہوا تو ایران میں مذہب کے علم برداروں نے ان کے خلاف زبردست پروپیگنڈا کیا۔ اس طرح سے ان کی تقریروں میں قابل اعتراض مواد، روحانیت کے خلاف تقاریر، تاریخ شیعیت کے کچھ اہم رہنمائوں کے خلاف الفاظ کی جنگ اور اپنی منفرد آراء کی وجہ سے ان ایام میں ایران میں روایتی مذہبی علم برداروں کی طرف سے تنقیدوں کا نشانہ بھی بننا پڑا۔ ڈاکٹر شریعتی کے نزدیک سوگواری اور عزاداری کے مراسم پر تنقیدی نگاہ ڈلی۔ ڈاکٹر شریعتی کے مطابق اہل بیت ؓ کی قدرومنزلت صرف اس وجہ سے نہیں کہ وہ پیغمبر اسلام  ؐکے اہل بیت ہیں بلکہ اس لیے ہیں کہ اہل بیت نبویؐ اور قرآن وسنت کی اتباع کا کامل نمونہ ہیں۔ روشن طبع مفکرین اور دانشوروں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’مسلم دانشوروں اور مفکرین کا اولین کام یہ ہے کہ اسلام کی جو منحرف اور محرف تعبیر پیش کی جا رہی ہے اس کو وہ ختم کریں اور اسلام کی اصل شکل وصورت لوگوں کے سامنے پیش کریں۔‘‘ عوام اور خواص کے درمیان ایک دوسرے کے نزدیک آنے کی راہ میں جو رکاوٹیں ہیں اس کو بہت بڑا المیہ قرار دیتے ہیں ۔ شریعتی کا کہنا ہے کہ روایتی سماجوں میں بالعموم اور مسلم سماجوں میںبالخصوص یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ عوام اور اہل علم کے درمیان رابطے میں بہت بڑی کمی پائی جاتی ہے۔ شریعتی اس ضمن میں مزید لب کشائی کرتے ہیں کہ ’’لہٰذا ان روشن طبع مفکرین اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ سماج کی تشکیل نو اس طرح ہم آہنگی کے ساتھ کریں کہ دو کناروں کے فاصلے یعنی فکر اور عمل کے درمیان تفریق ختم ہو جائے۔‘‘ ان کی یہ بات ہزاروں کی ہے کہ عوام اور طبقہ مفکرین کے درمیان بیگانگی اور غیر مانوسیت کی دیواروں کو ختم کرنا اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی جائے۔ 
رابطہ 9045105059