۔21 برس بعد ہندستان اپنی بہترین فیفا رینکنگ پر

 نئی دہلی/ ہندوستانی فٹ بال قومی ٹیم نے فروری 1996 کے بعد اپنی بہترین رینکنگ حاصل کر لی ہے اور وہ بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن (فیفا) کی تازہ جاری عالمی رینکنگ میں 96 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہے جبکہ اے ایف سی فہرست میں وہ 12 ویں مقام پر ہے ۔فیفا نے جمعرات کو اپنی جاری رینکنگ میں اس کی اطلاع دی۔ہندستان کی سب سے بہترین فیفا رینکنگ اب تک 94 رہی ہے جو اس نے فروری 1996 میں حاصل کی تھی اور نومبر 1999 میں وہ اپنی دوسری بہترین 99 ویں پوزیشن پر رہا تھا۔ہندستانی فٹ بال ٹیم نے گزشتہ دو برسوں میں فیفا رینکنگ میں زبردست چھلانگ لگائی ہے اور اس نے اپنی پوزیشن میں اس دوران 77 مقامات کا سدھار کیا ہے ۔ہندستانی ٹیم نے اپنے گزشتہ 15 میچوں میں سے 13 میں کامیابی حاصل کی ہے اور وہ آٹھ میچوں سے مسلسل غیر مفتوح چل رہا ہے جس میں بھوٹان کے ساتھ اس کا غیر رسمی میچ بھی شامل ہے ۔اسٹیفن کونسٹنٹائن کے دوسری بار فروری 2015 میں قومی کوچ کا عہدہ سنبھالنے کے وقت ہندستان 171 ویں نمبر پر تھا لیکن مارچ 2015 میں اس کی درجہ بندی میں اور زوال آیا اور وہ 173 ویں مقام پر کھسک گیا۔لیکن اس کے بعد ہندستان نے مسلسل اونچائی کی طرف قدم بڑھایا ہے آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن (اے آئی ایف ایف) کے صدر پرفل پٹیل نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندستانی ٹیم پر یقین رکھنے کا یہ نتیجہ ہے ۔دو سال پہلے ہم 173 ویں نمبر پر تھے لیکن اب ہم اپنی دوسری بہترین رینکنگ پر پہنچ گئے ہیں۔ہم اس کے لیے ہندستانی فٹبال کھلاڑیوں اور کوچ اور عملے کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔اے آئی ایف ایف کے سیکرٹری جنرل کوشل داس نے کہا کہ ستمبر میں مکا¶ کے خلاف کوالیفائنگ میچ سے پہلے یہ ہمارے لئے حوصلہ بڑھانے والی بات ہے ۔ہماری ٹیم کو اس کے لیے مبارک ہو۔اے ایف سی کپ کے لئے کوالیفائی کرنا ہی ہماری بڑی ترجیح ہے ۔ہندستانی فٹ بال کو نئی بلندیوں پر لے جانے والے کوچ کونسٹننٹائن نے کہا کہ جب میں نے ٹیم کا کوچ عہدہ سنبھالا تھا تب ہمارا مقصد رینکنگ میں 100 کے نیچے جانا تھا اور ہم اپنے اس سطح تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔میں اپنے کھلاڑیوں اور اے آئی ایف ایف کے ارکان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے مدد کی۔انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ موجودہ فیفا رینکنگ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم نے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے ۔اے ایف سی ایشیائی کپ 2019 کا کوالیفکیشن اب ٹیم کے لیے سب سے اہم ہے اور یہی ترجیح ہے ۔ہندستان آٹھ برسوں میں دوسری بار اے ایف سی کپ میں حصہ لینے اتریگا۔آخری بار دوحہ 2011 میں ہندوستان نے ایشین کپ میں حصہ لیا تھا۔یو این آئی۔