۔2021کی منصوبہ بندی کیسے ہو؟

سکنڈوں سے منٹ، منٹوں سے گھنٹہ، گھنٹوں سے دن،دنوں سے مہینہ اور مہینوں سے سال۔ وقت کی یہ ایک تسلسل بھری کہانی ہے۔ تسلسل فطرت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ تسلسل سے فطرت سبق سیکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ان اسباق میں سے ایک سبق یہ بھی ہے کہ انسان بعض اوقات اپنے آپ کو ٹھیک محسوس نہیں سمجھتا ہے۔ وہ اپنی زندگی سے اچھا نہیںکر پاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو تھکا ہارا محسوس کر تا ہے۔وقت کا تسلسل اُسے یہ احساس فراہم کرتا ہے کہ میں ایک اور رنگ و رُوپ میں آپ کے سامنے آیا۔ آپ مجھ سے اب کی بار نئے جذبے اور نئی امنگوں کے ساتھ وفا کر سکتے ہیں۔ میرا بہتر استعمال کر سکتے ہیں اور مجھ سے وہ کچھ حاصل کرسکتے ہیں، جو آپ کو میرے پرانے دورمیں حاصل کرنے سے رہ گیا تھا۔ آج کا دن اگر کسی انسان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا، کل یہی دن پھر ایک نئے انداز میں قدم رنجہ ہوتا ہے اور یہ صدائیں دیتا ہے کہ ہے کوئی میری قدر کرنے والا، میں پھر سے اُس کے لیے اچھا ثابت ہو نے کے لیے تیار ہوں۔
2021ء کی شکل میں ایک اور سال ہم پر سا یہ فگن ہو چکا ہے ، جس کا یک مہینہ بھی گذر چکا ہے ۔2020 ء نے ہمیں کون سی اذیتیں دیں یا کون سی اچھی یادیں مہیا کرائیں، اس پر کچھ کلام کیے بغیر 2021 ء کے بارے میں کچھ سوچ و چار کریں گے ۔ ویسے یہ ہم پر منحصر کرتا ہے کہ ہم کس طرح قانونِ فطرت کی طرف سے عطا کردہ اس نئے سال کو اپنے لیے اچھا بنا سکیں۔ اس سال کو اپنے لیے نفع بخش بنانے میں ایک منصوبے کی ضرورت ہے۔ ہمیں جن چیزوں کو حاصل کرنا ہے یا جن اہداف کو پار کرنا ہے اُن کی فہرست بنانی ہے۔ اُس کے بعد ترجیحی بنیادوں پر نمبر وار ہر ایک ہدف پر سوچ وچار کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ مادی وسائل کو بھی مد ِ نظر رکھنا ہے۔مخلصی اور جذبے کے ساتھ اپنے منصوبے کو عملانا ہے۔ 
جس طرح ایک انسان اپنی زندگی کو سنوارنے میں کچھ منصوبے بناتا ہے، اُسی طرح قوموں کو بھی بحیثیت مجموعی منصوبوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ جو اقوام بِناکسی منصوبے کے چلتی ہیں، اُن کی مثال بے لگام گھوڑوں کی سی ہے، جو چلتے پھرتے تو ہیں، لیکن کسی متعین راہ پر نہیں۔ کشمیری قوم کو بھی اس نئے سال کا بہتر ین استعمال کرنا ہو گا ۔ جو غلطیاں ابھی تک ہم کر تے آرہے ہیں، اُن سے کنارہ کشی اختیار کی جائے۔ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے کا لائحہ عمل مرتب کر نا ہو گا ۔ کشمیر کی قوم ایک مختلف قوم ہے۔ یہاں کے مسائل مختلف ہیں، یہاں کے لوگ باقی اقوم کے لوگوں سے مماثلت نہیںرکھتے ، اِن کی تعلیم الگ، سماج الگ، سیاست الگ، معیشت الگ۔ یہ سب شعبہ جات مسائلوں سے بھرے پڑے ہیں۔ یہاں کرنے کو کیا کچھ نہیں ہے۔ جدھر نظر اٹھا کر دیکھیں، وہاں پر مسائل ہی مسائل نظر آرہے ہیں۔ یہاں کے صاحبِ دل حضرات تک مایوس ہو چکے ہیں کہ کریں تو کیا کریں؟ کون سا عضو صحیح کریں؟ کس کس کی فکر کریں؟ لیکن اِن حالات میں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آس پاس کے حالات و واقعات کی شناسائی حاصل کر کے منصوبہ بنانے کی ضروت ہے۔ ایک ساتھ ہر ایک شعبے میں اصلاحات نہیں لائی جا سکتیں۔ یہ وقت ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر ایک کے بعد دوسرے شعبے کو چن لیں اور ان شعبوں میں پائی جاہی خامیوں کو دور کیا جائے۔ پہلے اُن شعبہ جات کی طرف نظرمرکوزکرنے کی ضروت ہے جن کے اندرفی الفور اصلاحات لانی ناگزیر ہیں۔ جن کے اوپر کشمیری قوم کا تانا بانا کھڑا ہے ، جن کی وجہ سے قومیں پُر آشوب حالات میں بھی زندہ رہ سکتی ہیں۔ ان شعبہ جات میں سب سے پہلے تعلیم و تربیت کا شعبہ آتا ہے۔ 
کچھ ہماری ناکارہ کاکردگی اور کچھ انتظامی بد حالی کی وجہ ہے کہ کشمیر کا سب سے زیادہ مفلوج شعبہ تعلیم کا شعبہ دکھائی دیتا ہے۔ حالاںکہ امر واقع یہ ہے کہ اس شعبے کے ساتھ کسی بھی قسم کا دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس شعبے کے ساتھ عمداً قصداً سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ اصل بات اگر کی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہمارے بچے اگست2019ء سے تاایںدم سکو لوں سے منقطع کر دئے گئے ہیں۔ سکول نام کی چیز ہی ان کے ذہنوں سے مٹا دی گئی ہے۔ مارچ2020 ء کے مہینے میں جوں ہی کورونا وائرس کی مہا ماری پیدا ہوگئی ، تو باقی شعبہ جات کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبے کو بھی بند کرنا پڑا۔ باقی شعبہ جات میں تو کئی سارے متبادل انتظامات کر دئے گئے، لیکن بچوں کی تعلیم کو لے کر کوئی بھی سنجیدہ دکھائی نہ دیا۔ آن لائن درس و تدریس کا تو خاصا چرچا ہوا، لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ کچھوے کی چال چلتے انٹرنیٹ کی وجہ سے یہاں کا آن لائن نظام بے کار دکھائی دے رہا ہے۔ علاوہ اَزین کمیونٹی کلاسز کا بھی بڑے پیمانے پر شور و غل ہوا، لیکن زمینی سطح پر کچھ نمایاں دکھائی نہ دیا۔ نہ ہونے کے برابر تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکار نے یہ فیصلہ لیا کہ بچوں کا امتحان باضابطہ طور پر لیا جائے گا۔ لیکن یہ امتحان گاہیں امتحان گاہیںکم اور نقل کرنے کی مشینوں کا کارخانہ زیادہ دکھائی دیں۔ ہمارے یہی بچے آگے جا کر قوم کے معمار کہلائے جائیں گے۔ اس صورتحال پر گو کہ کوئی کلام نہیںکرتا ، لیکن یہ اپنے ہی پائوں پر کلہاڑا مارنے کے مترادف ہے ۔ ایک طرف سے ہمارے سامنے نمایاں طور پر غلط ہو رہا ہے اور وہ بھی ہمارے قومی مستقبل کے ساتھ ، وہیں دوسری طرف ہم شتر مرغ کی چال اختیار کرتے ہوئے ایسے ریت کے ٹیلے کی آڑ لیکر سر چھپائے بیٹھے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ نہ ہی اساتذہ بات کر رہے ہیں، نہ ہی والدین اور نہ پالیسی ساز حضرات کو اس سے کوئی سروکار دکھائی دے رہاہے۔ کورونا وائرس کی مہا ماری سماج کے دیگر شعبہ جات کو اثر نہیں کرتی جارہی ہے، بنک کھلے ہیں، بازاروں میں بھیڑ ہے، سرکاری دفاتر میں اچھے سے کام ہو رہا ہے، بس یہ ہمارا تعلیمی شعبہ ہی ہے جہاں پر کورونا وائرس کے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ وائے حسرتاً!
تعلیم و تربیت کا شعبہ زندہ قوموں کے اندر سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگر انسانوں کی ساری آبادیاں ملیا میٹ کر دی جائیں اور باقی صرف ایک ایسا شخص رہ جائے، جس کی تعلیم و تربیت صحیح نہج پر کی جاچکی ہو، ایسی قوم کا پھر سے اٹھنا کوئی انہونی سی بات نہیںہے۔اس کے برعکس اگر انسانوں کا جم غفیر بھی موجود ہو، لیکن ہوں وہ تعلیم و تربیت سے پرے، تو ایسی قوم کا ہونا یا نہ ہونا ایک ہی بات ہوتی ہے۔ شورش سے بھرے حالات نے ہمارے جن شعبہ جات کوسب سے زیادہ متاثر کیا ہوا ہے اُن میں تعلیم و تربیت کا شعبہ اول نمبر پر آتا ہے۔ کشمیری قوم نے اس شعبے کے ساتھ اول روز سے ہی غفلت برتی ہے۔ یہ اسی کی وجہ ہے کہ ہمارے درمیان کوئی متاثر کن لیڈر اُبھر کر سامنے نہیں آتا ہے۔ یہ اسی کی وجہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل شراب و نشے کی لت میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ یہ اسی کی وجہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہوئے کچھ کہنے سے ڈر رہے ہیں۔ یہ اسی کی وجہ ہے کہ ہمیں اپنے ہی بچے سر پھرے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ اسی کی وجہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم کوئی اچھا کام نہیں کر پارہے ہیں۔ تعلیم و تربیت اصل میں ایک راہ متعین کرنے کا نام ہے، ایک شمع روشن کرنے کا کا نام ہے۔ ابھی تک اگر ہم نے اس اہم شعبے کے ساتھ مفاہمت کی ہوئی ہے ، لیکن ا ب2121ء کی صورت میںہمیں ایک اور موقع فراہم ہوچکا ہے کہ ہم رسمی و غیر رسمی ذرائع کا باضابطہ استعمال کرکے اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرائیں ۔ اس کے لیے اگر ہمیں خود ہی استاد بننا پڑے تو یہ ہماری اولین ذمہ داری ہونی چاہیے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑوں کی تربیت کے لیے ایسے ہی پروگرامات تشکیل دیے جائیں۔ علماء کرام اس حوالے سے اپنی ذمہ واریاں نبھائیں ۔ پالیسی ساز بھی اس حوالے سے سوچ و چار کرلیں۔ زمینی سطح پر کام کررہے اہلکار بھی اس حوالے سے بیدار ہو جائیں۔  
کشمیری قوم کی شناخت کو مٹانے کے لیے تعلیم و تربیت کے شعبے کو خاص ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ یہ جو صورتحال ہم نے اوپر بیان کی ہے ، اِسے ایک پروگرام کے تحت عملایا جانا بعید اَز قیاس نہیں ہے ۔ ہمارے اندر مساجد کا ایک ہمہ گیر نظام ہے ۔ ان مساجد میں تعلیم و تربیت کے بے پناہ پروگرامات انعقاد ہوا کرتے تھے۔ ان مساجد سے حق کی صدائیں بلند ہوتی تھیں۔ لوگوں کی صحیح نہج پر تربیت کی جاتی تھی۔ وقت کے حکمرانوں کی توجہ عوامی مسائل کی طرف پھیر دی جاتی ۔ لیکن ان مساجد کے محراب و منبر بھی اب کوئی اور ہی بولی بولتے ہیں۔ جمعہ خطبات کی روح ہی ختم ہو چکی ہے۔ تعلیم و تزکیہ کے پروگرامات کا کہیںنام و نشان ہی نہیں ہے۔ حالات کا دھارا اتنا تیز ہماری سوچ و فکر پر حملہ کر رہا ہے کہ ہم اپنے گھر کے اندر تک کوئی بھلی بات کہنے سے شرم و عار محسوس کر رہے ہیں۔ گھروں کے اندر تک کا نظام ِ تربیت مفلوج ہو چکا ہے۔  کشمیر ی قوم کو یہ بات سوچنی چاہیے کہ اگر یہی صورتحال کچھ اور برس جاری رہی تو ہماری شناخت کا کباڑہ تک کہیں ملنے کی توقع نہیں ہے۔ 
2021 ء کے لیے کشمیریوں کے لیے سب سے زیادہ دھیان صحت عامہ(Public Health) پر بھی ہونا چاہیے۔ شورش اور ناسازگار حالات کی وجہ سے نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کی بگڑتی صورتحال عیاں ہے۔ اس پس منظر میں یہ بات ذہن نشین کر لینے کی ضروت ہے کہ ایک صحت مند دماغ صحت مند جسم کے اندر ہی پَل سکتا ہے۔ وہیں صحت مند دماغ صحت مند حالات ہی کا مرہونِ منت ہوگا۔ کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے بھی ذہنی بیماریوں نے بھیانک صورتحال اختیار کی ہوئی ہے۔ ادھر سے کشمیری قوم کی سب سے بڑی خامی یہ دکھائی دے رہی ہے کہ یہ ہر کسی کام میں جلد باز ہیں ۔ ہر ایک مسئلے کا شارٹ کٹ نکالنا چاہتی ہے ۔ صبر نام کی چیز کہیں دکھائی ہی نہیں دے رہی ہے۔ بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان طرح طرح کی سماجی برائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، جن میں منشیات کا استعمال بڑے پیمانے پر ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال بھی اس حوالے سے ایک اہم سبب کے طور پر مانا جاتا ہے۔ جفا کشی و محنت کشی کی عادت ہی چھوٹ گئی ہے۔ آرام طلبی کی عادت نے پوری قوم کو لاگر بنا دیا ہے ۔ سمجھنے والی بات ہے کہ اگر انسانی وسائل کی صحت ہی جاتی رہے تو قوم کا مستقبل کیا ہوگا؟ یہ ایک ایسی عمارت کی مانند ہوگی جو کہ بظاہر کھڑی تو ہے لیکن اس کی دیواروں میں لگی اینٹیں بوسیدہ اور خستہ حال ہو چکی ہیں۔ کبھی بھی یہ عمارت گر کر ملیا میٹ ہو سکتی ہے ۔ اِن حالات میں کشمیری قوم کو بحیثیت مجموعی اس بات پر غور و خوض کرنا چاہیے کہ کیسے وہ اپنے انسانی وسائل کی حفاظت کر سکیں۔ ادھر سے یہاں کا شعبہ طب بھی انتہائی خستہ حال ہے۔ وقت پر نہ مشورے مل جاتے ہیں اور نہ ہی متعلقہ اہلکاروںکے پاس بیمار انسانوں کی بیماریوںکا مداوا ہے۔ سرکاری اسپتالوں کی حال بے حال کہانیاں آئے روز سامنے آتی ہیں۔ اگر کسی کے سامنے نہ آتی ہوں تو وہ سرکاری اسپتالوں کا خود سے دورہ کر کے معائنہ کر ے ۔ اس لیے پوری کشمیری قوم کو 2021ء اپنے صحت عامہ(Public Health) کی خاطر خواہ دیکھ بھال کرنے میں وقف کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے نجی سطح سے لے کر پالیسی ساز ایوانوں کے نمائندگان تک جتنے بھی لوگ کوششیں کر سکتے ہیں، براہ مہربانی کریں۔ ہر ایک کشمیری کو اپنے صحت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی خبر گیری کرنی بھی لازمی کرنی چاہیے۔
راقم کشمیری قوم کے لیے یہی دو منصوبے اپنانے کا مشورہ دینا چاہے گا ۔ موجودہ حالات میں اگر کچھ بھی نہ کرنے کی سکت ہو ،تب بھی اپنی تعلیم و تربیت اور صحت عامہ کے نظام پر خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس سال اگر ہم ان دو شعبہ جات میںکچھ بہتری لا سکیں گے ،تو امید کی جا سکتی ہے کہ کشمیری قوم نے2021ء سے بہت کچھ حاصل کر لیا ۔ 
(مضمون نگار جامعہ کشمیر میں شعبہ سوشل ورک کے محقق ہیں)
ای میل۔[email protected]